بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / نازک پرندے کیا کچھ کر سکتے ہیں؟

نازک پرندے کیا کچھ کر سکتے ہیں؟


کہا جاتا ہے کہ انسان نے پرندوں کو دیکھ کر ہی ہوائی جہاز تخلیق کیا تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی نازک پرندے اب لوہے سے بنے جہاز کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔

دنیا بھر میں سالانہ متعدد بار نازک پرندے مضبوط ترین جہازوں سے ٹکراتے ہیں، جس کے باعث پرندوں کو اگر کوئی نقصان نہ بھی پہنچے تو ہوائی جہازوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے۔

بعض مرتبہ تو صرف پرندے ٹکرانے کی وجہ سے جہاز کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑتی ہے، یا پھر پرندے کی جانب سے تھوڑا سا بھی نقصان پہنچائے جانے کی صورت میں اسے اڑان بھرنے کے لیے ہی غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔

نازک پرندے کیا کچھ کر سکتے ہیں، اس کا اندازہ 2 دن قبل منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں ایک نازک پرندے کو ایک جہاز کا ناک چیرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

جہاز کی ناک کو ایک پرندے نے اپنی نازک چونچ سے پھاڑ کر نہ صرف لوگوں کو حیران کردیا، بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی ہوائی جہاز کمپنیوں اور سول ایوی ایشن اداروں کے اہلکاروں کے لیے بھی ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجادی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی ورلڈ نیوز ناؤ‘ کی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پرندہ کس طرح ہوائی جہاز کے ناک کی چادر کو پھاڑ رہا ہے۔

—فوٹو: لوکل 10 نیوز
—فوٹو: لوکل 10 نیوز

رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میکسیکو سے پہنچنے والی امریکی ایئرلائن کی پرواز 1498 کو پرندوں نے اس وقت کاٹ کر نقصان پہنچایا، جب اسے زمین پر اترے چند منٹ ہی گزرے تھے۔

اگرچہ پرندوں کی جانب سے جہاز کو کاٹ کر کھانے کے واقعے سے کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا، تاہم ایئرلائن کو مرمت کے لیے بھیج دیا گیا، جس پر لاکھوں ڈالرز کے اخراجات آئے۔

تین دن قبل بھی برٹش ایئر ویز کے جہاز کو پرندوں کی وجہ سے اتار لیا گیا تھا—فوٹو: ایننجیا ڈاٹ کام
تین دن قبل بھی برٹش ایئر ویز کے جہاز کو پرندوں کی وجہ سے اتار لیا گیا تھا—فوٹو: ایننجیا ڈاٹ کام

اسی فلائیٹ کو میامی سے شکاگو جانا تھا، تاہم اسے مرمت کے لیے بھیجا گیا، جس کے باعث یہ جہاز 10 گھنٹے کی تاخیر سے اپنی دوسری منزل پر پہنچا۔

لیکن پرندوں کی جانب سے امریکی ایئرلائن پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی اوکلوہاما جانے والی ایک فلائیٹ پر پرندوں نے حملہ کردیا تھا۔

گزشتہ برس اپریل میں بھی پرندوں کے ٹکرانے کے باعث ڈلاس سے اڑان بھرنے والی ایئرلائن کو 30 منٹ بعد واپس ایئر پورٹ پر اتار دیا گیا تھا.

امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ادارے کی 2016 کی ایک رپورٹ مطابق امریکا بھر میں 1990 سے 2015 تک پرندوں نے جہازوں پر ایک لاکھ 60 ہزار 894 بار حملہ کیا، یا وہ حادثاتی طور پر جہازوں سے ٹکرائے۔

پرندوں کے باعث ہونے والے حادثات سے ایوی ایشن کو سالانہ 90 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے—فوٹو: ایوی ایشن وائس
پرندوں کے باعث ہونے والے حادثات سے ایوی ایشن کو سالانہ 90 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے—فوٹو: ایوی ایشن وائس

نازک پرندوں کی جانب سے طاقتور ترین جہازوں سے ٹکرانے کے باعث امریکا کو سالانہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ( پاکستانی ایک کھرب 20 ارب سے زائد) کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

امریکی ایئرلائنز پر پرندے سب سے زیادہ جولائی سے اکتوبر کے دورانیے میں حملہ کرتے ہیں۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق پرندوں کے ٹکرانے کے باعث دنیا بھر میں 1988 سے 2015 تک ہونے والے مختلف ہوائی حادثا میں کم سے کم 255 افراد بھی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب تین دن قبل ہی انٹرنیٹ پر برٹش ایئر ویز کے ایک طیارے کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھیں، تصاویر میں سیکڑوں پرندوں کو پرواز کے گرد دیکھا جاسکتا ہے۔

پہلا خطرناک حادثہ 1960 میں پیش آیا—فوٹو: ایوی ایشن وائس
پہلا خطرناک حادثہ 1960 میں پیش آیا—فوٹو: ایوی ایشن وائس

خبریں تھیں کہ چین جانے والے برٹش ایئرویز کے طیارے کو پرندوں کے حملے کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی تھی، تاہم یہ خبر معروف برطانوی نشریاتی اداروں نے نہیں دی۔

ادھر ایوی ایشن سے متعق معلومات اور خبریں شائع کرنے والے ادارے ایوی ایشن وائس کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں پرندوں کے جہاز سے ٹکرانے کا پہلا واقعہ 1905 میں پیش آیا، اور ایسے ہی واقعات میں ایوی ایشن انڈسٹری کو سالانہ 90 کروڑ امریکی ڈالر (پاکستانی 90 ارب سے زائد) کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق پرندوں کی وجہ سے سب سے پہلا نامناسب واقعہ 1912 میں پیش آیا، پرندوں کے باعث سب سے خطرناک حادثہ 1960 میں الیکٹرا نامی ایئرلائن کی پرواز کو پیش آیا، جس نے امریکی شہر بوسٹن کے قریب واقع لوگان ایئرپورٹ سے اڑان بھری تھی، اس حادثے میں 60 افراد ہلاک ہوئے۔

پرندوں کے ٹکرانے کا پہلا واقعہ 1905 میں پیش آیا—فوٹو: ایوی ایشن وائس
پرندوں کے ٹکرانے کا پہلا واقعہ 1905 میں پیش آیا—فوٹو: ایوی ایشن وائس