بریکنگ نیوز
Home / کالم / زمین کازیور

زمین کازیور


ہمیں چھوٹی جماعتوں میں پڑھایا جاتا تھا کہ بارشیں ہماری فصلوں کیلئے بہت ضروری ہیں اسلئے کہ ہمارے ملک میں زیادہ آبادی بارانی علاقوں میں رہتی ہے اس لئے ان کے فصلوں کے لئے بارش کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جب بھی بارشیں وقت پر نہ ہوں تو ہمارے ہاں گندم یا مکئی کی فصلیں بھی متاثر ہوتی ہیں‘ اس کے لئے ہم بارشوں کے لئے زاری زار بھی کرتے تھے اور نماز استسقا کا بھی بندوبست ہوتا تھا۔نہری علاقوں کی بات الگ ہے کہ وہاں تو پانی دستیاب ہوتا ہے اور فصلوں کو اتنا نقصان نہیں ہوتا مگر بارشیں اگر وقت پر نہ ہوں تو نہروں میں بھی پانی کم ہو جاتا ہے جس سے نہری علاقوں میں بھی فصلوں کے لئے پانی کی کمی محسوس کی جاتی ہے اور بارشوں کے لئے ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ پہاڑوں پر درختوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جنگلات ہی پہاڑوں پر بارش کا سبب بنتے ہیں جب تربیلا اور منگلا ڈیم بنے تو ان کو مٹی سے بچانے کیلئے ایک پورا محکمہ بنایا گیا جسکا کام ہی یہ تھا کہ وہ دریائے سندھ اور جہلم میں پانی لانے والے دریاؤں اور ندیوں کے اردگرد جنگلات اگائیں تاکہ بارشوں میں پانی کے ساتھ مٹی شامل نہ ہو سکے اس لئے کہ درختوں کی یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کی مٹی کی بھی حفاظت کرتے ہیں اور اگر اس مٹی کا پانی میں ملنا نہ روکا گیا تو ڈیموں کی زندگی میں کمی ہو جائے گی جب تک ایوب خان کا دور حکومت رہا ہمارے جنگلوں کی حفاظت کا خاص خیال رکھا گیا۔

اس کے بعد جو جمہوری حکومتیں آئیں ان میں ایسے لوگ اسمبلیوں میں چلے گئے کہ جن کا کاروبار ہی لکڑی کی تجارت تھاان لوگوں نے اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزارہ دیر اور سوات کے جنگلات میں بے دریغ کٹائی کی یہاں تک کہ جہاں جنگل میں ایک فرلانگ کے بعد کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا وہاں میلوں تک کوئی درخت ڈھونڈ نا بھی دشوار ہو گیا۔اس سے یہ ہوا کہ پہاڑوں سے مٹی بہہ بہہ کر ڈیموں میں بھرنے لگی اور آج تربیلا ڈیم میں پانی کی گنجائش پہلے سے بہت کم ہو گئی ہے اگر جنگل کی کٹائی کی یہی صورت رہتی تو بہت جلد ہزارہ سوات دیر اور چترال کے جنگلات نے ختم ہی ہو جاناتھا۔ مگر اللہ نے ہمیں ایک ایسی حکومت دی کہ جس نے اس بات کا ادراک کیا اور جنگلات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے اجاگر کیاا ور درختوں کی کٹائی بند کروا کر نئے درخت لگانے کی مہم کو زور و شور سے آگے بڑھایا اور ہزاروں لاکھوں درخت پورے صوبے میں لگائے بھی اور ان کے لگانے کی ترغیب بھی دی۔جس سے اب پھر سے ہمارے صوبے میں جنگلات کے فروغ کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے اور اگر یہ صورتحال کچھ مدت کے لئے رہتی ہے یعنی کہ درخت اگائے جائیں اور کاٹے نہ جائیں تو امید کی جاتی ہے کہ اگلے پانچ دس برس میں جنگلات کی وہی صورت ہو جائے گی جو پاکستان کے بنتے وقت تھی اور اس کے بعد بھی اُس وقت تک رہی کہ جب تک جنگل کاٹنے والے حکومت میں نہیں آئے تھے۔

ا ب موجودہ کے پی کے حکومت نے جو اقدام اٹھائے ہیں اگر آنے والی حکومتیں بھی اس پر سختی سے عمل کریں تو امید ہے کہ نہ ہم سے بارشیں روٹھیں گی اور نہ یہ آلودگی جس کا شکار آج کل جنوبی ایشیا ہے ۔ اس لئے کہ فضائی آلودگی کو ختم کرنے میں بھی یہ درخت اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے کہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خاتمہ اور آکسیجن کی افزائش بھی ان درختوں ہی کے فرائض میں شامل ہے۔یو ں یہ ہمارے لئے ہر طرح سے فائدے کی چیز ہے‘ہم امید کرتے ہیں کہ نہ صرف کے پی حکومت بلکہ سارے صوبوں کی حکومتیں کے پی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنگلات کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی اور اپنے ہر علاقے میں جنگلات اگانے کے مہم جاری کریں گی‘ اگر ہم راولپنڈی سے مری کا سفر کریں تو جنگلات کی جو صورت حال بیس تیس سال پہلے تھے وہ اب نہیں ہے۔ جہاں مری کے پہاڑ شروع ہوتے ہی جنگلات کا ایک سلسلہ نظر آتا تھا اور ان جنگلات سے گندہ بیروزہ حاصل کرنے کے لئے جو گلاس چیڑھ کے درختوں سے لگے ہوتے تھے وہ اب کہیں نہیں دکھتے۔ اس لئے کہ اب وہ چیڑھ کے درخت ہی پہاڑوں سے غائب ہو چکے ہیں‘ مرکزی حکومت کو بھی اس طرف دھیان دینا ہو گا اس لئے کہ اسلام آباد سے بھی درختوں کا خاتمہ کیا جا رہاہے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں اور جس طرح آبادی میں اضافے کے ساتھ نئے نئے شہر اور کالونیاں آباد ہو رہی ہیں یہ بھی درختوں کے ساتھ دشمنی ہو رہی ہے۔