بریکنگ نیوز
Home / کالم / مسائل اور ہمارے لیڈر

مسائل اور ہمارے لیڈر


کوئی اگر یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ اس ملک میں فوری انقلاب آنیوالا ہے جس کے بعد عام آدمی کا راج ہوگا تو بہتر ہے کہ وہ اپنی اس خام خیالی سے باہر نکل آئے نہ تو ہمیں اس ملک میں امام خمینی‘ لینن ‘کاسٹرو یا ماؤزئے تنگ جیسا انقلابی ذہن رکھنے والا رہنما نظر آرہا ہے اور نہ شی گویرا جیسا جری انسان‘اگر ہم ماضی قریب تک ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں تو پچھلی صدی میں صرف تین ہی ایسے واقعات رونماہوئے تھے کہ جو صحیح معنوں میں انقلابات تھے اور جن سے غریبوں کی تقدیر اور حالات بدل گئے تھے ایک تھا 1917ء کا روس میں ہونے والا سرخ انقلاب کہ جو لینن نے بپا کیا تھا دوسرا تھا1949ء میں چین میں آنے والا انقلاب کہ جس کی قیادت ماؤزے تنگ نے کی تھی اور تیسرا انقلاب ایران میں1979ء میں آیا کہ جس کا کریڈٹ امام خمینی کو جاتا ہے ان تین رہنماؤں میں ایک قدرے مشترک یہ تھی کہ ان کے دل غریبوں کے لئے دھڑکتے تھے یہ جو کام بھی کرتے یا جو اصلاحات بھی لاتے تو یہ ضرور دیکھتے کہ ان میں غریب آدمی کا کتنا فائدہ ہوگا اور اشرافیہ کا کتنا‘ ان کا ہر قدم عوام دوست ضرور تھا انسان گوشت پوست کا لوتھڑا ہے اس سے غلطی ضرور سرزد ہوتی ہے ہوسکتا ہے کہ ان تین رہنماؤں نے بھی کئی غلطیاں کی ہوں پر ان کی بیلنس شیٹ میں ڈیبٹ کے خانے میں جتنے اندراج ہیں ۔

ان کے مقابلے میں کریڈٹ کے خانے میں بہت زیادہ اندراجات ہیں وطن عزیز میں تو ہمیں سردست کوئی ایسا رہنما نظرنہیں آرہا کہ وہ غریب کی حمایت میں اس حد تک جاسکے کہ جتنا مندرجہ بالا تین رہنما اپنے اپنے ملک کے عوام کے لئے گئے تھے یہ بھی بہت بڑی بات ہوگی کہ اس ملک کا کوئی سیاسی لیڈر اقتدار میں آکر کم ازکم کرپشن کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردے کہ جس نے اس ملک کی معیشت کا دیوالیہ پیٹ دیا ہے حالات اتنے خراب ہیں اخلاقی طور پر ہم لوگ اتنے کمزور پڑچکے ہیں کہ ہمارے اکثر سیاسی رہنما مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ اب الیکشن جیتنے کے لئے Electablesڈھونڈنے پر اپنا وقت صرف کررہے ہیں ان کو ایسے امیدواروں کی تلاش ہے کہ جو برادری ‘مسلک‘ زبان وغیرہ کی بنیاد پر ان کو الیکشن جتواسکیں ہماری سیاست اخلاقیات سے بالکل عاری ہوچکی ہے پبلک کو ہمارے سیاست دان ایک بات کرتے ہیں اور پس پردہ وہ اس بات کے برعکس کام کرتے ہیں بادی النظر میں پی پی پی کس قدر ایم کیو ایم کے لتے لے رہی ہے پر اندرون خانہ ڈاکٹر عاصم ‘فاروق ستار کے گھر جاکر ان سے ملاقات کرتے ہیں‘۔

وزیر خزانہ سر کے بال سے لیکر پاؤں کے انگوٹھے تک حدیبیہ کیس میں ملوث ہیں پر وہ استعفیٰ دینے کا نام تک ہی نہیں لیتے حکومت کی رٹ اس قدر ڈھیلی پڑ چکی ہے کہ چند سو ہڑتالیوں نے اسلام آباد کی کئی سڑکوں پر قبضہ کرکے وفاقی دارالحکومت کے ٹریفک کے نظام کو کئی دن درہم برہم رکھا کوئی بھی ملک ایڈہاکزم پر اگر چلے گا تو اس کا یہی حشر نشر ہوگا جو وطن عزیز کا ہورہا ہے گوادر کی بین الاقوامی بندرگاہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے‘ چاہے اس مقصد کے حصول کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے بھارت نے اگلے ہی روز ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ کے رستے کئی ٹن گندم جب افغانستان پہنچائی تو اس پر بھارت اور افغانستان دونوں خوشی سے پھولے نہیں سمائے افغانستان اور بھارت ‘ دونوں نے بڑے غرور اور طنز سے کہا ہے کہ اب وہ آپس میں تجارتی تعلقات کو استوار کرنے کیلئے پاکستان کے محتاج نہیں پاکستان کے خفیہ اداروں کو بھارت پر کڑی نظر رکھنا ہوگی اس نئے رستے کے ذریعے بھارت گندم یا کسی اور اشیائے خوردنی کا سامان لے جانے کی آڑ میں افغانستان کو اسلحہ وبارود بھی پہنچا سکتا ہے کہ جسے پھر بھارت کے گماشتے افغانستان کے توسط سے پاکستان کے اندر تخریب کاری میں استعمال کرسکتے ہیں۔