بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / بے حسی بمقابلہ بے بسی

بے حسی بمقابلہ بے بسی


پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں تین ماہ تک تعینات رہنے والے جعلی ڈاکٹر کا معاملہ نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں کے لئے دردسر بنا ہوا ہے‘ جو الگ الگ مطالبہ کر چکے ہیں کہ مذکورہ سرکاری علاج گاہ سمیت خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں علاج معالجہ یا اِس سے متعلق مشاورت اور فیصلہ سازی کرنے والوں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے لیکن آخر یہ کام کون کریگا؟ جن فیصلہ سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض ڈاکٹروں کی تعیناتیاں اور ہسپتالوں کے دیگر انتظامی امور طے کریں‘ وہی اگر مطالبہ کر رہے ہیں توکس سے!؟ کیا یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کے مالیاتی امور اور کارکردگی کا الگ الگ جائزہ لیں؟ عوام ہی متاثرین بھی ہیں‘ قصوروار اور ذمہ دار بھی کہ وہ معالجین اور معاون طبی و غیر طبی عملے کی تعلیمی و دیگر اسناد کا جائزہ لیں؟جعلی ڈاکٹر کا انکشاف اور اس سے متعلق عوامی حلقوں میں تشویش کا آغاز بیس اکتوبر کے روز اس وقت ہوا‘جب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ ہسپتال پشاور کی انتظامیہ نے پولیس میں رپورٹ کرائی کہ قدرت اللہ شاہ سکنہ بنوں‘ نامی ایک شخص جعلی ڈاکٹر کے طور پر تعینات رہا ہے لیکن ابتدائی تفتیشی رپورٹ درج ہونے کے فوراً بعد بھی پولیس مذکورہ جعل ساز کو گرفتار نہیں کر سکی جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پولیس کی نظر میں قدرت اللہ شاہ واحد ایسا ڈاکٹر نہیں جس نے سرکاری اداروں میں بھرتیوں اور تعیناتیوں کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں‘ کمزوریوں یا خرابیوں کا فائدہ اُٹھایا ہے۔

جب تک ڈاکٹروں سمیت ہر سرکاری ملازم کے کوائف اور اسناد کی جانچ نہیں ہو جاتی‘ اس وقت یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکے گی کہ ’قدرت اللہ شاہ‘ ہی ایسا واحدقومی مجرم ہے جو سرکاری وسائل لوٹتا رہاجو انسانی جانوں سے کھیلتا رہا اور یہ کھیل کسی دور دراز ضلع میں نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے پشاور میں عرصہ تین ماہ تک جاری رہا!کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ وہ عرصہ تین ماہ نہیں بلکہ دو سال سے اعلیٰ عہدے پر تعینات رہا۔معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا کہ قدرت اللہ شاہ کون تھا‘ کیا تھا اور اسے زمین نگل گئی یا آسمان؟ اس سلسلے میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹر شہزاد اکبر کا بیان آن دی ریکارڈ ہے کہ بطور مبصر زیرتربیت میڈیکل ڈاکٹر مذکورہ جعل ساز کی تعیناتی ہسپتال میں ڈاکٹروں کو علاج معالجے کی نجی سہولیات فراہم کرنے کی حکمت عملی ایک پروگرام کے تحت ہوئی اور اس کی تعیناتی متعلقہ شعبے کے نگران ڈاکٹر نور وزیر نے کی تھی۔ وہ ایک جعلی ڈاکٹر تھا‘ جسے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دینے سے قبل خاطرخواہ تحقیق سے کام نہ لینے والے نگران بھی یکساں شریک جرم ہیں بلکہ ڈاکٹر وزیر کی کارکردگی پر نگاہ رکھنے والے محکمۂ صحت خیبرپختونخوا کے فیصلہ سازوں کو بھی سزا ملنی چاہئے کہ جنہوں نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور ہسپتال کے معاملات کو اس حد تک فرد واحد کے سپرد کئے رکھا تھا کہ وہ سیاہ و سفید کا مالک بن کر جو چاہے کرتا رہا لیکن اس کی جعل سازی‘ نااہلی اور کام چوری پر گرفت نہ کی جاسکی! خرابی نظام کی ہے۔

‘ جس میں شخصیات بااختیار ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تبدیلی لانے کی دعویدار صوبائی حکومت کے دامن پر لگنے والا یہ داغ قطعی معمولی نہیں جس نے محکمۂ صحت کے پورے انتظامی ڈھانچے پر کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں!تلخ حقیقت یہ ہے کہ سینئر و جونیئر ڈاکٹر ہوں یا ہسپتال کے امور اور محکمہ صحت کی انتظامیہ سبھی فیصلہ ساز ایک دوسرے کی کارکردگی پر نہ تو اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی اِن کی نظر میں کلیدی و عمومی عہدوں پر اہل افراد تعینات ہیں! دوہزار پندرہ میں میٹرک کا امتحان پاس کرنیوالے جعلی ڈاکٹرکے بارے میں یہ بھی انکشاف اپنی جگہ ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ اُس کی کم سے کم تین ماہ تعیناتی اور سرکاری وسائل و رہائش گاہ سے استفادہ ایک سینئر ڈاکٹر کی پشت پناہی سے ممکن ہوئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صحت کا نظام پر اعتماد اور اِسے درست کرنے کی بجائے سیاست دان اس بات کو زیادہ آسان سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اور عزیزواقارب کے علاج معالجے کے لئے بیرون ملک سہولیات سے استفادہ کریں۔ مسئلہ تو عام آدمی کا ہے جس کی جان و مال کو لاحق خطرات کا شمار ممکن نہیں۔ آخر اِس ملک کا عام آدمی کرے تو کیا کرے اور جائے تو جائے کہاں؟