بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / مؤثر پولیسنگ: فلاح کا ذریعہ!

مؤثر پولیسنگ: فلاح کا ذریعہ!


امن و امان کا قیام بناء مؤثر پولیسنگ ممکن نہیں‘ اس سلسلے میں برطانوی راج کے دوران اٹھارہ سو اکسٹھ میں نافذ کیا گیا پولیس ایکٹ بطور خاص توجہ طلب ہے جس پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پولیس ایکٹ وضع کرنے کا مقصد معاشرے کے ہر خاص و عام اور ہر شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کو سماج و قانون دشمن عناصر سے نہ صرف قانونی تحفظ دینا تھا بلکہ ریاست میں قانون کی عمل داری کا احساس پیدا کرنا بھی تھا کہ صرف اُجلی وردی‘ بارعب لباس اور خودکار ہتھیاروں سے لیس پولیس فورس کی موجودگی ہی یہاں وہاں دکھائی نہ دے بلکہ پولیس کا ہر ایک اہلکار اپنی جگہ امن کی علامت ہو‘ اور اس کی موجودگی کے ثمرات و برکات عملاً ظاہر ہوں۔ تھانہ جات امن و امان کے قیام میں کردار ادا کرتے ہیں تاکہ معاشرے کا کوئی بھی فرد اپنی حدسے تجاوز نہ کرے۔ تھانہ جات عادی و عمومی جرائم پیشہ عناصر کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہ ان جرائم پیشہ عناصر کی مسلسل و مستقل نگرانی کرتے ہیں۔ قیام پاکستان کے اوائل میں پولیس کا نظام ہمارے ہاں مؤثر رہا لیکن سیاسی حکومتوں کی ترجیحات اور افسران کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ نظام‘ جو اپنی ساخت میں نہایت ہی طاقتور ہے لیکن سیاسی و ذاتی مفادات کے اسیر فیصلہ سازوں کی وجہ سے پولیس کا نظام کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا گیا جسکے مقابلے میں نت نئے نظام متعارف کرانے کے تجربات کئے گئے اور اگر پولیس فورس کے حوالے کی جانے والی قانون سازی یا مرتب کئے جانیوالے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیں تو مؤثر پولیسنگ کے نام پر اصلاحات سے عملی فوائد حاصل ہونے کی بجائے ان کا قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا چلا گیا اور پولیس کی کارکردگی کا معیار باوجود خواہش و کوشش بھی خاطرخواہ بلند نہ ہوسکا!

برطانوی راج میں نافذکئے جانے والے پولیس ایکٹ حاصل مطالعہ ہے‘ جس کے تحت ہر تھانے میں جرائم کے مؤثر کنٹرول کرنے کا ریکارڈ جمع ہونا چاہئے اس مقصد کیلئے تھانہ جات میں پچیس عدد رجسٹر ترتیب دیئے جاتے ہیں جس میں ہر رجسٹر کی اپنی اہمیت ہے لیکن اِس میں رجسٹر نمبر9 کو اگر موجودہ حالات کے تناظر میں اہم ترین قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ مذکورہ رجسٹر کے کل پانچ حصے ہوتے ہیں‘ اور یہی پانچ حصے اہمیت کے حامل ہیں ان میں ’بلحاظ بیٹ جرائم کا اندراج‘ خاص جرائم میلے‘ تہواروں‘ اور جرائم پیشہ عادی مجرمان کے ناموں و کوائف کا اندراج کیا جاتا ہے اور کسی بھی سنگین جرائم کے ارتکاب میں یہ رجسٹر نہایت معاون ثابت ہو تے ہیں لیکن افسوس کہ اب یہ رجسٹری طریقۂ کار فعال نہیں رہااور تھانہ جات میں جرائم کے اندارج پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے حالانکہ کمپیوٹرائزڈ دور میں ضرورت اِس امر کی تھی کہ رجسٹروں میں اندراج کے نظام کو آن لائن کر دیا جاتاقابل ذکر ہے کہ رجسٹر نمبر9کا پانچواں حصہ (جو کہ سزایابی سے متعلق ہے) توجہ کا متقاضی ہے۔

