بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلیے حکومت کے مظاہرین سے مذاکرات

اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلیے حکومت کے مظاہرین سے مذاکرات


اسلام آباد: فیض آباد میں دھرنا ختم کرنے کی عدالتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے باوجودحکومت شرکا کو مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کرانے کی کوشش کررہی ہے۔

وزیرداخلہ احسن اقبال کی مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعہ دھرنا ختم کرانے کی آخری کوشش جاری ہے۔ احسن اقبال نے انتظامیہ کو آپریشن 24 گھنٹے موخر کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ مذہبی رہنماوٴں اور مشائخ کرام سے دھرنا ختم کرانے میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ حکومت کے دھرنا مظاہرین کی قیادت سے بیک ڈوررابطے کام کرگئے ہیں اور تحریک لبیک کے رہنما حکومت سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے چیرمین سینٹیر راجہ ظفرالحق سے رابطہ کیا اور ان سے دھرنا ختم کروانے کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی جس پر راجہ ظفرالحق نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے شرکا وفاقی وزیر سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں ایسے حالات میں ان سے کیا مذاکرات ہوں گے۔

بعد ازاں وزیرداخلہ راجہ ظفرالحق کے گھر پہنچے اور انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے پر رضا مند کردیا جس کے بعد ختم نبوت ترمیم کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق کے گھر پر دھرنے کے شرکا سے مذاکرات جاری ہیں جس میں پیر گولڑہ شریف، پیر اعجاز شیرانی، ڈاکٹر شیفق امین، شیخ اظہر حسین اور معروف کاروباری شخصیت رفیق پردیسی شریک ہیں۔

وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے نام پر عوام کو تکلیف اورباہم خونریزی سے بچانا چاہیے، تحفظ ختم نبوت قانون پاس ہونا پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے، قیامت تک کوئی اس میں تبدیلی نہیں لا سکے گا اوراب دھرنے کا جوازنہیں رہا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پوری قوم کا حق ہے کہ بھائی چارہ اور امن کی فضا میں عید میلاد النبی پورے جوش و خروش سے منائے، ضد کا انجام جشن عید میلادالنبی کے ماحول کو کشیدہ کرے گا جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد کروانا قانونی تقاضا ہے۔

دوسری جانب فیض آباد میں دھرنا ختم کرنے کی عدالتی ڈیڈلائن ختم ہونے کی وجہ سے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولیس، ایف سی کے تازہ دم دستے پہنچ گئے ہیں جنہیں آنسوگیس شیل فراہم کردیئے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس اورریزروفورس کوپریڈ گراؤنڈ میں پہنچا دیا گیا ہے جب کہ بکتربند گاڑیاں بھی دھرنے کے مقام پرپہنچادی گئیں۔

دھرنے کے شرکا کے خلاف ممکنہ آپریشن کے پیش نظرسرکاری اسپتال ہائی الرٹ کردیا گیا جب کہ ڈاکٹرز، نرسزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ۔

ادھر مذہبی جماعت تحریک لبیک کی مجلس شوری ٰ کا اجلاس ختم ہوگیا، مجلس شوریٰ کے مطابق گرفتار کارکنان کی رہائی کے بغیر مذاکرات سود مند نہیں ہیں جب کہ وزیرقانون زاہد حامد کے استعفی ٰ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