بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / تعلیم اور منزل کا تعین

تعلیم اور منزل کا تعین


اس وقت تعلیم سب سے بڑا کاروبار بن چکا ہے۔برطانیہ کا چوبیس فیصد زرمبادلہ تعلیم ہی کے میدان میں کمایا جارہا ہے۔ صرف انگلش ٹیسٹ آئیلٹس کیلئے ہر ماہ لاکھوں پاکستانی نوجوان اپنے ہی ملک میں گیارہ بارہ ہزار روپے جمع کرواتے ہیں۔ یوں صرف ایک پرچہ برطانیہ سے بھجواکر ہر ماہ لاکھوں پاؤنڈ تو صرف پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح سے بارہویں جماعت کے بعد انٹری ٹیسٹ‘سیٹ اور کئی دوسرے ٹیسٹ پاس کرنا مختلف مغربی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کی بنیادی شرائط میں شامل ہوتا ہے۔ مختلف مضامین کیلئے سکول اور کالج سے باہر ٹیوشن سنٹر تو ہر قصبے اور شہر کا ضروری جزو بن گئے ہیں۔ پروفیشنل کالجوں میں داخلے کی غرض سے انٹری ٹیسٹوں کیلئے الگ سے ٹیوشن سنٹر اور پریپ کورسز ہر جگہ دستیاب ہیں اور تو اور ساتویں اور آٹھویں جماعتوں میں کیڈٹ کالجوں میں داخلے کیلئے بھی ٹیوشن سنٹر کھل گئے ہیں۔ پہلے گریجویشن کو تعلیم کا ایک اونچا معیار سمجھا جاتا تھا۔ اب بھی ملک کی اعلیٰ ترین ملازمت کے لئے صرف بی اے کرنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں بیٹھا جاسکتا ہے لیکن اب گریجویشن کو تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور پہلے آٹھویں جماعت کو جو حیثیت حاصل تھی اب بی اے کی وہی وقعت رہ گئی ہے۔ بقیہ شعبوں میں انجینئرنگ سے لے کر اکاؤنٹس تک کئی کئی سالوں پر مشتمل پوسٹ گریجویشن گویا لازم کردی گئی ہے۔ ایک ڈاکٹر جو اٹھارہ انیس سال کی عمر میں میڈیکل کالج میں داخل ہوتا ہے، وہ پینتیس سال کی عمر میں سپیشلسٹ بن کرنکلتا ہے۔ ہماری قوم بہت عرصہ تعلیم سے محروم رہی ہے اور اب جب بھی کسی خاندان کو موقع ملتا ہے تو اپنے بچوں کو اپنے ارمانوں کے بھینٹ چڑھادیتا ہے۔

اور اس طرح سے لوگ نہ صرف پیسے کا صریح ضیاع کرتے ہیں بلکہ اپنے بچے کو بہت زیادہ پڑھا کر عملی زندگی سے دور کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے جب آپ کے بچے نے پی ایچ ڈی کرلی ہے تو وہ نہ تو معمولی ملازمت کے لائق رہ گیا اور نہ ہی اسے کاروبار کا تجربہ ہوا۔ الٹا اسکی عمر اتنی بڑھ گئی کہ اب کوئی بھی اور کام کرنے سے رہا۔ محمد بن قاسم نے ملتان پر سترہ سال کی عمر میں حملہ کیا ۔ ہمارے بچے اب تیس سال کی عمر میں ابھی یونیورسٹی سے فارغ نہیں ہوئے ہوتے۔ امریکہ اور کینیڈا میں تو میڈیکل کالج میں ایف ایس سی کے بعد چارسال کی گریجویشن کے بعد ہی داخلہ ملتا ہے۔ اسی لئے اب نارتھ امریکہ میں ڈاکٹری کے پیشے سے لوگوں کی رغبت ختم ہوتی جارہی ہے اور لوگ تنگ آکر اس پیشے ہی کو چھوڑ رہے ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ ہماری بچیوں کا ہے۔ ہر دوسرا خاندان اپنی بچی کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہے ۔اس وقت ملک کے تقریباً تمام میڈیکل کالجوں میں طالبات کا تناسب کم از کم پچاس اور بعض میں اسی فیصد تک ہے۔ یہ تناسب پہلے دس فیصد سے زیادہ نہ تھا لیکن سپریم کورٹ کے ایک سو موٹو ایکشن کی وجہ سے یہ تناسب الٹا ہوگیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ان تمام طالبات میں سے گریجویشن کے بعد اپنے پیشے کو جاری رکھنا صرف دس فیصد طالبات کیلئے ممکن رہا ہے۔ ہمارے وقت میں تین سو کی کلاس میں صرف تیس طالبات تھیں اور وہ تقریباً تمام کی تمام اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت کررہی ہیں۔

