بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت دھرنا شرکاء کیساتھ دوبارہ مذاکرات کیلئے تیار

حکومت دھرنا شرکاء کیساتھ دوبارہ مذاکرات کیلئے تیار


اسلام آباد۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت دھرنا شرکاء کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کیلئے تیار ہے، شہریوں کو تنگ کرنا بند نہ ہوا تو مجبوراً اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرنا پڑے گا۔ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے مگر کوئی بھی گروپ اگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے گا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے ذریعے پاکستان کو معاشی طور غیر مستحکم بنایا جا رہا ہے ، پاکستان دشمن عناصر دھرنے کو بنیاد بنا کر ملک کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے یہاں کی تصاویر استعمال کر تے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ختم نبوت ؐپر جتنا ایمان جبہ و دستار والوں کا ہے ، اتنا ہی یقین کامل جینز اور کوٹ پہننے والوں کا ہے، اس مسئلے پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ نے ختم نبوت ؐ کی ایسی مہر آئین پاکستان میں لگا دی ہے جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکتا ۔وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ پیر کو چین کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور اس موقع پر اسلام آباد میں دھرنا چینی حکام کو اچھا پیغام نہیں دے گا۔ ختم نبوت ؐپر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کے جذبات ابھارنے کے جھوٹے بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ ختم نبوتؐ پریقین مال اوراولادسے زیادہ عزیزہے، جب تک ختم نبوتؐ پریقین نہ ہوکوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ملک میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی وجہ سے تنازع کھڑاہوا اور جس ترمیم پرتنازع کھڑاہواوہ زاہدحامدیاحکومت نے نہیں کیا۔

اس ترمیم کو تمام سیاسی جماعتوں نے مل کرمرتب کیا۔احسن اقبال نے کہاکہ فیص آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے کی وجہ سے شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں اور جڑواں شہروں کے عوام دھرنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی وجہ سے ختم نبوت کا تنازع کھڑا ہوا، سینیٹ میں انتخابی اصلاحاتی بل پر ترمیم کی مسلم لیگ (ن) نے حمایت کی، وزیر قانون زاہد حامد نے حلف نامے کی بحالی کی سب سے پہلے حمایت کی اور پارلیمنٹ نے حلف نامے کو اصل شکل میں بحال کردیا جس کے بعد اس معاملے پر تنازع کھڑا کرنا بے بنیاد ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ دھرنے کے شرکا نے پنجاب حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اسلام آباد میں حالات خراب نہیں ہوں گے اور وہ ایک دو روز میں احتجاج رکارڈ کرا کر چلے جائیں گے تاہم دھرنے کے باعث ایک ہلاکت بھی ہوچکی ہے، عوام کو محصور کرنا نبی پاک ؐ کی تعلیمات کے منافی ہے جبکہ قوم میں نفرت پیدا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