بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک اور اقتصادی استحکام

سی پیک اور اقتصادی استحکام


پاکستان میں تعینات افغان ناظم الامور کو گزشتہ روز دفتر خارجہ طلب کرکے سرحد پار سے حملوں پر احتجاج ریکارڈ کردیاگیا‘ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان سرحد کے قریب حالیہ کچھ عرصے سے دہشت گرد حملوں میں تیزی آرہی ہے‘ دریں اثناء امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدامنی پاکستانی معیشت کیلئے سیکورٹی رسک ہے اور افغان حکومت کی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں‘ امریکی سینیٹر جیک ریڈ کیساتھ ملاقات میں پاکستان کے سفیر نے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں افغان حکومت کی عمل داری نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے‘ دوسری جانب لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 75سالہ خاتون شہید ہوگئی ہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے پاکستان افغان عدم استحکام کی بھاری قیمت چکا رہا ہے‘ جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ بھارت نے سی پیک کیخلاف 500 ملین ڈالر مختص کئے ہیں‘ ۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کاراستہ صرف کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے‘ اس میں کوئی بائی پاس نہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے افغانستان اور بھارت سے متعلق پاکستان کا اصولی موقف کا واضح ہے‘ خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں ریکارڈ پر ہیں‘ امن وامان کی صورتحال کے نتیجے میں پاکستان کا بڑے پیمانے پر جانی نقصان سب کے سامنے ہے‘وطن عزیزکی معیشت کا متاثر ہونا بھی سامنے ہے‘ ایسے میں معاشی استحکام کیلئے سی پیک امید کی کرن دکھائی دے رہا ہے‘ اس پراجیکٹ کے سامنے آتے ہی بھارت کی بے چینی شروع ہو گئی ہے اور اس کی ناکامی کیلئے اب بھی اس نے 500ملین ڈالر مختص کئے ہیں‘ صورتحال کا تقاضا ہے کہ وطن عزیز کے ذمہ دارمحکمے اور فنانشل منیجرز اس سارے منظرنامے میں سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کیلئے زیادہ سے زیادہ موثر منصوبہ بندی کریں‘ اس پلاننگ کی ضرورت بھی ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کیساتھ بیرونی قرضوں کا بوجھ اتاراجائے اورسرمایہ کاری کیلئے ماحول بہتر سے بہتر بنایاجائے‘ اس سب کیساتھ خارجہ محاذ پر پاکستان کے موقف کو بھرپور انداز میں پیش ہونا چاہئے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے آسکیں۔

بارش نے پھر پول کھول دیئے

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں طویل انتظار کے بعد ہونیوالی بارش نے میونسپل سروسز اور بجلی کی ترسیل کے نظام سے متعلق اعلانات اور اقدامات کی عملی حیثیت ایک بارپھر واضح کردی ہے‘ پشاور کا پلاسٹک شاپنگ بیگز‘ تعمیراتی میٹریل اور کوڑے کرکٹ سے بھرا سیوریج سسٹم ابل کر باہر آگیا جبکہ بجلی کی ترسیل کانظام اس طرح متاثر ہوگیا جس پر پوری رات اور دن کام ہوتا رہا ہر شہر میں بارش آندھی اور طوفان کے ساتھ آنیوالی مشکلات کی نشاندہی اس امید کیساتھ کی جاتی ہے کہ شاید اگلی مرتبہ ایسا نہ ہو‘ اس سب کے باوجود پہلے سے زیادہ بدتر صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ذمہ دار ادارے پیشگی انتظامات ضروری نہیں سمجھتے کیا ہی بہتر ہو کہ ذمہ دار ادارے اپنے ذمہ داروں سے بازپرس کیساتھ آئندہ کیلئے فول پروف انتظامات یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کی مشکلات کا ازالہ ہو‘ اس مقصد کیلئے ان اداروں کو وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنانا ہوگی۔