بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / متحد ہ مجلس عمل کی بحالی

متحد ہ مجلس عمل کی بحالی


جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرمنصورہ لاہور میں ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے سٹیئرنگ کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں ایم ایم اے کی بحالی پر اصولی اتفاق اور اس ضمن میں باقاعدہ اعلان اگلے مہینے کراچی میں جمعیت العلماء پاکستان کے سربراہ علامہ انس نورانی کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں کئے جانے والے فیصلے کو پر نٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تو وہ کوریج اور اہمیت نہیں ملی جو پنجاب اور کراچی میں ہونیوالے کسی بھی معمولی واقعے یاخبر کو ملتی ہے البتہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خوب زور وشور سے نہ صرف بحث جاری ہے بلکہ اسکی بحالی کی حمایت اور مخالفت میں دونوں جانب سے زمین آسمان کے قلابے بھی خوب ملائے جارہے ہیں‘ ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے جاری بحث میں جہاں ایم ایم اے کی اے این پی اور پیپلز پارٹی جیسی روایتی مخالف سیاسی قوتیں اور انکے ہمدرد تنقید کے نشتر چلارہے ہیں وہاں جمعیت کی مخالفت میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی توپوں کا رخ بھی ایم ایم اے کی ممکنہ بحالی کے خلاف زوروں پر ہے جبکہ تیسری جانب خود ایم ایم اے کی دو بڑی جماعتوں جمعیت( ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان بھی اگر ایک جانب ماضی کے قصے چھیڑکر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

تو دوسری جانب یہ دونوں جماعتیں چونکہ قومی سطح پر دو متجارب سیاسی جماعتوں مسلم لیگ( ن) اور پی ٹی آئی کی بالترتیب وفاق اور خیبر پختونخوا میں اتحادی ہیں اس وجہ سے بھی ان دونوں جماعتوں کے کارکنا ن اور نچلی سطح کے عہدیداران کیلئے ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں مشکلا ت پیش آ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایم ایم اے بحا لی ہو بھی گئی تو کیا جمعیت (ف) اور جما عت اسلامی جیسی دو بڑ ی جما عتیں جو صوبے کے بعض علاقوں میں مخصوص اثر و رسوخ ر کھتی ہیں اور ان دونو ں جما عتوں کی اصل نظر یں چونکہ اپنی روا یتی نشستو ں کے علا وہ وسطی اضلاع اور ہزارہ کی بعض ممکنہ اضافی نشستوں میں زیا دہ سے زیا دہ حصہ حا صل کر نے پر مر کو ز ہیں لہٰذا ایسے میں ان کے لئے ایک دوسرے کیساتھ ساتھ دیگر چار چھوٹی جماعتوں کو اکاموڈیٹ کرنا ایم ایم اے کی قیادت کیلئے یقیناًسب سے بڑا چیلنج ہوگا ‘خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کے گراف کو دیکھتے ہوئے لگتا یہی ہے کہ اگر ایم ایم اے واقعی بحا ل ہو جاتی ہے توکم ازکم خیبر پختونخوا کی حد تک اس کا سب سے زیادہ اثر پی ٹی آئی پرہی پڑے گا اور پی ٹی آئی کو 2018 کے انتخا با ت میں اگر کسی سیا سی قوت کی جانب سے ٹف ٹا ئم ملے گا تو وہ یقیناًایم ایم اے کا اتحا د ہی ہو گا‘ ایم ایم اے اور پی ٹی آئی کے درمیان متوقع سخت مقا بلے کا اندازہ 2013 کے انتخا بی نتائج سے بھی لگا یا جا سکتا ہے جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی کم ازکم 18 نشستیں ایسی تھیں جن پر اگر جماعت اسلامی اور جمعیت (ف) کے ووٹ جمع ہو جاتے تو ان نشستوں پر ان دونوں جما عتوں کا ووٹ پی ٹی آئی کے فاتح قرار پا نیوالے امیدوار سے زیا دہ ہوکر یہ نشستیں ان دونوں جماعتوں کے حصے میں آ سکتی تھیں لیکن چونکہ یہ اتحاد نہیں بن سکا تھا اس لئے اس کا فائدہ پی ٹی آئی کے حصے میں آیا اور وہ یہاں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ۔

دوسری جانب ایم ایم اے کی بحالی سے خیبر پختونخوا میں ویسے تو تمام ہی روایتی جماعتوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہو گئے ہیں لیکن اب تک اس ضمن میں جو ردعمل پیپلز پارٹی‘اے این پی اور مسلم لیگ(ن) کی جانب سے آیا ہے اسکو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایم ایم اے میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے گلے شکوے دور کرکے باہمی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں کوئی بڑا بریک تھرو نہ کر سکیں‘ایم ایم اے کی بحالی کی صورت میں لگتا یہی ہے کہ اسکا راستہ روکنے اور اپنی کامیابی کا راستہ ہموار کرنے کیلئے پیپلزپارٹی اور اے این پی جیسی ماضی کی اتحادی جماعتوں کو ایک بار پھر اتحاد یا پھر سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا سہارا لینا پڑے گا تب ہی وہ ایم ایم اے کے ووٹ بینک کا مقابلہ کر سکیں گی ۔

اس تجزیئے کی روشنی میں کہا جا سکتاہے کہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے ایک بار پھر کسی بھی جماعت کیلئے تن تنہا حکومت سازی کیلئے اکثریت حاصل کرناچونکہ ممکن نہیں ہوگالہٰذا ایسے میں ایم ایم اے کی اہمیت کا بڑھنالازمی امر قرار پائیگا‘ حرف آخر یہ کہ ان تمام تر خدشات اور تحفظات کے باوجود اگر ایم ایم اے اپنی پرانی حیثیت میں بحال ہوگئی تو آنیوالے عام انتخابات میں دیگر جماعتوں کیلئے اسے پچھاڑنا آسان نہیں ہوگا ‘اسی طرح ایم ایم اے میں شامل جماعتیں بھی چونکہ 2002کے کامیاب تجربے کے بعد 2008 اور 2013کے تلخ انتخابی نتائج کا واضح فرق دیکھ چکی ہیں اسلئے ان کیلئے بھی اپنی سیاسی بقاء کیلئے ایم ایم اے کی بحالی اورمنتشر ووٹ بینک کو اکھٹاکرنے کے سوا کامیابی کا اور کوئی آپشن نہیں ہے۔