بریکنگ نیوز
Home / کالم / جس کا کام اسی کا ساجھے

جس کا کام اسی کا ساجھے


جس کا کام اسی کو ساجھے ہر کام کیلئے کچھ خاص ذہن مخصوص ہوتے ہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازم ہوں یاجج یا پھر جرنیل اگر ان میں سے کسی نے بھی اپنی نوکری کی معیاد پوری کرنے کے بعد اس ملک کی سیاست کا رخ کیا تو منہ کی کھائی ‘ مقدر نے اس کا ساتھ نہیں دیا 60 یا65 برس کی عمر تک کسی خاص شعبہ زندگی سے وابستہ رہنے کے بعد جب کوئی انسان ریٹائرمنٹ پر جاتا ہے تو وہ جسمانی طور پر آدھا انسان رہ گیا ہوتا ہے اس کے حواس خمسہ سو فیصد کام نہیں کر رہے ہوتے اور نہ ہی اس کے پاس وافر انرجی ہوتی ہے اور نہ اتنا وقت کہ وہ سیاست کے میدان کا ر زار میں دس بیس سال لگا کر اس کی ابجد سے واقف ہو سیاست میں آنے سے پہلے اس کے رموز کو سمجھے‘ اس کی اونچ نیچ سے باخبر ہونے اور اس کے پیچ و خم سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے بھی تو اک عمر درکار ہوتی ہے نہ جانے بعض لوگوں کو پچھلی عمر میں کیوں سیاست میں آنے کا خبط ہو جاتا ہے او ر وہ اپنے آخری ایام سکون اور چین میں گزارنے کے بجائے سیاسی میدان میں کود کر کوئلے کی دلالی میں اپنا منہ کالا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا اصغر خان سیاست میں سرخرو ہوئے؟ کیا افتخار احمد چوہدری کوئی گل کھلا سکے؟ کیا جنرل اسلم بیگ کو کوئی کامیابی نصیب ہوئی جو اب جنرل مشرف نے 23 جماعتی پاکستان عوامی اتحاد کی داغ بیل ڈال دی ہے ؟

بادی النظر میں تو جو اتحاد مشرف نے تشکیل دیا ہے وہ چوں چوں کا مرتبہ نظر آ رہا ہے اس اتحاد میں ہمیں تو کوئی ایسی سیاسی پارٹی دکھائی نہیں دے رہی کہ جو الیکشن میں کوئی تہلکہ مچا سکے یہ پارٹیاں ایک دوسرے کی بیساکھیاں تو بن گئی ہیں لیکن ان بیساکھیوں میں جو لکڑی استعمال ہوتی نظر آ رہی ہے وہ کافی کمزور ہے بقول کسے ان پارٹیوں کے اکثر رہنما چلے ہوئے کارتوس ہیں جو الیکشن میں نہیں چل سکیں گے ‘جنرل مشرف نے جب1999ء میں نواز حکومت کو چلتا کیا تو کئی لوگوں نے آپس میں مٹھائیاں اس لئے بانٹی تھیں کہ شاید ڈنڈے کے زور پر وہ اس ملک اور اس کے عوام کی بہتری کیلئے وہ بنیادی کا م کر جائیں جو ایوب خان ‘ یحییٰ خان اور ضیاء الحق نہ کر سکے تھے ‘یہ مشرف ہی تو تھے کہ جنہوں نے ان لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا کہ جن پر قومی خزانہ لوٹنے کا الزام تھا مشرف نے ان سے کہا’’ من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو‘‘ میں این آر او کے ذریعے تمہارے سب اگلے پچھلے گناہ صاف کرتا ہوں بس اس مہربانی کے بدلے تم مجھے صدر کے منصب پر قبول کر و چنانچہ اس خصوصی مہربانی کی وجہ سے سینکڑوں نادہنگان معاف کر دیئے گئے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا نہ بے نظیر اس این آر او سے مستفید ہو سکیں اور نہ مشرف۔ہماری دانست میں اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ باشعور قوم‘ بشرطیکہ اس نے شعور کا مظاہرہ کیا ‘ اس شخص کو دوبارہ قبول کرے کہ جس نے قومی خزانے کے نادہنگان کو صرف اپنے اقتدار میں رہنے کیلئے معافیاں دیں اور اس ملک کے انتظامی سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کرنے سے گریز کیا حالانکہ اس کے پاس ڈنڈے کا زور موجود تھا۔