بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین امریکہ اوردنیا کا مستقبل !

چین امریکہ اوردنیا کا مستقبل !


کیا پاکستان نے اس بات کی تیاری اور مکمل جانکاری حاصل کر لی ہے کہ رواں صدی کے مستقبل کا انحصار بڑے پیمانے پر ایک ابھرتے ہوئے چین اور ایک مخاصمت سے بھرپور امریکہ کے مابین تعلقات پر ہوگا۔چین اب تک پرامن طریقے سے ابھرا ہے‘ چالیس سال کے عرصے میں امریکہ اور چین نے باہمی انحصار پر مشتمل معاشی اور ایک کافی حد تک تعاون پر مشتمل سیاسی رشتہ قائم رکھا ہے۔ ژی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دو ملاقاتوں کے مثبت اشاروں سے امید پیدا ہوتی ہے کہ امریکہ اور چین تصادم کی راہ اختیار نہیں کرینگے‘ اپنی مہم میں چین کا مذاق اڑانے اور ’ایک چین‘ پالیسی سے ہٹنے کا اعلان کرنے کے باوجود ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد خود کو اِن چیزوں سے باز رکھا ہے اس کے بجائے انہوں نے شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کیلئے چینی تعاون حاصل کرنے پر توجہ دی ہے اور امریکہ و چین کے مابین تجارتی عدم توازن کو بھی متوازن کرنے کی کوشش کی ہے اگر مختصر مدت میں یہ مقاصد حاصل نہ ہوئے تو ٹرمپ کو مایوسی ہوسکتی ہے‘ اس سے تصادم کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے۔ خاص طور پر تب جب ان کے ’سمجھدار‘ مشیر مثلاً سیکرٹری دفاع جیمز میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن چین کو حلیف کے بجائے حریف کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہوں نے چین کے اثر و رسوخ کو روکنے اور ضرورت پڑنے پر اسکا سامنا کرنے کی پالیسیوں کے خدوخال بھی بنا لئے ہیں۔ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکہ کو کئی فوائد حاصل ہیں کہ جن میں امریکی ڈالر اب بھی دنیا کی زرِمبادلہ کی کرنسی ہے‘۔

امریکہ اگر دنیا کی مالیاتی منڈیوں اور اداروں کو کنٹرول نہیں کرتا تب بھی اس کا ان پر بہت اثر و رسوخ ہے‘ یہ کئی سپلائی چین نیٹ ورکس کے اوپر موجود ہے اور نت نئی چیزوں اور ٹیکنالوجیز کی ایجادات میں آگے ہے مگر امریکی معیشت میں طلب کم ہے کیونکہ لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوچکی ہیں اور آبادی میں اضافے کی شرح بہت سست ہے۔ امریکہ کے اندر پرانی ہوتی مشینری اور زیادہ اجرتوں کی وجہ سے پیداواری ملازمتیں دیگر ممالک میں منتقل ہوچکی ہیں‘ اب ان ملازمتوں کے واپس آنے کا امکان نہیں۔ معیشت کو زبردست مالیاتی امداد دیئے جانے کے باوجود امریکہ کی شرح نمو دو سے تین فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی ہے۔ چین کی ترقی برآمدات اور سرمایہ کاری کی وجہ سے اس قدر بڑھ پائی ہے اب چین کے اپنے اندر بڑھتی ہوئی اجرتوں اور مغرب کے تحفظ تجارت کی وجہ سے اسے بیرونی محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے مگر تجارتی انحصار ایک دو طرفہ سڑک ہے۔ چینی معیشت ترقی کرتی رہے گی کیونکہ تیس کروڑ چینی عوام اب غربت سے نکل کر چین کی وسیع ہوتی مڈل کلاس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں چنانچہ طلب میں اضافہ ہوگااس کے علاوہ تاریخی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں بھی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اس دوران چین ایک ایسا مالیاتی نظام بنا رہا ہے جو بالآخر امریکہ کے زیر غلبہ چلنے والے مالیاتی نظام کو چیلنج کر سکتا ہے اور یہ جدید ترین ٹیکنالوجیزمیں بھی ہر سطح پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کو اب بھی چین پر عسکری اعتبار سے خاصی برتری حاصل ہے اس کا چھ سو ارب ڈالر کا عسکری بجٹ چین کے بجٹ سے چار گنا زیادہ ہے امریکہ کے پاس جدید ترین اسلحہ سسٹمز اور جنگ لڑنے کے طریقے موجود ہیں۔ اس نے عسکری اعتبار سے اہم ریاستوں کیساتھ رسمی اور غیر رسمی عسکری اتحاد قائم کر رکھے ہیں جن میں سے ایشیاء کی سب سے بڑی قوتیں جاپان و بھارت اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں امریکا بحیرۂ جنوبی چین میں چین کے بحری تنازعات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہے گا اور چین کے اردگرد مضبوط اتحاد بناتا رہے گا تاکہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے مگر چین امریکہ کو حاصل عسکری برتری کا سامنا کرنے یا اسے ناکارہ بنانے کیلئے اپنی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔

پہلی بات‘ بھلے ہی چین کا دفاعی بجٹ کم ہو‘ پھر بھی یہ کم پیسوں میں بڑا دھماکہ کر سکتا ہے کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان قیمتوں میں بہت فرق ہے دوسری بات‘ صدر ژی جن پنگ کی رہنمائی میں پیپلز لبریشن آرمی کو ایک تکنیکی اعتبار سے جدید فوج میں بدلا جا رہا ہے چین عسکری تحقیق پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کر رہا ہے اس نے جن اسلحہ سسٹمز کی نمائش کی ہے ان میں سے کچھ نے تو مغربی عسکری مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ چین کا واحد سٹریٹجک اور عسکری حلیف اس وقت پاکستان ہے‘ مگر چین کافی حد تک امریکہ اوراتحادیوں کی بحر ہند و کاہل میں بحری برتری کو پورے یوروایشیاء میں پھیلے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے نیچا دکھا سکتا ہے‘ سب سے اہم بات یہ کہ چین اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک رقابت کے نتائج کا انحصار انکے اپنے اپنے نظام ہائے حکومت کے استحکام اور قابل اعتبار ہونے پر ہوگا۔ چین کی سوشلسٹ جمہوریت کو اب حکومت کے سب سے مؤثر نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا سیاسی نظام شکستہ‘ تقسیم اور بدعنوان محسوس ہوتا ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: منیر اکرم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)