بریکنگ نیوز
Home / کالم / نقاب پوشوں کے جشن کی رات

نقاب پوشوں کے جشن کی رات


منتشر ہوچکے سوویت یونین کے زمانوں میں 1958ء کے زمانوں میں ماسکو میں ایک یوتھ فیسٹیول منعقد کیا گیاتاکہ دنیا بھر کے نوجوانوں کو مدعو کر کے انہیں کمیونسٹ نظام کی’ برکتوں‘سے روشناس کروایا جائے اور میں بھی اس فیسٹیول میں برطانوی وفد کے ایک ممبر کی حیثیت میں شامل ہوا… فیسٹیول کے آخری روز روسیوں کے سب سے مقدس مقام کراسنایا پلوشٹ یعنی ریڈسکوائر میں ایک عظیم جشن کا اہتمام ہوا جس میں شریک لوگوں کے چہرے مختلف نقابوں میں پوشیدہ تھے… وہاںآتش بازی کی بھڑک اور شعلہ گری تھی‘ موسیقی کی دھنیں بکھرتی تھیں جن میں سب سے پسندیدہ ’’آوارہ ہوں‘‘ تھی…تین نقاب پوش لڑکیوں نے مجھے اپنے اجتماعی رقص میں شامل کرلیا اور گئی رات میں ان میں سے ایک لڑکی کو اس کے گھر چھوڑنے گیا اور میرے اصرار کرنے کے باوجود رخصت ہونے تک اس نے اپنا نقاب نہ اتارا… میں اسکی شکل سے آشنا نہ ہوا… ایک مدت کے بعد میں نے اس تجربے کی بنیاد پر ایک افسانہ ’’ جشن کی رات‘‘ لکھا جو اوراق میں شائع ہوا… ڈاکٹر وزیر آغا کو یہ افسانہ بہت انوکھا اور موثر لگا اور انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اسے باآسانی ایک خوبصورت ناولٹ میں ڈھالا جا سکتا ہے‘ چنانچہ میں نے اس کہانی کو ناولٹ کا روپ دیا اور اسکا نام’’ فاختہ‘‘ رکھا… یہ شاید 1974ء کے لگ بھگ کا قصہ ہے… میں ادب میں ایک بے سہارا نووارد تھا لیکن’’ فاختہ‘‘ نے گویا مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا… احمد ندیم قاسمی نے اسے ایک شاہکار قرار دیا… یہ ایک مختلف نوعیت کا غیر ملکی پس منظر رکھنے والا ناولٹ تھا‘ قاسمی صاحب نے میرا حوصلہ بڑھانے کی خاطر میری ہمت بندھائی تھی اور میں جانتا تھا کہ یہ شاہکار وغیرہ تو نہیں ہے‘ بہرطور میرا دل یقیناًباغ باغ وغیرہ ہوگیا…

فاختہ ایک علامتی ناولٹ تھا جس میں جشن کی رات میں لوگ مختلف نقاب پہنے ہوئے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں… مثلاً ہاتھی نقاب بھارت کا ہے‘ عقاب‘ امریکہ‘ ریچھ سوویت یونین‘ اونٹ عرب ہے… افریقہ بن مانس ہے اور خرگوش تیسری دنیا کی بے چارگی کی علامت ہے…اور ان کے درمیان امن کی فاختہ پریشان حال ہے… اس ناولٹ کے لکھنے کے دوران مجھے ایک عجیب سا تجربہ ہوا… ایک مقام پر پہنچ کر یکدم اسکی کہانی کو آگے بڑھانے کا امکان ختم ہوگیا‘ میں ایک اندھی گلی میں داخل ہوگیا اور آگے کوئی راستہ نہ تھا… اسے آپ ایک ’’ رائٹرز بلاک‘‘ کہہ سکتے ہیں‘ یعنی روڈ بلاک ہوگئی… یہ مارچ کے دن تھے اور میلہ چراغاں کے دن تھے‘ میں نے ایک پوری رات ایک الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے شاہ حسین کے شیدائی فقیروں اور ملنگوں کیساتھ بسر کی…گویا انکے ہمراہ عارضی طور پر میں ایک ملنگ بابا ہوگیا… مجھے یاد ہے کہ وہ بھنگ گھوٹتے ہوئے یہ نعرہ لگاتے تھے کہ… دنیں گھوٹیاں تے راتی پیتیاں‘ لوکی کہندے مرگئے نیں‘ اساں اللہ نال گلاں کیتیاں… یعنی ہم دن کے وقت بھنگ گھوٹتے ہیں اور رات کو پیتے ہیں‘ لوگ ہمیں دیکھ کرکہتے ہیں کہ یہ مرگئے ہیں جبکہ ہم تو اللہ سے باتیں کرتے ہیں… بعد میں مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اللہ میاں سے باتیں کرنے کا ایک نادر موقع کھودیا…دو گھونٹ بھرلیتے تو ہم بھی گفتگو کر لیتے… بہرطور اس شبینہ تجربے نے مجھے ناولٹ کو آگے بڑھانے کا راستہ سمجھا دیا…

