بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں


بعض لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتے اگر عدالتوں میں مقدمات طول پکڑ لیں تو وہ یہ شور مچاتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر ناانصافی کے مترادف ہے اور اگر عدالتیں مستعدی سے مقدمات نمٹانا شروع کر دیں تو اس صورت میں وہ ناک بھوں چڑھا کہ بڑے طنز کیساتھ یہ فرماتے ہیں کہ نہ جانے عدالتیں اتنی عجلت کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہیں ؟ بھئی اگر مقدمات کے جلد فیصلے ہو جایا کریں تو اس پر ناراضگی کا کیا جواز بنتا ہے ؟ جو شخص بھی بھلے وہ کسی طبقے اور کسی سیاسی جماعت سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اور وہ میگا کرپشن مقدمات میں ملوث ہو تو اسے تو قطعاً اپنے دفاع میں کبھی بھی سیاسی پلیٹ فارم استعمال نہیں کرنا چاہئے آج کل کئی بڑے بڑے لوگ مکافات عمل کا شکار ہیں اللہ کی پکڑ میں آ چکے ہیں ماضی میں جب بھی انہیں اقتدار میں آنے کا موقع ملا اور کئی کئی بار ملا تو انہوں نے بے دریغ کالا دھن بنانے میں تامل نہ کیا اور قومی وسائل پر خوب اپنے ہاتھ صاف کئے ہم تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت بدمعاشیہ کا ایک چونچلا ہے ان کا ایک قسم کا مشغلہ ہے۔

جسے انگریزی میں Pass time کہتے ہیں جس کے ذریعے وہ ملک پر بادشاہت کرنے کیلئے اپنی راہ ہموار کرتے ہیں اگرہمارے سیاستدان شروع ہی سے تقسیم ہند کے بعد راہ راست پر چلتے رہتے تو کسی بھی فوجی طالع آزما کو کبھی بھی یہ موقع نہ ملتا کہ وہ ایوان اقتدار پر شب خون مارتا یہ ان کی اجتماعی نا اہلی اور عاقبت نا اندیشی تھی جس نے اس ملک میں کبھی بھی صحیح معنوں میں عوامی راج قائم نہ ہونے دیا یہ ہماری قیادت کی مشترکہ ناکامی تھی کہ آج پاکستان کا ہر شہری عالمی بنکوں کاڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے ہمارا بال بال بیرونی قرضوں میں بری طرح جکڑ ا ہوا ہے سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے انگوٹھوں تک ہم قرض دار ہیں کیا ہمارے رہنما جو اپنے آپ کو سقراط و بقراط تصور کرتے ہیں اور جنہوں نے ہماری معیشت کا دیوالیہ پیٹ دیا ہے وہ کسی نرمی یا رعایت کے مستحق ہیں ؟ ۔

قطعاً نہیں افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمران نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہیں ‘کتابوں میں درج ہے کہ بابل کا بادشاہ بالشیرز ایک رات اپنے درباریوں کیساتھ شراب و کباب کی محفل سجائے بیٹھا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ اسکے سامنے والی دیوار پر کسی نے تین الفاظ لکھ دیئے ‘الفاظ تھے Mene, tekel parsin اب مسئلہ یہ تھا کہ نہ بادشاہ کو ان الفاظ کا مفہوم آتا تھا اور نہ اس کے درباری ان الفاظ کے معنی کو سمجھتے تھے آخر کار بالشیرز کی ملکہ نے اس سے کہا کہ شہر میں دانیال نامی ایک شخَص رہتا ہے اسے بلا کر پوچھا جائے شاید وہ ان الفاظ کے مطالب بتا سکے چنانچہ دانیال کو دربار میں بلایا گیا بادشاہ نے اسے کہا اگر اس نے ان الفاظ کے صحیح معنی بتا دیئے تو اسے ہیروں اورجواہرات سے لاد دیا جائیگا دانیال نے بادشاہ سے کہا مجھے سونے اور جواہرات کی کوئی لالچ اور ضرورت نہیں ہاں البتہ میں تم کو ان تین غیر معروف الفاظ کے معنی بتا دیتا ہوں ایک کا مطلب یہ ہے کہ تم آزمائے جا چکے ہو‘ دوسرے کا مطلب یہ ہے کہ تم آزمائش میں فیل ہو چکے ہو اور تیسرے لفظ کا مطلب ہے تمہاری سلطنت تقسیم ہونے جا رہی ہے کتابوں میں لکھا ہے اس رات بالشیرز مر گیا اور اس کے بعد اسکی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