بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ٹریفک مشکلات اور شہری منصوبے

ٹریفک مشکلات اور شہری منصوبے


پشاور میں ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہونے کیساتھ ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور حکومت نے کنسٹرکشن ورک سے ملحقہ اضافی راستے کھولنے اور انہیں کشادہ کرنے کا عندیہ دیا ہے‘ حکومت فیڈرروٹس کو اپ گریڈکرنے کیساتھ رنگ روڈ سے ملحقہ سروس روڈز اگلے ماہ مکمل ہونے کا عندیہ بھی دے رہی ہے‘ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ریپڈ بس منصوبے کے تعمیراتی کام کے دوران مشکلات عارضی ہیں‘قابل اطمینان بات ہے کہ حکومت منصوبے پر کام کے دوران شہریوں کو درپیش مشکلات کا احساس وادراک رکھتی ہے اور انہیں کم سے کم کرنے کیلئے اقدامات بھی تجویز کئے جارہے ہیں‘ اس سب کیساتھ قابل غور یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے پراجیکٹ کے آغاز سے قبل اس کیلئے درکار ہوم ورک سے گریز کیوں کیاگیا‘ باربار اس بات کی نشاندہی کے باوجود کہ متبادل روٹس پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے پیشگی انتظامات کئے جائیں‘مکمل انتظام کیوں نہ ہوسکا’ آر بی ٹی بلاشبہ ایک اہم اور میگا پراجیکٹ ہے‘ اس منصوبے کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے کچھ عرصے کیلئے مشکلات کا سامنا خندہ پیشانی سے کیاجاسکتا ہے‘ کسی بھی شہر میں اس طرح کے پراجیکٹس یقیناًمختصر وقت کیلئے باعث زحمت ضرور بنتے ہیں‘۔

اب بھی اگر پیشگی انتظامات بروقت نہ ہونے سے جو مشکلات درپیش ہیں ان کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تو شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے‘ اس میں سب سے پہلے رنگ روڈ پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے پلاننگ کرنا ہوگی‘ جس میں ہیوی اور لائٹ ٹریفک کو علیحدہ لائنوں میں رکھاجائے‘اس سب کیساتھ اندرون شہر ٹریفک کنٹرول کیلئے بھی ضروری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ بس منصوبے کے باعث جگہ جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنیوالے شہری اندرون شہر آسانی سے آجاسکیں‘دریں اثناء حکومت کی جانب سے شہروں کی خوبصورتی کیلئے اقدامات کی ہدایات بھی قابل اطمینان ہیں تاہم کسی بھی شہر میں خوبصورتی کیلئے پہلی شرط صفائی کی ہے‘ دیکھنا یہ ہوگا کہ ایک جانب صفائی اور دیگر میونسپل سروسز کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ضلعی حکومتیں اپنے فنڈز استعمال کرنے میں ناکام رہی ہیں جس پر مزید رقم کا اجراء روک دینا پڑا ہے‘ صورتحال کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس سقم کو دور کیاجائے جوفنڈز کی ریلیز اور خرچ کے درمیان حائل ہوکر رقوم کا بروقت استعمال ممکن نہیں بنا پاتا۔

ریگولیٹری اتھارٹیز کی اتھارٹی؟

نجی سکولوں کیلئے قائم ریگولیٹری اتھارٹی پرائیویٹ سکولوں کے انتظامی اور مالی معاملات کنٹرول کریگی اور تمام سکول اتھارٹی کی منظور کردہ فیس ہی وصول کرنے کے پابند ہونگے‘ صوبے میں ہائیرایجوکیشن کے معاملات دیکھنے کیلئے اتھارٹی بہت پہلے سے کام کررہی ہے‘ صحت کے شعبے میں نگرانی کا کام بھی ایک اتھارٹی کے سپرد ہے‘ ہمارے ہاں اصلاحات کاکام جب بھی کیاگیا اس پراحتجاج اور اختلاف سامنے آنا روٹین رہا ہے‘ جس پر بعد میں بات چیت سے معاملات طے ہوتے ہیں‘ ضرورت ایک جانب قاعدے قانون بنانے میں سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت یقینی بنانے کی ہے تو دوسری طرف ریگولیٹری اتھارٹیز کو ان پر عمل درآمد کیلئے بھرپور اختیارات دینے کی ہے جس پر اوور سائٹ کافول پروف نظام بھی ناگزیرہے۔