بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / بی آرٹی کا آغاز

بی آرٹی کا آغاز


بالآخر ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے پر کام کا آغاز ہو گیااس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ صوبائی دارالحکومت کے باسیوں کے فائدے کا منصوبہ ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو جدید طرز کی سفری سہولتیں میسر آئیں گی بلکہ پشاور میں ٹریفک مسائل کے حل میں بھی مدد ملے گی‘ مسئلہ یہ ہے کہ شہریوں کو بی آرٹی کے فوائد کا حقیقی معنوں میں اندازہ اسی وقت ہو سکے گا جب انھیں عملاََ ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے تحت تیار ہونیوالی شاہراہ پر خود جدید طرز کی بسوں میں تیز رفتاری سے سفر کرنے اور موجودہ حالات کے مقابلے میں انتہائی کم وقت میں منزل مقصود تک پہنچنے کا موقع میسر آئے گا‘فی الوقت تو اس ترقیاتی منصوبے پر تعمیراتی کام کے آغاز ہی سے شہریوں کوپیش آنے والے مسائل نے انھیں پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے‘ چونکہ اس منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کرنے کے بجائے بیک وقت تینوں مرحلوں پر کام کا آغاز کیا گیاہے لہٰذا باوجود اسکے کہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی کام کی رفتارتیز تر رکھنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے اہل پشاور نے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں پڑنے والے خلل کو بری طرح محسوس کیا ہے‘جی ٹی روڈ پر چمکنی موڑ کے قریب سے مرکزی شاہراہ کے بیچوں بیچ شروع ہونیوالے تعمیراتی کام کے باعث دونوں اطراف سے گزرنے والی ٹریفک کیلئے گنجائش معمول کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے جسکے باعث پشاور کی اس مصروف ترین شاہراہ پر شہر کی جانب آنیوالی اور شہر سے باہر جانیوالی گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے بالخصوص جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پر واقع پیر زکوڑی پل سے لیکر جنرل بس سٹینڈ اور اس سے آگے اشرف روڈ تک کاتقریباً دو تین کلومیٹر کا فاصلہ گاڑیوں کو چیونٹیوں کی رفتار سے طے کرنا پڑتا ہے۔

‘یہی حال مخالف سمت میں جانے والی گاڑیوں کا بھی ہے‘ ٹریفک کی روانی میں واقع ہونے والے تعطل کو کم کرنے کیلئے جی ٹی روڈ کیساتھ ساتھ واقع سروس روڈ سے استفادے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ کوشش اس وقت تک زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی جب تک سروس روڈاور مین روڈ کے درمیان واقع گرین بیلٹ اور فٹ پاتھ کا یکسر صفایا نہیں کر دیا جاتا یہ قدم اٹھاتے وقت گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے مقامات مخصوص کرنا ضروری ہو گا کیونکہ جی ٹی روڈ کے اطراف واقع پلازوں اور تجارتی مراکز میں پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سروس روڈ کے اطراف ہی کو پارکنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے‘شہر کے دوسری طرف یونیورسٹی روڈ پر ابھی صرف اسلامیہ کالج کے قریب مرکزی شاہراہ کے بیچوں بیچ تھوڑے سے حصے پر بی آرٹی منصوبے کا تعمیراتی کام شروع ہوا ہے لیکن اس کام نے ثانوی تعلیم بورڈ سے لیکر یونیورسٹی ٹاؤن چوک تک سڑک کے دونوں جانب ٹریفک کی روانی کو بری طرح متاثرکیا ہے یونیورسٹی روڈ کے دونوں جانب مین روڈ اور سروس روڈ کے درمیان واقع نالے کی تعمیر نو اور بجلی وٹیلی فون وغیرہ کے پولز کی منتقلی کاکام بھی ابھی پوری طرح مکمل نہیں ہوا اسلئے یونیورسٹی روڈ کے دونوں جانب دور دور تک ملبے اور مٹی کے ڈھیر موجود ہیں جنھیں بعض مقامات پر ہموار کر کے سڑک کو کشادہ کر دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی زیادہ متاثر نہ ہو لیکن اس اقدام کے نتیجے میں شدیدگردو غبار نے مستقل طور پر یونیورسٹی روڈ کے اطراف کی فضا کو آلودہ کر دیا ہے جسکی وجہ سے اس روڈ پر گاڑیوں میں سفر کرنیوالے اور راہگیر یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں‘خدشہ ہے کہ اس شاہراہ پر جیسے جیسے بی آرٹی منصوبے کا تعمیراتی کام آگے بڑھے گا شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گاریپڈ بس ٹرانزٹ کو چونکہ ایل آر ایچ کی عقبی سڑک ‘ خیبر بازار ‘شعبہ بازار‘ ریلوے روڈ اور سنہری مسجد روڈ جیسے گنجان تجارتی مراکز والے علاقوں سے گزرتے ہوئے امن چوک تک آنا ہے لہٰذا ان علاقوں میں بی آرٹی کی تعمیر کے دوران ٹریفک کے رش ‘گردو غبار اور دیگر مسائل کی کیا صورتحال سامنے آنی ہے اور ان علاقوں کے آس پاس رہنے والوں اور مختلف امور کی انجام دہی کیلئے ان علاقوں میں آنے جانے والوں کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا ہے اس کا اندازہ ابھی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے‘۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ شہریوں کو بی آرٹی سے متعلقہ نامساعد حالات کا سامنا کب تک کرنا ہو گا؟ چونکہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کیلئے اس منصوبے کی آنے والے عام انتخابات سے قبل تکمیل انتہائی اہمیت رکھتی ہے لہٰذا وزیر اعلیٰ کی سرتوڑ کوشش ہوگی کہ یہ منصوبہ انکے اعلان کے مطابق چھ ماہ میں مکمل ہو‘کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے اثرات براہ راست پشاور میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر پڑیں گے ‘اسکا مطلب ہے کہ کم سے کم چھ ماہ تک شہریوں کو بی آرٹی سے جڑی صعوبتیں برداشت کرنا ہوں گی اور اگر ( جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے)کہیں متعلقہ تعمیراتی کمپنیوں کی سستی کی وجہ سے یہ منصوبہ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق مکمل نہ ہوا تواہل پشاور کی مشکلات کی مدت طویل بھی ہوسکتی ہے‘ اس معاملے سے متعلق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کے تناظر میں متذکرہ نامساعدحالات کے اثرات میں کمی کیسے ممکن ہے؟ اس مقصد کیلئے اگر صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی تشکیل دیکر اسے سول سوسائٹی کی مشاورت سے بی آرٹی کے تعمیراتی کام سے جڑے مسائل کو کم سے کم سطح پر رکھنے کیلئے تجاویزکی تیاری اور ان پر عمل درآمد ممکن بنانے کا ٹاسک دے دیا جائے تو بہتر ہوگا۔