بریکنگ نیوز
Home / کالم / غلطی کی معافی

غلطی کی معافی


ہم جس ہادی بر حق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیرو کار ہیں ان کی سیرت طیبہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے جس بات پر بہت زور دیا ہے وہ فلاح انسانیت ہے۔ انسان کو جہاں تک ممکن ہو آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے راستے کے کانٹے چننا بھی ثواب کہا گیا اس لئے کہ کسی بھی انسان کے پاؤں میں چبھ کر اس کے لئے تکلیف کا سبب نہ بنیں۔بیمار کی عیادت پر زور دیا گیا ہے اس لئے کہ اسکی عیادت اور اس کو حوصلہ دینے سے اس کی تکلیف میں کمی ہو جاتی ہے۔ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر بیمار کو حوصلہ دینا اور اسکی بیماری کو اللہ کی رحمت سے تعبیر کرنا صرف اس لئے ہے کہ بیمار اپنی بیماری سے تنگ آ کر کہیں گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور ان کے حقوق پر اسلئے بہت زور دیا گیا کہ ایک دوسرے سے محبت میں اضافہ ہو۔ یہ بھی انسان کی فلاح ہی کا ایک حصہ ہے۔اس کیسا تھ ہی اگر ہم دیکھیں تو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ انسان کی تکالیف کو دور کر نے کا درس دیا ہے۔احادیث میں جتنا زور انسان سے محبت پر دیا گیا ہے اتنا کسی دوسری بات پر نہیں۔

اپنے دشمن کو بھی معاف کرنے کا درس ان ہی کی تعلیم ہے۔ یوں تو اسلام کی تبلیغ ہر مسلمان کافریضہ ہے مگر اس معاشرے کی پیچیدگیوں نے کاموں کی تقسیم کا ایک نظام وضع کیا ہوا ہے کہ جس میں کچھ لوگوں کو ایک کام پر مکمل عمل درآمد کا اصول وضع کر دیا گیا ہے۔ یوں اسلام کی تعلیم و تعلم اور مساجد کے نظام کو چلانے کے لئے مخصوص لوگوں کو مختص کر دیا گیا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے صرف اسلام کی تبلیغ و ترویج کو دیں ۔ عوام ان لوگوں کو علماء کا نام دیتے ہیں اور ان کی ضروریات کا خیال بھی رکھتے ہیں اور ان کی تعظیم کو بھی اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اسلئے کہ انکے توسط سے ہمارے معاشرے کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق چلنے کا درس ملتا ہے اس طبقے کو ہر مسلمان احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سارے اسلام کے ہی پیروکار ہیں اور اسی ایک راہ پر گامزن ہیں ۔ ایک ہی منزل ہے جس پر مختلف راستوں سے لوگ چل رہے ہیں۔ سب ایک ہی خدا کے سامنے جھکتے ہیں اور ایک ہی شخصیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہادی و رہبر مانتے ہیں اسلئے ان میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ سارے اسی ہستی کو اپنا رہبر مانتے ہیں کہ جن کا عمل اپنے دشمنوں کے حق میں بھی دعا دینا ہے۔وہ معاف کرنے کو سب سے بڑی عبادت فرماتے ہیں اگر ان کے عمل کو دیکھا جائے تو انہوں نے ان لوگوں کو بھی معاف کر دیا تھا کہ جن کے لئے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ اگر وہ غلاف کعبہ کے پیچھے بھی چھپے ہوں تو انہیں قتل کر دیا جائے‘ ہندہ اور اس کے حبشی غلام کو بھی معاف کر دیا تھا جنہوں نے ان کے پیارے چچا اور دوست حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اور انکا کلیجہ چبایا تھامگر جب وہ شرمندگی کیساتھ سر جھکائے خدمت اقدسہ میں حاضر ہوئے تو معاف کر دےئے گئے‘ انسان خطا کا پُتلا ہے کون ہے جس سے گناہ سرزد نہ ہوا ہو ۔خطا سے پاک صرف اللہ کے پیغمبر ہوتے ہیں ۔

معصوم عن الخطا صرف وہی ہستیاں ہیں۔ عام انسان سے غلطی سرزد ہونی ہے چاہے وہ کتنا ہی متقی ہو مگر جب غلطی ہو جائے تو اس کے لئے توبہ اور رجوع ایسا عمل ہے کہ اس سے وہ غلطی معاف ہو جاتی ہے۔ کسی انسان کے ساتھ کوئی دکھ دینے والی بات ہو تو بھی اس شخص سے معافی مانگ لی جائے تو بات ختم ہو جاتی ہے۔پچھلے دنوں ختم نبوت کے حلف نامے میں کچھ الفاظ کی ردو بدل ہو گئی۔ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ عمل دانستہ نہ ہوا ہو گا ۔ مگر جب اس کی نشان دہی ہو گئی تو وہ الفاظ ہٹا دیئے گئے اور اس قوم سے اس غلطی کی معافی بھی مانگی گئی ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جب غلطی کی درستگی ہو گئی اور معافی مانگ لی گئی تو بات کو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔مگر افسوس کی اس بات کو لے کر دھرنے دےئے گئے ہیں اور انسانوں کے راستے بند کر کے اُن کو تکلیف میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ جو کسی بھی طور اسلامی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے۔ہم اپنے علماء حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ دھرنے ختم کریں اور خلق خدا کو عذاب سے نجات دلوائیں۔ احتجاج کے مہذب طریقے بھی موجود ہیں اگر یہ لوگ اس بات پر ناراض ہیں تو وہ اپنے لئے ایک جگہ مختص کریں اور جب تک ان کا دل چاہے وہاں بیٹھ کر احتجاج کریں۔