بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ایم ایم اے کے چرچے

ایم ایم اے کے چرچے


یہ استدلال کہ’2013ء کے انتخابات میں متعدد انتخابی حلقوں میں جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کے انفرادی ووٹ اکٹھے کر لئے جائیں تو انکی تعداد متعلقہ کامیاب امیدواروں کے ووٹوں سے زیادہ بنتی ہے لہٰذا جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کا اتحاد کی شکل میں آئندہ انتخاب لڑنا کامیابی کی کنجی ثابت ہوگا ‘ متحدہ مجلس عمل کو سطحی طور پر ضرور تقویت دے رہا ہے لیکن بعض حقائق اس استدلال کی نفی کرتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں، مثلاً یہ حقیقت کہ’’ مد مقابل رہنے والی دو جماعتوں کا اتحاد عموماً انکے نچلی سطح کے کارکنوں اور بہت سے حامیوں کیلئے ناقابل قبول ہوتا ہے ایسی صورت میں وہ رد عمل کے طور پر یا تو انتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیتے یا مخالف امیدوار کے حق میں ووٹ دیکرپارٹی قائدین کے فیصلوں کا بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں‘علاوہ ازیں ایک سچ یہ بھی ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے معطل ہونے کے بعد سے اب تک خیبر پختونخوا کے عوام کوایم ایم اے کے انتخابی احتساب کا موقع نہیں ملا کیونکہ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں ایم ایم اے انتخابی معرکے میں نہیں اتری تھی ‘۔

اب جبکہ ایم ایم اے صوبے میں اپنے پانچ سالہ دور حکومت کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے گی توعوام کے پاس اس دور حکومت کی حکومتی غلطیوں اور کوتاہیوں کا حساب لینے کا موقع ہوگا‘اب دیکھنا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے عوام جو مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی حکمران جماعتوں سے رعایت نہ کرنے کیلئے مشہور ہیں ایم ایم اے کیساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں ایم ایم اے کی متوقع پوزیشن سے متعلق تجزیوں سے ہٹ کر ایم ایم اے کے حوالے سے بعض دیگر معاملات بھی غور طلب ہیں‘ان میں سے ایک معاملہ جوفاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کیلئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی جانب سے 10دسمبرکو باب خیبر سے اسلام آباد تک مارچ کے اعلان کے بعد زیادہ نمایاں طور پر سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ایم ایم اے ویسے تو متعدد جماعتوں کا مجموعہ ہے لیکن اس کے بنیادی ستون دو ہی ہیں یعنی جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی‘ اب جہاں تک قبائلی علاقوں کے مستقبل کی آئینی حیثیت طے کرنے کا تعلق ہے ۔

تو ان دونوں جماعتوں کے نکتہ نظر میں زمین آسمان کا فرق ہے ‘جماعت اسلامی فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام چاہتی ہے( ایم ایم اے میں شامل ایک اور اہم جماعت جے یو آئی(س) بھی اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی ہم نوا ہے)ادھر جے یو آئی (ف) فاٹا کو الگ صوبہ بنانے یا پھر ریفرنڈم کے ذریعے فاٹا کے باشندوں کی رائے معلوم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے‘اپنے مطالبے کو تقویت دینے کے لئے جے یو آئی (ف) نہ صرف ایک تحریک جاری رکھے ہوئے بلکہ وفاقی حکومت میں اپنی موجودگی اور میاں نواز شریف کو سیاسی مدد و تعاون دینے کے عوض جے یو آئی فاٹا کو خیبر پختو نخوا میں ضم کرنے سے متعلق وفاقی کابینہ کے فیصلے اور فاٹاریفارمز کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کو بڑی حد تک سر د خانے میں رکھنے میں بھی کامیاب رہی ہے‘فاٹا کا ایشو نہ صرف اہم ترین قومی معاملات میں سے ایک ہے بلکہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں اس ایشو کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ‘اس قدر اہم معاملے پر ایم ایم اے کی بڑی جماعتوں کا واضح اختلاف کیا متحدہ مجلس عمل کے مستقبل پر منفی طور پر اثر انداز نہیں ہو گا؟اس حوالے سے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) آپس میں بیٹھ کر فاٹا کے ایشو پر اتفاق رائے پیدا کرنیکی کوشش کریں ؟ متحدہ مجلس عمل کی ممکنہ یا متوقع سیاسی و انتخابی پوزیشن کے ضمن میں یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ایم ایم اے کی بحالی جس کا اصولی طور پر فیصلہ ہو گیا ہے اور صرف باقاعدہ اعلان باقی ہے سیاسی نظریہ ضرورت کے تحت انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول اور حکومت سازی کی پوزیشن میں آنے کیلئے کی جارہی، تو کیا یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام جو 2002ء میں ایم ایم اے کو اجتماعیت‘اتحادِ امت‘ دیانت و امانت کی علامت اور شرعی تقاضوں کے تابع حکومتی ذمہ داریوں کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کی الفت میں گرفتار ہوئے تھے اور پھر عملاً ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے طرز عمل کا مشاہدہ بھی کر چکے ہیں ایک مرتبہ پھر متحدہ مجلس عمل سے ماضی جیسے لگاؤ کا مظاہرہ کریں گے؟۔