بریکنگ نیوز
Home / کالم / مکافات عمل

مکافات عمل


خدا اس طرح ظلم کی سزا دیتا ہے جس کا سان گمان بھی نہیں ہوتا ایم کیو ایم مکافات عمل کا شکار ہے ایک سے زیادہ دھڑوں میں تقسیم اس کے لوگ ایک دوسرے کے پردے فاش کر رہے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ایک دوسرے کے لتے لے رہے ہیں ان کی ہانڈی چورا ہے کے عین بیچ ٹوٹ چکی ان کے اکثر رہنماؤں کی پارسائی کا بھرم کھل چکا ایم کیو ایم کی تخلیق اور پھر اس کی آبیاری میں جنرل ضیاء الحق سے لیکر آج تک اس ملک میں برسر اقتدار آنے والی ہر سیاسی جماعت کا برابر کا ہاتھ ہے مرکز میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے اس پارٹی کے بانی کی حمایت حاصل کی کہ جو وقت کیساتھ ساتھ Frankstein monster بن گیا تھا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر کا نام لے لیں کہ جس نے باقاعدگی سے کراچی کے دورے کے دوران اس کے دفتر نائن زیرو کا طواف نہ کیا ہو ہمارے لیڈر قائداعظم کے مزار پر اتنا نہ گئے ہوں گے کہ جتنا زیادہ اپنی حاضری لگانے وہ نائن زیرو گئے ایم کیو ایم کو یوں تو در حقیقت ضیاء الحق نے سندھ میں پی پی پی کی سیاسی بالا دستی ختم کرنے کیلئے بنایا لیکن اگر آپ ذرا تاریخ میں جائیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایم کیو ایم دراصل اس وقت ہی بن گئی تھی جب ایوب خان کے حامیوں نے کراچی میں اردو سپیکنگ کمیونٹی کی جھگیوں پر ہلا بولا ان پر فائرنگ کی اور انہیں صدارتی الیکشن میں ایوب خان کے بجائے فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی پاداش میں سزا دی اگر کسی پھٹے ہوئے کپڑے کی بروقت سلائی‘ رفوگری یا بخیہ گری ہو جائے تو وہ مکمل پھٹنے سے بچ سکتا ہے اگر جس وقت ایم کیو ایم اپنا قد نکال رہی تھی۔

اس وقت ہی اس سے نبٹ لیا جاتا تو اچھاہوتا ماضی سے افسوس ہے کہ ہم سبق نہیں سیکھتے اب جبکہ اس پارٹی کے کئی حصے بخرے ہو چکے تو کیا ضرورت تھی کسی کو ان کے معاملات میں دخل اندازی کی ویسے جس نے بھی کہا ہے درست ہی کہا ہے کہ فاروق ستار کی خوبو بھی وہی ہے جو الطاف حسین کی تھی یعنی ایک پل استعفیٰ دینا اور دوسرے پل ’پبلک کے اصرار‘ پر واپس لینا یہ ’پبلک کے اصرار‘ والا جملہ ماضی میں سنیما کے مالکان اپنے پوسٹروں میں اس وقت لکھتے تھے کہ جب کوئی فلم کسی سنیما ہاؤس میں کافی چل چکی ہوتی اور اس کو مزید چلانا مقصود ہوتا تو پوسٹر میں یہ لکھ دیا جاتا کہ ’پبلک کے اصرار‘ پر اسے مزید چلایا جا رہا ہے کس کو پتہ ہے اور کون پوچھ سکتا ہے کہ واقعی پبلک کے اصرار پر فاروق ستار نے اپنے استعفیٰ کا فیصلہ واپس لے لیایا یہ ہنر انہوں نے اپنے پیشوا الطاف بھائی سے سیکھا ہے۔

صوبوں کے گورنروں کو صوبے کے سیاسی معاملا ت میں زیادہ نہیں بولنا چاہئے یہ آئین کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صوبے کے سیاست سے پرے رکھیں جس طرح کہ اسمبلیوں کے سپیکر اور صدر مملکت پر واجب ہوتاہے کہ وہ سیاسی معاملا ت کے بارے میں اپنا منہ بند ہی رکھیں تو بہتر ہے‘ اسلئے جب ہم سندھ کے گورنر کو اکثر صوبے کے سیاسی حالات میں ٹانگ اڑاتے دیکھتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے ایم کیو ایم کے حالیہ اندرونی بحران پر بھی انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا اگروہ نہ کرتے تو بہتر تھا ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں آئین کے تحت بعض اہم مناصب ایسے ہیں کہ جہاں آپ کو کسی پارٹی کے رکن ہوتے بھی غیر جانبداری اور کم گوئی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور اپنے فعل سے عوام کو یہ تاثر دینا پڑتا ہے کہ آپ کسی سیاسی معاملے میں کسی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کر رہے ۔