مجھ سے پوچھا تو جاسکتا ہے کہ آخر اتنے عرصے کے بعد مجھے نقاب پوشوں کا وہ جشن کیوں یاد آرہا ہے… کیوں یاد آرہے ہیں گزرے ہوئے زمانے… کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان دنوں پھر میرے آس پاس ایک جشن برپا ہے جس میں شامل لوگوں نے نقابوں میں اپنے چہرے پوشیدہ کر رکھے ہیں اور میں مارا مارا پھرتا ہوں‘ یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آخر اس شیر کے نقاب کے پیچھے کون ہے‘ اس لومڑ یا گدھ کے نقاب کے پیچھے کس کا چہرہ ہے… ویسے تو برازیل میں بھی نقاب پوشوں کا ایک جشن ہرسال برپا ہوتا ہے… اطالیہ کے آبی شہر وینس میں بھی ہزاروں لوگ ایک ایسے میلے میں شریک ہوتے ہیں جہاں ہر چہرہ ایک نقاب میں پوشیدہ ہے… آپکو کچھ علم نہیں کہ آپ جس’’ تتلی‘‘ یا ہولناک عفریت کیساتھ رقص کر رہے ہیں اسکے پیچھے جو چہرہ ہے‘ وہ پرکشش اور دل کو گرفتار کرنے والا ہے یا کوئی دل آزار چہرہ ہے… پاکستان میں تو کم از کم ایسی کوئی روایت نہ تھی تو پھر کیوں مجھے ہی احساس ہو رہا ہے کہ میرے اردگرد جتنے بھی لوگ ہیں‘ سب کے سب نقاب پوش ہیں… نقاب یا تو اپنا حسن‘ اپنی بدصورتی چھپانے کیلئے اوڑھے جاتے ہیں یا پھر کسی بینک کو لوٹنے کیلئے… مجھے ایک اور نقاب بری طرح یادآرہا ہے جو کبھی میں نے پہنا تھا اور میری خالہ جان ڈرگئی تھیں… چھوٹی خالہ جان نصیر بیگم ان دنوں راجہ بازار راولپنڈی کے نواح میں واقع ایک ایسے محلے میں رہا کرتی تھیں‘ جس کے بیشتر مکان حویلی نما تھے‘ نہایت کھلے اور خوش نظر تھے اور سب کے سب ان ہندوؤں کی ملکیت تھے جو انہیں ہم مسلمانوں کیلئے چھوڑ کر بخوشی ہندوستان چلے گئے تھے‘ اور ان میں اداکار اور کمیونسٹ بلراج ساہنی بھی تھا جو تقسیم کے کچھ عرصہ بعد راولپنڈی آیا اور اپنے آبائی مکان کی چوکھٹ پر سجدہ کرتے ہوئے رونے لگا تھا… میں شاید ان دنوں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا… میں اپنے خالہ زاد بھائی ساجد نذیر کو جو بمشکل ایک برس کا تھا کھلاتا رہتا اور پھر بور ہو کر گھر سے نکل جاتا… شاید یہ راجہ بازار ہی تھا اور ان دنوں ویران بہت تھا‘ وہاں ایک عجائب خانہ ایک پراسرار اور نیم تاریک دوکان تھی جسکی جانب میں کھینچا چلا جاتا اور وہ عجائب خانہ یوں تھی کہ اسکے اندر تھیٹر میں کام کرنیوالے اداکاروں کیلئے ہر نوعیت اور ہر عہد کی پوشاکیں سجی تھیں اور وہ سینکڑوں کی تعداد میں تھیں‘ بادشاہوں کے زرق برق پہناوے‘ تلواریں‘ ڈھالیں‘ فقیروں کے لبادے‘ انگریز صاحب بہادر کے سوٹ اور سولاہیٹ‘جوگیوں کے چوغے‘ مسخروں یعنی جوکروں کے رنگین پیراہن‘ زریں تاج‘ پگڑیاں‘ ترکی ٹوپیاں‘ لکھنوی لبادے اور جانے کیا کیا… مجھے گمان ہے کہ ان دنوں سے ذرا پہلے پاکستان کے وجود سے پہلے راولپنڈی میں تھیٹر کی روایت بہت توانا ہوگی‘ سکولوں اور کالجوں میں بھی ڈرامے پر فارم ہوتے ہونگے اور یہ پراسرار دکان اسی روایت کا ایک حصہ تھی…