بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / لال شہباز قلندر خود کش حملے کا مرکزی ملزم گرفتار

لال شہباز قلندر خود کش حملے کا مرکزی ملزم گرفتار


کراچی۔محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور رینجرز نے کراچی کے علاقے منگھوپیر سے رواں سال کے اوائل میں سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خود کش دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز حکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور رینجرز نے کراچی کے علاقے منگھوپیر سے رواں سال کے اوائل میں سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خود کش دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ملزم کی شناخت نادر علی کے نام سے ہوئی ہے کارروائی کے دوران دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عامر فاروقی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کو رینجرز کے ساتھ مشترکہ کارروائی کیدوران گرفتار کیا گیا۔عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ ملزم کی شناخت نادر علی کے نام سے ہوئی ہے جبکہ کارروائی کے دوران دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔یاد رہے کہ لا شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خودکش دھماکے میں 88 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے تھے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ داعش کے کارکنوں کے خلاف کئی کارروائیوں کے بعد پاکستان میں اس کے قدم کمزور پڑ گئے ہیں۔

عامر فاروقی نے کہا کہ ‘مستونگ آپریشن کے بعد داعش کے ایک کے بعد ایک دہشت گرد گرفتار ہورہے ہیں اور آج مزاروں پر حملے کرنے والا مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ یہاں پر بہت کمزور ہوچکے ہیں’۔داعش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کے کارکن فرار ہوچکے ہیں اور دہشت گرد تنظیم کی موجودگی سرحد پار افغانستان میں ہے’۔

ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ ‘داعش یہاں کام نہیں کررہی تھی، گروپ کے کارندے مخلتف سیاسی جماعتوں سے منسلک ہوتے تھے، پھر ابتدائی طور پر لشکر جنگھوی میں شامل ہوتے جس کے بعد داعش میں چلے جاتے تھے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے جو ان گروہوں کو مالی تعاون، تربیت اور ہدف دے دیتے ہیں’۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ فوج کے آپریشن کے بعد یہ گروپ محدود ہوگیا ہے اور ‘اب وہ ختم ہوگئے ہیں۔