بریکنگ نیوز
Home / کالم / بچاؤاب مشکل ہے

بچاؤاب مشکل ہے


بعض وکلاء کرام کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں اس قسم کی درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں کہ پی پی پی ‘ (ن)لیگ اور دیگرتمام سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ رہنماؤں نے بیرون ملک بینکوں میں جو پیسہ رکھا ہوا ہے یا پراپرٹی خریدی ہوئی ہے وہ سب اپنا مال اسباب واپس پاکستان لائیں ظاہر ہے کہ اس قسم کے تقریباًتمام سیاسی رہنما اب پھنسیں گے کیونکہ پہلے مرحلے میں انکو ان عدالتوں کے سامنے بیرون ملک اپنے اثاثوں کی تفصیل بتلانا ہو گی جس سے انکی پارسائی کا بھانڈا پھوٹنے کا ان کو خطرہ ہو گا اور اگروہ جھوٹ بولتے ہیںیا غلط بیانی کرتے ہیں اور اپنے ذاتی اثاثے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تو تب بھی گھیرے جائیں گے اور صادق نہیں رہیں گے غرضیکہ انکی بچت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اسی طرح اعلیٰ عدالتوں میں اس نوع کی درخواستیں بھی سول سوسائٹی کی طرف سے دائر کر دی گئی ہیں کہ اس قسم کے سیاسی رہنماؤں کو ای سی ایل پر ڈالا جائے کہ بیماری یا کسی اور بہانے سے ان کے ملک سے بھاگ جانے کا خطرہ ہے اس بات میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ حکومت کھینچ تان کراگلے سال اپریل تک ہر صورت میں اقتدار میں رہنا چاہتی ہے تاکہ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن میں وہ وافر نشستیں جیت کر ایوان بالا میں بھی اپنی اکثریت بناسکے لیکن مارچ 2018ء ابھی دور ہے کیا خبر اس سے پہلے ہی ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل جائے اگر عدالتیں اس سرعت کیساتھ کام کرتی رہیں تو کئی اراکین پارلیمنٹ اپنی سیٹوں سے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ سزا پانے کے بعد وہ نہ گھر کے رہیں اور نہ گھاٹ کے‘ انسان کچھ سوچتا ہے اور خدا کو کچھ اور منظور ہوتا ہے سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ حکومت حماقت کا دوسرا نام ہے ۔

اس مقولے کی صداقت کا اکثر مظاہرہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے حکومت جب بھی کوئی نئی قانون سازی کرتی ہے یا کسی موجودہ قانون میں کوئی ترمیم کرتی ہے تو اسے مختلف آئینی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے پارلیمان کی سلیکٹ کمیٹی میں پہلے نئے قانون یا کسی بھی ترمیم کے مندرجات پر بحث ہوتی ہے Punctuations یعنی اوقافی علامات کو باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے یہی عمل بعد میں کابینہ میں بھی ہوتا ہے پھر منظوری کے بعد کہیں جا کر نیا بل یا کسی قانون میں ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی کے سامنے حتمی منظوری کیلئے پیش کیا جاتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ختم نبوت کے متعلق قومی اسمبلی میں جو متنازعہ ترمیم قومی اسمبلی کے فلور تک پہنچی وہ ان سب مراحل سے کیسے گزر گئی اسے ڈرافٹ کرنے والوں سے لیکر راستے میں مختلف فورمز پر اسے پاس کرنے والے کون تھے ؟انکے نام آشکارا کئے جائیں وہ سب دانستہ یاغیر دانستہ طور پر اس غلطی یا حماقت کے ذمہ دار ہیں کہ جس کی وجہ سے اس ترمیم پر قومی حلقوں میں شوروغوغا اٹھا اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور جسے بعد میں جب حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اسے اس ترمیم کو واپس لینا پڑایا تو متعلقہ لوگوں کی یہ غفلت تھی یا پھر انکی دانستہ کوشش‘ دونوں صورتوں میں وہ قابل گردن زدنی ہیں ایک تو حکومتیں جب بھی کوئی غلطی کرتے پکڑی جائیں تو وہ عوام سے اپنی غلطی چھپاتی ہیں کدھر گیا وہ رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون ؟ عوام کو کیوں کھل کر نہیں بتایا جا رہا کہ آخر محولا بالا غلطی کا ارتکاب کس نے کیا ہے ؟ ادھر امریکی حکومت کے جاری کردہ ایک مراسلہ کی جو تفصیل الیکٹرانک میڈیا نے لیک کی ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اس مراسلے میں حکومت پاکستان کو توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کو کہا تھا ان تمام واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور تھا بغیر اوپر سے ارباب بست وکشاد کے اشارہ کے اتنا بڑا قدم کوئی اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا اب حکومت چونکہ پکڑ ی گئی ہے اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس بھنورسے وہ اپنے آپ کو کس طرح باہر نکالے۔