بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی سی آئی کے اجلاس کا ایجنڈا؟

سی سی آئی کے اجلاس کا ایجنڈا؟


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے 33 ویں اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق قانون سازی پر اتفاق ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے مردم شماری سے متعلق سندھ کا ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ پیپلز پارٹی کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کئے ہیں۔ اجلاس میں شریک تمام وزراء اعلیٰ نے عام انتخابات بروقت کرانے کا عزم بھی کیا۔ اجلاس کی کاروائی سے متعلق رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے لئے جلد قانون سازی پر بھی اتفاق ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق اجلاس میں غیر ملکیوں کا ڈیٹا جاری کرنے کا خیبرپختونخوا اور پنجاب کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کا اس حوالے سے موقف ہے کہ غیر ملکیوں کی درست تعداد مردم شماری کے نتائج سے قبل نہیں بتائی جاسکتی۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی نے نئی حلقہ بندیوں پر حکومتی بل کی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معاملہ سی سی آئی میں لے جاکر ہمارا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔ وفاقی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجائے وزیر داخلہ احسن اقبال کو وفاق کا نمائندہ مقرر کردیا ہے۔

سیاسی قیادت کی گول میز کانفرنس ہو یا اسے اے پی سی کا نام دیا جائے۔ مشترکہ مفادات کونسل ہو یا قومی مالیاتی کمیشن جیسا پلیٹ فارم جب بھی ڈائیلاگ شروع ہوتا ہے تو اس کے کوئی نہ کوئی مثبت نتائج سامنے آہی جاتے ہیں۔ یہ مثبت نتائج سامنے لانے کے لئے اجلاسوں کا انعقاد تسلسل سے نہیں ہوتا اور اگر کوئی اہم فیصلے کر لئے جائیں تو ان پر عملدرآمد میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ وہ فیصلے اپنے نتائج کے اعتبار سے بے ثمر ہوکر رہ جاتے ہیں۔ سی سی آئی میں متعدد اہم امور مزید بھی طے پاسکتے تھے اگر انہیں بروقت ایجنڈے پر ڈال دیا جاتا اسی طرح این ایف سی کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر ہورہی ہے جس کے لئے خیبرپختونخوا کے ساتھ دوسرے صوبے بھی مسلسل مطالبات کررہے ہیں اس اجلاس میں صوبوں کے حصوں کے ساتھ قبائلی علاقوں کے لئے شیئر کا فیصلہ بھی ہونا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ این ایف سی اور سی سی آئی میں طے کئے جانے والے امور پر وفاق اور صوبوں کے متعلقہ ادارے جلد از جلد اپنا ہوم ورک مکمل کرکے اجلاسوں کا جلد انعقاد یقینی بنا دیں اس سب کے ساتھ ضرورت اہم پلیٹ فارمز پر ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے میکنزم وضع کرنے کی بھی ہے تاکہ اہم انتظامی امور بہتر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

پشاور صفائی مہم

صوبائی دارالحکومت میں سات روزہ صفائی مہم کا آغاز بعد از خرابی بسیار سہی اطمینان بخش قرار دیا جاسکتا ہے تاہم اس کے دائرے میں وسعت کی ضرورت موجود ہے۔ صفائی مہم میں عموماً کوڑے کرکٹ کے ڈھیر اٹھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے جبکہ اصل ضرورت سیوریج لائنوں کو کلیئر کرنے کی ہے ان میں موجود شاپنگ بیگ اور تعمیراتی میٹریل سب سے بڑا مسئلہ ہے ان لائنوں کے بلاک ہونے پر اکثر پانی سڑکوں پر آجاتا ہے۔ صفائی مہم کو دیرپا اثرات کا حامل بنانے کے لئے ضرورت پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی موثربنانے کے لئے اقدامات کی بھی ہے اس سب کے ساتھ پینے کے پانی کے زنگ آلود پائپ سیوریج لائنوں سے نکالنے اور تبدیل کرنے کی ہے بصورت دیگر چند مقامات سے گندگی کے ڈھیر ہٹانے تک محدود مہم حسب سابق نتائج سے محروم ہی رہے گی۔