بریکنگ نیوز
Home / کالم / افغانستان: بھاری قیمت

افغانستان: بھاری قیمت


پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان میں انتشار کی وجہ سے سخت مشکل میں ہے لیکن اس کی پریشانی پر عالمی طاقتوں کو تشویش نہیں جو ایک طرف تو خطے میں امن کے قیام کی دعویدار ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی داخلی سلامتی کو لاحق خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی انکا سدباب کرنے کے لئے خاطرخواہ تعاون نہیں کر رہیں!رواں ہفتے باجوڑ میں پاک افغان سرحد کے قریب قائم چیک پوسٹ پر ہوئے حملے میں پاک فوج کا کیپٹن اور سپاہی شہید جبکہ دیگر چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے یقیناًپاکستان افغان سرحد کے پار سکیورٹی نہ ہونے کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے بارڈ سکیورٹی کے لئے اپنے حصے کا کام تو مکمل کر لیا لیکن افغانستان بھی اپنی ذمہ داری نبھائے اور پاک افغان سرحد پر مؤثر سکیورٹی یقینی بنائے تو تبھی اِس مسئلے کا حل ممکن ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف کو فون کرکے دہشت گردی میں پاکستان کے کردار کی تحسین کی مگر پھر پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے جارحیت سے گریز نہ کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔اس کے بعد جان مکین کے دورہ پاکستان اور افغانستان کے موقع پر پاکستان پر الزامات کی بارش شروع ہو گئی جس میں افغانستان میں امریکی فوجوں کے کمانڈر اور وزیر دفاع جم میٹس کے بیانات بھی شامل ہوئے اور جلتی پر تیل کا کام وزیر خارجہ ٹلرسن کے افغانستان اور بھارت میں دیئے گئے سخت بیانات الزامات اور دھمکیوں نے کیا۔

ان دھمکیوں کی بازگشت ہنوز سنائی دے رہی ہے۔ اس پر پاکستان کی طرف سے گلہ و شکوہ کا جواز تو بنتا ہے تاہم امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لئے کوشاں ہیں جس میں کامیابی کا امکان موجود ہے۔ پاکستان کا امریکہ سے اس لئے بھی گلہ بنتا ہے کہ پاکستان نے شروع سے امریکہ کے ساتھ خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ دوستی نبھائی اور اس کے مفادات کو اہمیت دی ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان نے روسی کیمپ سے دوری اختیار کرکے امریکہ کیساتھ روابط اور تعلقات استوار کئے جبکہ بھارت روسی کیمپ کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ سوویت یونین کی توسیع پسندانہ پالیسی میں بھارت اس کا حامی و ساتھی رہا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے سیٹو اور سینٹو معاہدوں میں شامل ہو کر سوویت یونین کے مشرق وسطیٰ اور برصغیر کی طرف بڑھتے ہوئے قدم اور اشتراکیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ قدم سے قدم ملایا یہ وہ دن تھے جبکہ بھارت کے سوویت یونین کیساتھ گہرے تعلقات تھے اور اس نے سوویت یونین کے عزائم کو آگے بڑھانے کے لئے ہی غیر جانبدار ملکوں کی تنظیم بنائی اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے سامراجی ایجنٹ اور ترقی کا دشمن قرار دیتا رہا۔ سوویت یونین ٹوٹا تو بھارت امریکہ کے ساتھ جڑ گیا اور اس نے کہنیاں مار کر پاکستان کو پیچھے دھکیل دیا۔ پاکستان کو اس لئے بھی امریکہ سے شکایت ہے کہ وہ اسی بھارت کو خطے میں لیڈر بنانا چاہتا ہے۔ بھارت نے روس کی قیمت پر امریکہ سے تعلقات بنائے جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن رہی ہے۔ اس کے چین اور امریکہ کے ساتھ یکساں اچھے تعلقات رہے ہیں۔

ایک کی قیمت پر دوسرے سے تعلقات میں استواری سے گریز نمایاں ہے۔ امریکہ و چین کے تعلقات چین کی آزادی کی کئی ابتدائی دہائیوں میں سرد مہری کا شکار رہے‘ امریکہ کی خواہش پر پاکستان نے امریکہ اور چین کو قریب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ فروری اُنیس سو بہتر میں صدر نکسن نے چین کا دورہ کیا یہ کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا جس میں پاکستان کا ناقابل فراموش کردار ہے۔ پاکستان کو جہاں اکہتر کی جنگ میں امریکی بحری بیڑے کے نہ پہنچنے کا گلہ ہے وہیں صدر نکسن کا وزیراعظم اندرا گاندھی کو مغربی پاکستان پر حملہ کرنے سے باز رہنے کی سخت وارننگ کا بھی احساس ہے۔ افغانستان میں روس امریکہ کولڈ وار میں پاکستان کے کردار کا تذکرہ ہو چکا‘ نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کے شانہ بشانہ رہا ہے پھر بھی امریکہ کی طرف سے الزامات عائد کئے جائیں اور دھمکیاں دی جائیں تو یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے یقیناًامریکی حکام اپنے قول و فعل پر نظرثانی کریں گے اور پاکستان کی داخلی سلامتی کے بارے میں بھی سوچیں گے جسے افغانستان سے لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈومور کے مطالبے اب ایک طرف رکھ کر امریکہ کو پاکستان کی مجبوریوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے ہمارا امن اب بھی داؤ پر ہے بلوچستان میں آئے روز دھماکے ہو رہے ہیں پولیس تک محفوظ نہیں ایسے میں ہم پر ہی الزامات اور دباؤ کیا معنی رکھتا ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر وسیم ہارون۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)