بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / عام انتخابات: قومی ذمہ داری

عام انتخابات: قومی ذمہ داری


پاکستانی سیاست کا یہ پہلو فہم سے بالاتر ہے کہ قومی امور پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود بھی مختلف النظریات سیاسی جماعتیں ’اچانک‘ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے متحد ہو سکتی ہیں۔ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا معاملہ ہو یا صداقت و امانت کے اصولوں پر پورا نہ اترنے والوں کو سیاسی جماعتوں کی سربراہی کے لئے اہل قرار دینے سے لیکر ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی جیسا انتہائی سنگین‘ متنازعہ و حساس معاملہ‘ آئین سازی اور آئینی ترامیم کرتے ہوئے غیرمعمولی جلدبازی سے کام لیا جاتا ہے جس میں قوم کے جذبات و احساسات اور رائے عامہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ابھرنے والے کسی عمومی تاثر کو خاطر میں لایا جاتا ہے‘ عام آدمی کو ہر گھڑی ’سرپرائز‘دینے والے قانون سازوں کے کھانے اور دکھانے کے دانت الگ الگ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر دن سیاست ناممکنات میں امکانات اور اختلافات کی تہہ میں اتفاق کے پہلو تلاش کر رہی ہے۔ آئندہ برس (دوہزار اٹھارہ) کے پہلے چھ ماہ موجودہ قانون ساز اسمبلیاں اپنی وہ آئینی مدت پورا کریں گی جس کے اختتام یا قبل از وقت عام انتخابات کے چرچے عام ہیں۔

‘ الیکشن کمیشن ’قانون سازی‘ کی حد تک تو بے بس ہے لیکن وہ اپنے طور عام انتخابات کے آزادانہ اور شفاف انعقاد کو ممکن بنانے کے لئے ایسی قواعد سازی کرنے میں مکمل بااختیار بنا دیا گیا ہے‘ جس سے انتخابی عمل زیادہ بامعنی نتائج کا حامل ہو۔ نئے قانون (الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ) کے تحت انتخابی فہرستوں میں ووٹرز بالخصوص خواتین کی تصاویر شامل کرنے اور ان کی محدود اشاعت کی بجائے ہر سیاسی جماعت‘ انتخابی اُمیدوار یا طلب کرنیوالے کو فراہم کرنے کے یقیناًمنفی نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بات صرف قبائلی علاقہ جات‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حد تک محدود نہیں جہاں پہلے ہی مستورات کو گھروں تک محدود رکھا جاتا ہے اور جہاں کی اکثریت سماجی و ثقافتی یا قبائلی و خاندانی دباؤ کے تحت حق رائے دہی سے محروم ہے تو جب باپردہ خواتین کی ’بے حجاب تصاویر‘ ووٹر لسٹوں میں گردش کریں گی تو عین ممکن ہے کہ ’روشن خیال و تعلیم یافتہ‘ سمجھے جانے والے معاشروں میں بھی اِس بات کو معیوب سمجھتے ہوئے بہت سے خاندان اپنے ناموں کو انتخابی فہرستوں سے منہا کروا دیں۔ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی قومی شرح اگر اوسطاً چالیس فیصد سے کم ہے تو اس میں اضافے کی بجائے غیرمعمولی کمی سے انتخابی عمل کی معنویت و مقصدیت پر حرف آئے گا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو برسرزمین حقائق سیاسی فیصلہ سازوں کے سامنے نہ صرف پیش کرنے چاہئیں بلکہ سیاسی مخالفت برائے مخالفت کے تناؤ بھرے ماحول میں مختلف وسائل بالخصوص ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے قانون سازوں کو اس بات پر قائل کرنا چاہئے کہ وہ خواتین کی ووٹر فہرستوں میں تصاویر کی اشاعت اور انکی فراہمی کے اپنے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کریں۔

نئی قانون سازی کی رو سے جس کی کسی انتخابی حلقے میں خواتین کے ڈالے گئے ووٹوں کا شمار 10فیصد سے کم ہوگا‘ وہاں پولنگ کا عمل دوبارہ ہوگا لیکن کیا ’وی وی آئی پیز‘ قانون سازوں کے سامنے یہ زمینی حقائق بھی پیش کئے گئے کہ ملک کی ’ساٹھ فیصد‘ سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جن کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک روزہ انتخابی عمل سے زیادہ بڑی ترجیح ہے اور جس معاشرے میں شرح خواندگی اسلئے متاثر ہو رہی ہو کہ وہاں تعلیمی اداروں کا فاصلہ آبادی کے مراکز سے دور ہے تو وہاں کس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ عام لوگ جوق در جوق‘ گھنٹوں پیدل سفر کے بعد پولنگ سٹیشنوں تک ہمراہ خواتین پہنچیں گے!؟ قانون کے تحت انتخابی امیدواروں کیلئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر پابندی عائد ہے‘ انتخابی مہم پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے اور جو خواتین اپنا چہرہ عیاں نہیں کرنا چاہتیں اُن کی تصاویر بھی مشتہر کر دی گئیں ہیں تو کیا اِس کا منفی ردعمل سامنے نہیں آئے گا؟ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی کم ہوتی شرح فیصلہ سازوں کیلئے پریشانی کا باعث ہی نہیں۔ ووٹ بذریعہ پرچی ہو یا بائیومیٹرک تصدیق کے بعد الیکٹرانک وسائل سے‘ بہرصورت ہر ووٹر کو انتخابی عمل میں شامل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے اور معروضی حالات‘ سماج و روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی قوانین و قواعدکے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی الیکشن کمیشن ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔ الیکشن کمیشن حکام خود کوبے بس سمجھنے کی بجائے‘ قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جرأت مندی سے‘ ڈٹ کر اور باآواز بلند ان قانونی و آئینی غلطیوں کی نشاندہی کریں‘ جنکی وجہ سے آئندہ عام انتخابات پر منفی اثرات مرتب ہونے کے واضح آثار ہیں۔