لیکن اب کسی بھی میڈیکل کالج کی سو کی کلاس میں سے ستر پچھتر طالبات پاس ہوتی ہیں تو ان میں سے بمشکل سات یا آٹھ میڈیکل سروس میں آتی ہیں۔ باقی سب شادی کرکے پیا دیس سدھار جاتی ہیں اور باقی زندگی چولہے کے آگے گزارتی ہیں۔ میرا خدانخواستہ یہ مطلب نہیں کہ وہ فضول زندگی گزارتی ہیں۔ خاندان کی تربیت کرنا سب سے احسن خدمت ہے۔ بچوں کی پرورش کوئی آسان کام نہیں اور نہ ہی میرا مطلب یہ ہے کہ بچیوں کو تعلیم نہ دی جائے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ ہر پیشہ ورانہ کالج میں جانے سے قبل اپنی منزل کا تعین کرنا ضروری ہے۔ طالب علم کے رجحان کے مطابق اسکی تعلیم و تربیت ہو اور یہ نہ ہو کہ پانچ سات سال تعلیم کے بعد وہ یا تو سیاست میں آجائے اور یا کوئی کاروبار جس کا اسکی تعلیم سے کوئی تعلق نہ ہو، کھول کے بیٹھ جائے۔دیکھا جائے تو یہ بھی ایک بڑا قومی المیہ ہے کہ محدود وسائل ان فضول مشاغل میں صرف کئے جائیں۔کاروبار اس وقت ایک سائنس کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ پنساری کی دکان سے وال مارٹ جیسی بڑی کارپوریشنیں وجود میں آگئی ہیں جو شماریات کا سہارا لے کر ایک ٹوائلٹ پیپر کی چوڑائی میں چند ملی میٹر کی بچت کرکے لاکھوں ڈالر کی بچت کرلیتی ہیں یا صرف اپنے سٹور میں جمع ذخیرے میں کمی کر کے اپنے بند پیسے بچالیتی ہیں لیکن یادرکھیں یہ کاروباری گُر سیکھنے کیلئے بھی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے اور کم عمری کا تجربہ سب سے زیادہ کار آمد ہوتا ہے۔ مشہور ارب پتی وارن بوفے نے چھ سال کی عمر میں پہلا کاروبار کیا تھا کہ بازار سے سستی ٹافیا ں خرید کر منافع پر بیچی تھیں۔

کاروبار سے قطع نظر اگر دنیا کے مشہور اور کامیاب لوگوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی اکثریت روایتی تعلیم سے ناآشنا رہی ہے۔ بل گیٹس سے لے کر سٹیو جابز تک کوئی بھی یونیورسٹی کی تعلیم حاصل نہیں کرسکا ہے اور آخر میں مبینہ طور پر بل گیٹس کے الفاظ کہ ’ کلاس میں پچھلی بنچوں پر بیٹھنے والوں کو تحقیر کی نظر سے مت دیکھو۔ کیا خبر کل تم انہی کی ملازمت اختیار کرلو‘۔ یہاں میرا مقصد تعلیم کی مخالفت نہیں ہے۔ بس جو بھی تعلیم اور تربیت کریں اس سے پہلے اپنی منزل کا تعین کرلیں۔ آپ کو کھیل پسند ہیں تو اسی کو اپنا پیشہ بنالیجئے اور یقین مانئے کہ اسکے لئے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی قطعاً ضرورت نہیں اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ اسی طرح والدین کیلئے ایک نصیحت کہ اپنے بچوں کو اپنے ارمانوں کا ذریعہ نہ بنائیے۔ اگر آپ کا بچہ میتھس میں کمزور ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی اور شعبے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے گا۔