بریکنگ نیوز
Home / کالم / کشمیرکہانی روندھتی رائے کی زبانی

کشمیرکہانی روندھتی رائے کی زبانی


میں تذکرہ کر رہا تھا مین بکرپرائز کے حوالے سے اروندھتی رائے کاجس نے اپنے پہلے ناول ’’گاڈآف سمال تھنگز‘‘ پر یہ پرائز حاصل کرکے دنیا کو حیران کر دیا…بیس برس بعد ان دنوں اس کا نیا ناول’’ دی منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس‘‘ شائع ہوا ہے اور اس نے مجھے حیران کر دیا ہے… برسوں پہلے جب اسے بکر پرائز سے نوازا گیاتو وہ پاکستان آئی‘ لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اس کا لیکچر سننے کیلئے پہنچا اور خیال تھا کہ اس سے مختصر ہی سہی کچھ ملاقات ہوگی‘ کچھ سوال جواب ہونگے لیکن وہاں تو ہال ایسے لوگوں سے بھرا پڑا تھا جنہیں ادب سے کچھ غرض نہ تھی وہ صرف ایک بین الاقوامی طور پر شہرت یافتہ خاتون کا دیدار کرنے آئے تھے ‘ لیکچر کا اختتام ہوا تو وہ لاہور کے اگرچہ بہت متمول اور فیشن ایبل کراؤڈ کے گھیرے میں آگئی اور یقیناًان میں صرف دوچار لوگ ہونگے جنہوں نے اسکا ناول پڑھ رکھا تھا بقیہ کیلئے وہ ایک ’سلیبرٹی‘ تھی… میں اسکے قریب نہ ہو سکا…اپنی چاہت کا اظہار نہ کر سکا… ہر برس جب مین بکر پرائز کی لونگ لسٹ جاری کی جاتی ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اس میں شامل ناولوں کو پڑھ کر اپنے طور پر اندازہ لگاؤں کہ اس برس ادب کا یہ ہما کس کے سرپر بیٹھے گا… میں نے اس برس بھی اس لونگ لسٹ میں شامل بیشتر ناول پڑھے اور میں ان میں سے صرف تین ناولوں کا تذکرہ کرونگا… مجھے محسن حمید کا پہلا ناول’’ ماتھ سموک‘‘ بہت بچگانہ لگا تھا…اسکا دوسرا ناول ’’ریلکٹنٹ فنڈ مینڈلسٹ‘‘ اچھا لگا اور یہ ناول اسلئے بھی مشہور ہوا کہ اس پر مبنی ایک فلم منظر عام پر آگئی یعنی میں محسن حمید کو کوئی قابل ذکر ناولسٹ نہ گردانتا تھا اور پھر بکرپرائز کی لونگ لسٹ میں شامل میں نے اسکا ناول’’ایگزٹ ویسٹ‘‘ یعنی مغرب کی جانب اخراج پڑھا تواسکا گرویدہ ہوگیا…قائل ہوگیا کہ یہ ایک ایسا ناول ہے جو میرے پسندیدہ ناولوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے’۔

’ ایگزٹ ویسٹ‘‘ ایک ایسے پاکستانی مرد اور عورت کی کہانی ہے جو فرار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ان پر ایسے طلسمی دروازے کھلتے جاتے ہیں جنکے پار وہ جاتے ہیں تو کبھی یونان میں پناہ گزین ہوتے ہیں اور کبھی لندن پہنچ کر ایک ایسی عمارت میں جاگزیں ہو جاتے ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ ایک بہتر مستقبل کی خاطر منتقل ہوچکے ہوتے ہیں‘ میں نے دیگر ناولوں کے پڑھے بغیر اپنے تئیں محسن حمید کو بکر پرائز کا حقدار ٹھہرادیا… دوسرا ناول امریکی ادیب جارج سانڈرز کا’’لنکن ان دے بارڈو‘‘یہ امریکی صدرلنکن کے گیارہ برس کے بیٹے وِلی کی موت کی کہانی ہے جو سینکڑوں اخباری رپورٹوں اور عینی شاہدوں کے بیانات کے حوالے سے ایک ناول کی صورت بیان کی گئی ہے… کہا جاتا ہے کہ جس شب وہ مر رہا تھا اس رات لنکن اور اسکی اہلیہ صدارتی محل میں ایک شاندار اور پرتکلف پارٹی کا اہتمام کر رہے تھے اور بالائی منزل پر انکا بیٹا عالم نزع میں تھا’’ وِلی پانچ تاریخ کی رات کو بخار سے پھنک رہا تھا جبکہ اسکی ماں پارٹی میں شامل ہونے کیلئے ایک زرق برق لباس کا چناؤ کر رہی تھی‘ اسکا ہرسانس مشکل سے کھینچا جاتا تھا… وہ دیکھ سکتی تھی کہ اسکے پھیپھڑے ناکارہ ہو رہے ہیں‘ وِلی لنکن گیارہ برس کی عمر میں ایک کمرے میں تنہا مر گیا جبکہ اس کے ماں باپ ایک جگمگاتے ہال میں مہمانوں کیساتھ پارٹی کر رہے تھے‘ وِلی لنکن کو جب ایک قبرستان میں دفنایا گیا… بلکہ اسکا تابوت ایک کوٹھڑی میں محفوظ کیا گیا تو لنکن ہرشب وہاں جاتا اور اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ کر لڑکھڑاتا ہوا واپس آجاتا…