جس کے مطابق کوئی بھی شخص جو کہ اپنے متعلقہ تھانہ کی حدود کا رہائشی ہے وہ اندرون یا بیرون ملک اگر کسی جرم میں ملوث قرار پاتا ہے تو اس کے جرم اور کوائف کا اندراج عدالت سے جاری ہونیوالی ایک کنوکشن سلپ کی صورت متعلقہ تھانے کو ارسال کی جاتی ہے اور وہ تھانہ کنوکشن سلپ وصول ہونے پر اسکا اندراج متعلقہ رجسٹر میں کرتا ہے‘اگر کوئی شخص ایک سے زائد مقدمات میں سزایاب ہوتا ہے تو پولیس ایکٹ کی رو سے اسے نمبرشمار (serial) 1/2 1/3 وغیرہ دیئے جاتے ہیں۔ ایسے ملزمان کہ جو تعزیرات پاکستان کے باب 17-12 میں درج دفعات اور دیگر اخلاقی جرائم منشیات‘ اسلحہ وغیر میں سزایاب ہوں انکا اندراج چیک کرنے کے بعد اگر کوئی مجرم دو یا دو سے زائد مقدمات میں ملوث ہو تو متعلقہ تھانے کا ایس ایچ اُو‘ اُس کی تفصیلات سے DPO آفس کو آگاہ کرتا ہے وضاحت موصول ہونے پر ڈی پی او متعلقہ تھانے کو ہدایت جاری کرتا ہے کہ اس مجرم کی ’ہسٹری شیٹ‘کھولی جائے‘۔

متعلقہ تھانے میں نگرانی کے لئے تین قسم کے بستے (رجسٹر) ہوتے ہیں‘ جنہیں انگریزی زبان کے حروف تہجی اے‘ بی اور سی کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے اور ابتداء میں اس کا نام رجسٹر اے (الف) میں اندراج کیا جاتا ہے اور ’بد رویہ گان‘ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ سات دن میں کم سے کم ایک مرتبہ متعلقہ تھانے میں اپنی حاضری دیں اور اپنے چال چلن یا نیک چلنی کی ضمانت دیں جسکا اندرا ج متعلقہ ایس ایچ اُوہسٹری شیٹ میں کردیتا ہے۔ اگر بدرویہ گان افراد ضلع سے یا تھانہ کی حدود سے باہر جانے کا قصد کریں گے تو اس کی متعلقہ تھانے کو اطلاع دینے کے پابند ہوں گے‘ اگر اس دوران بدرویہ گان میں سے کوئی جرم نہیں کرتا‘ اور نیک چلنی ثابت کرتا ہے تو اس کی ہسٹری شیٹ بستہ الف سے بستہ ب (ایک رجسٹر سے دوسرے رجسٹر) میں منتقل کر دی جائے گی اور اگر اس دوران ’بدرویہ گان افراد‘ دوبارہ کسی جرم کا ارتکاب کرکے سزا پائے گا تو اسکا نام ’بستہ سی(تیسرے رجسٹر) میں درج کر دیا جائے گا۔ جیل سے رہائی پر اسکا نام دوبارہ اسکی حیثیت کے مطابق بستہ الف میں درج کر دیا جائیگا۔ برطانوی راج کے پولیس ایکٹ کا یہ نظام آج بھی موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ نئی ہسٹری شیٹ یا تو بنائی نہیں جاتیں یا بہت ہی کم تھانہ جات اس جھنجھٹ میں پڑتے ہیں! پولیس ایکٹ پر اِس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرکے نہ صرف عمومی بلکہ خصوصی جرائم اور عادی و منظم جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی ممکن ہے۔ عمل کی ترغیب نیت سے ملتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا میں امن و امان کا نظام اور عمومی و خصوصی جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے تو نت نئے تجربات کی بجائے ’پولیس ایکٹ‘ کے مطالعہ اور اس کی عملی فعالیت پر ناگزیر ضرورت ہے۔