بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / چوری :سینہ زوری!

چوری :سینہ زوری!


پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑے دکھوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف اور صرف تھکی ہوئی مسافر گاڑیوں میں سوار عام آدمی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ انہی میں دہشت گردوں سے لیکر منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ مرغیوں کی طرح ڈبوں میں بند‘ کسی گاڑی کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا ایک الگ سا معمول بن گیا ہے‘بین الاضلائی راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی شکایات کو پانچ بنیادی درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مقررہ کرائے سے زیادہ وصول کیا جاتا ہے ‘ایسی گاڑیوں کا استعمال عام ہو رہا ہے جو ’ماحول دوست‘ نہیں اور جن میں مسافروں کو دی جانے والی نشستیں نہ تو آرام دہ ہیں اور نہ ہی خواتین‘ بچوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے زیادہ موزوں ہیں‘ گاڑیوں کو سی این جی سے چلانے کے باوجود بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے‘ ٹرانسپورٹر مسافروں سے صرف زائد کرایہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ انکا رویہ اِنتہاء درجے کا مغرور اور ہتک آمیز بھی ہوتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کے پاس چونکہ کوئی متبادل (option) ہی نہیں اِس لئے وہ برا نہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کریں گے تو کس سے اُور اگر انصاف چاہیں گے تو کون ہے جو عام آدمی کی فریاد جانب توجہ فرمائے۔

بنیادی سوال یہی ہے کہ حاجی کیمپ‘ پشاور بس ٹرمینل‘ چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ جیسے بڑے بس اَڈوں کے اصل حاکم کون ہیں؟ حکومتی اِدارے ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں فعال لیکن عام آدمی کی مشکلات اور درپیش مسائل کے بارے فکرمند کون ہے؟ پشاورسے چلنے والی مسافر گاڑیوں کی کل تعداد پندرہ سے سولہ ہزار بتائی جاتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے مذکورہ نظام کو قواعد و ضوابط کا پابند رکھنے کے لئے پشاور میں 23 چھوٹے بڑے اَڈے بنائے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک (پشاور بس ٹرمینل) ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ جبکہ باقی ماندہ کا نظم و نسق اور جملہ انتظامات ہر ضلع کی طرح پشاور کی مقامی حکومت کے پاس ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بظاہر سیدھے سادے لیکن اِس پیچیدہ نظام کا ایک اور اعلیٰ و بالا نگران ادارہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی ہے جسکے مذکورہ سات ڈویژنز میں الگ الگ دفاتر ہیں اور انہیں ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹیز کہا جاتا ہے۔آرٹی اے پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے راستوں کے انتخاب ان راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں کے اجرا‘ اور فی مسافر شرح کرائے کا تعین کرتی ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی کسی بھی گاڑی کوروٹ پرمٹ جاری کرنے کیلئے بنیادی طور پر چار روٹس بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جنکی درجہ بندی انگریزی حروف تہجی ’اے‘ بی اور سی‘ سے کرتے ہوئے ’اے‘ نامی روٹ پرمٹ ان گاڑیوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی رجسٹریشن کی تاریخ 9 سال تک ہو۔ ’بی‘ نامی روٹ پرمٹ 11 سال تک کی رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیوں جبکہ ’سی‘ نامی کیٹگری کے لئے ’عمر کی کوئی قید نہیں‘ بس گاڑی کا فٹ ہونا ضروری ہے اور یہ روٹ پرمٹ عموماً دیہی علاقوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو جاری کئے جاتے ہیں! ’آر ٹی اے‘ افرادی قوت اور مالی وسائل نہیں رکھتی اور اسے زیادہ کرائے وصول کرنے اور گنجائش سے زیادہ مسافروں جیسی شکایت سے نمٹنے کے لئے ٹریفک پولیس کے تعاون ضرورت پڑتی ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں کہ جسے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے مسائل کیلئے ذمہ دار قرار دیا جائے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شکایات کے بارے میں ’ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاورکے سیکرٹری محمد ندیم اختر کہتے ہیں کہ ’اُن کے پاس قانون و قواعد کے اطلاق کیلئے درکار افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کی جانچ پڑتال کیلئے تین افراد پر مشتمل ٹیم دفتری اوقات مخصوص ہے جسکی 23 مقامات پر بیک وقت موجودگی ممکن نہیں۔ آر ٹی اَے حکام ٹریفک پولیس کے محتاج رہتے ہیں‘ جن کی افرادی قوت کیساتھ مل کر گشتی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ اِکا دُکا گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے استفسار کیا جاتا ہے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے علاوہ اضافی کرایہ واپس دلایا جاتا ہے۔‘ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن بس اڈوں میں کھلے عام اضافی کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور جہاں سے لوڈ ہو کر گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں آرٹی اے حکام کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی‘ حالانکہ سڑکوں کی خاک چھان کی بجائے کرائے ناموں پر حسب شرح کا اطلاق اور عملاً قواعد پر باآسانی عمل درآمد بس ٹرمینلز میں ممکن ہے! یہ امر قطعی تعجب خیز نہیں ہوگا کہ پشاور سمیت ہر ضلع میں ’آر ٹی اے‘ اہلکار اور نجی ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے عام آدمی کو لوٹنے کا سلسلہ تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں بھی پوری ’سینہ زوری‘ سے جاری ہے۔