اگرچہ یہ ایک انوکھے پیرائے میں لکھا گیا ناول تھا لیکن… اس میں تخلیقی عنصر کم تھا اور حوالے زیادہ تھے اور اسکے بعد میں نہ اروندھتی رائے کا ناول’’ دی منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس‘‘ پڑھنا شروع کیا اور مجھے اس سے زیادہ توقع اسلئے نہ تھی کہ میں نے اس ناول کے جتنے بھی ریویو پڑھے اور ان میں نیو یارک ٹائمز کے بک سیکشن کا ریویو بھی شامل تھا سب کے سب اگرچہ اروندھتی رائے کی نثر اور بیان کے معترف تو ہوتے تھے پر انہوں نے اسکی توصیف نہ کی اسے اس کے پہلے ناول سے کمتر قرار دیا… زیادہ پسند نہ کیا اور جب میں نے ذاتی طور پر اس ناول کو شروع کیا تب جان گیا کہ آخر اتنے عظیم ناول کو بین الاقوامی طورپر کیوں مطعون کیا جارہا ہے…یہ مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم و ستم کے بارے میں ہے‘ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی ایک دل خراش اور خونی داستان ہے یہ وہ ناول ہے جسے ایک ہندوستانی کو نہیں ایک پاکستانی کو لکھنا چاہئے تھا‘ لیکن ہم صرف احتجاج کرنے کیلئے‘ ریلیاں نکالنے اور اپنے ہی ملک کو آگ لگانے کیلئے پیدا ہوئے ہیں‘ ہم دن رات روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے سینہ کوبی کرتے ہیں لیکن انکی مدد کو نہیں پہنچتے… ہم صرف آہ وزاری کرسکتے ہیں ایک ناول نہیں لکھ سکتے‘ کہ اس میں ہے محنت اور لگن زیادہ… اروندھتی رائے کا ناول کشمیر کی جدوجہد آزادی کی ایک دل گداز اور دل کو خون کرنیوالی ایک کہانی ہے… ہم جو کہانی نہ کہہ سکے وہ ایک ہندوستانی عورت نے کہہ دی ہے گویا اس نے آج تک جتنے بھی کشمیری آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے شہید ہوئے ہیں کم از کم ساٹھ ہزار اور جتنے بھی مقبوضہ فوج نے غائب کرکے مار ڈالے ہیں تقریباً دس ہزار ان سب کو تاریخ کے صفحوں میں محفوظ کردیا ہے‘ میں کہاں تک اس ناول کے اقتباس پیش کروں کہ ہر صفحہ اس لائق ہے کہ اسے نقل کرکے نہ صرف پاکستانی ادیبوں بلکہ ٹیلی ویژن پر چیختے چلاتے‘ ۔

جن کے منہ سے غضب اور مذہبی طیش کی جھاگ نکلتی ہے ان کو شرمندہ کروں… اور یہاں میں محب الوطنی کے جذبے سے بغاوت اختیار کرکے یہ عرض کرناچاہتا ہوں کہ بے شک ہندوستان میں ان دنوں مودی کی گائے راج کرتی ہے… یہاں تک کہ بقول رائے‘ چمہار بھی مردہ گائے کا چمڑا اتارتے پکڑے جائیں تو ان کی چمڑی اتار دی جاتی ہے لیکن اسکے باوجود وہاں ایک ایسی اقلیت موجود ہے جو مذہب سے ماورا ہو کر حق سچ کی آواز بلند کرتی ہے…اور یہ ہمارے ہاں نہیں ہے اگر کچھ لوگ واہگہ کی سرحد پر جا کر امن کی آشا کے کچھ چراغ روشن کرتے ہیں تو وہ معتوب حرم ہو جاتے ہیں‘ ہندوستان میں جہاں پاکستان کے خلاف نہایت غلیظ اور متعصب فلمیں بنائی جاتی ہیں وہاں’’ حیدر‘‘ ایسی فلم بھی پروڈیوس کی جاتی ہے جس میں ہندوستانی فوج کے کشمیر میں مظالم کی داستان بھی پیش کی جاتی ہے… اس فوج کی بربریت کے قصے سکرین پر دکھائے جاتے ہیں… کیا ہم بنگلہ دیش اور آج کے بلوچستان کے بارے میں یوں زبان درازی کرسکتے ہیں… میں ذاتی طور پر اروندھتی رائے کا احسان مند ہوں کہ اس نے کشمیر کے بارے میں ایسا لازوال لکھ کر ہم سب کو شرمندہ کر دیا… بے شک انہی دنوں مین بکرپرائز کا اعلان ہوگیا ہے اور یہ امریکی جارج سنیڈرز کے ناول ’’لنکن ان دی براڈو‘‘ کو مل گیا ہے… اسلئے بھی کہ وہ ایک امریکی تھا… نہ یہ پاکستانی نژاد محسن حمید کو ملا اور نہ ہی اروندھتی رائے کو ملا… لیکن میں ایک پاکستانی ناول نگار کی حیثیت سے اس بہادر خاتون کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے دل کی ہر بوند میں بندھا تشکر کا ایک اور دل اسکے چرنوں تلے بچھاتا ہوں۔