بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاورمیں واقع رکاوٹوں کو مرحلہ وار ہٹانے کے احکامات

پشاورمیں واقع رکاوٹوں کو مرحلہ وار ہٹانے کے احکامات


پشاور۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور میں واقع تمام رکاوٹوں کو مرحلہ وار ہٹانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر کو ترجمان مقرر کر دیاجبکہ وزیر باغ کی ابتر حالت پر ضلع ناظم اور ٹاؤن ناظمین کو ٹی ایم او سمیت 5دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کر دئیے‘ جسٹس قیصر رشید نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے پشاور کے شہری سہولت کی بجائے اذیت میں مبتلا ہیں ۔

‘ متعلقہ ادارے شہریوں کو سہولیات دیں نہ کہ انہیں اذیت‘ فاضل بنچ نے یہ احکامات گزشتہ روز سینئر ایڈوکیٹ خورشید احمد خان کی رٹ کی سماعت کے دوران دئیے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پشاور میں غیر قانونی رکاوٹوں سے سکول کے بچوں ‘ عام شہریوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا ان کو ختم کیا جائے اور تمام سڑکیں کھول دی جائیں‘۔

دوران سماعت کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر عادل رفیق صدیقی ‘ احسان اللہ ‘ مصباح الدین ‘ ایف ایم صابر ایڈوکیٹ اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندر شاہ بھی پیش ہوئے ‘ جسٹس قیصر رشید نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ ان رکاوٹوں سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے‘ لہٰذا چونکہ اب حالات معمول پر آرہے ہیں اور پشاوریوں نے گزشتہ 30سال سے بے تحاشا جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اس لئے انہیں مزید مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے ‘ دوران سماعت کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ بیریئر ہٹانا ان کے اختیار میں نہیں تاہم وہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو کو آگاہ کر دینگے ‘ جس پر عدالت نے انہیں عدالت کی کہ وہ عدالتی حکم پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں اور انہیں عدالتی تشویش سے بھی آگاہ کیا جائے‘ ۔

اسی دوران فاضل بنچ نے حکم دیا کہ کینٹ اور دیگر علاقوں سے تمام رکاوٹوں کو مرحلہ وار ہٹایا جائے کیونکہ اس شہر کے شہری گزشتہ 30سالوں سے قربانیاں دیتے آرہے ہیں چونکہ اب حالات معمول پر آگئے ہیں اور ہم امن وامان کی صورتحال میں بہتری نوٹ کر رہے ہیں لہٰذا ابتدائی طور پر ان جگہوں سے یہ رکاوٹیں ہٹائی جائیں جہاں پر ان کی ضرورت کم ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر عدالت میں یہ بھی رپورٹ جمع کرائے گا کہ انہوں نے مرحلہ وار کتنا کام کیا ہے کیونکہ پشاور کی تاریخی حیثیت کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں۔

جہاں پر لوگ اس شہر میں آسکیں ‘ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ بھی وفاق کی سطح پر اس مسئلے کو اٹھائیں جبکہ ایس ایس پی ٹریفک اور ایس پی سکیورٹی کو حکم دیاگیا کہ وہ اس حوالے سے اپنی کارروائی تیز کریں اور شہریوں کی مشکلات میں کمی کریں ‘ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی قرار دیا کہ وزیر باغ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے جس پر قبضہ مافیا کا راج ہے حالانکہ یہ ایک تاریخی ورثہ ہے لہٰذا ضلع ناظم اور متعلقہ حکام اگلی پیشی پر پیش ہوں تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے ۔