بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئین اور انتخابات

آئین اور انتخابات


مردم شماری ایک آئینی تقاضا ہے ‘اسے ہر دس سال بعد منعقد ہونا ہوتا ہے مگر تقاضے تب پورے ہوں کہ جب بے چارہ آئین بھی تو زندہ و پائندہ کہیں نظر آئے۔ آئین بنایا گیا اور تمام سیاسی پارٹیوں کی رائے اس میں شامل تھی یعنی یہ آئین سب کا متفقہ تھا ۔ اس پر عمل درآمد بھی ساری پارٹیوں کا ہی فرض تھا مگر ہوا یہ کہ آئین کے منظور ہونے کے فوراً بعد ہی اس میں ترامیم کا سلسلہ شروع ہو گیا جس آئین کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا اسکو اسمبلی میں اکثریت کے زور پر ترامیم کے کلہاڑے چلنا شروع ہو گئے ۔ پھر بھی اس میں اتنا دم خم تھا کہ اس کے تحت ملک کو جمہوری تقاضو ں کے مطابق چلایا جاتامگر درمیان میں طالع آزماؤ ں کا دور شروع ہو گیاجنہوں نے سیاستدانوں کی کھینچا تانی کو جواز بنا کر ملک کی باگ ڈو ر اپنے ہاتھوں میں لے لی اور عدلیہ نے ان کے احکامات کے تحت نئے حلف اٹھائے اور جب آپ کسی کے ڈر سے حلف اٹھاتے ہیں اس کی ہر بات ماننی بھی پڑتی ہے ‘چنانچہ آئین کو معطل کر کے دوبارہ ایسے نافذ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی اجازت سے اس میں من چاہی ترامیم کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا گیا او رآئین کی وہ صورت ہی نہ رہی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی‘اس لئے کہ ہم مجبور انسانوں کے لئے عدل سے زیادہ خوف کا عنصر غالب ہوتا ہے چنانچہ تہتر کا آئین تہتر میں ہی رہ گیا اور آئین ایک نئی صورت میں آکر حکمرانی کرنے لگا۔

تا ہم مردم شماری والی شق باقی تو رہی مگر آئین میں درج ہو کر رہ گئی۔ انیس سال تک کسی نے نہ پوچھا کہ بھائی آئین کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک میں مردم شماری کی جائے اسلئے کہ دس سال میں بہت کچھ بدل جاتا ہے‘ بہت سے لوگ مر جاتے ہیں اور بہت سے نئے چہرے اس دنیا میں تشریف لے آتے ہیں اسی لئے حکومتیں ہمیشہ پانچ سالہ ترقیاتی سکیمیں بناتی ہیں تا کہ دو پنج سالوں کے بعد ایک نئی صورت حال میں ترقیاتی کاموں کی داغ بیل ڈالی جائے اور ترقی کے عمل کو جاری و ساری رکھا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی آئینی ہی تقاضا ہے کہ جب مردم شماری ہو جائے تو نئی حلقہ بندیاں کی جائیں اور آبادی کے مطابق نئے انتخابات کروائے جائیں‘ اب کے بھی یہی کچھ ہوا‘مردم شماری کروائی گئی۔ مگر خدا جانے کہاں سے ’ تحفظات ‘ نے سر اٹھا لیا ۔ ہمیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ خانہ شماری والے بھی اپنے ہی صوبے کے لوگ ہوں اور مردم شماری بھی اپنے ہی صوبے کے لوگ کریں تو اس میں کمی بیشی مرکز سے کیسے ہو سکتی ہے‘اس ایک بات کو لیکر ایک صوبے کے لوگ بیٹھ گئے کہ جب تک ہماری آبادی کو بڑھا چڑھا کر نہ دکھایا گیا تو ہم مردم شماری کے نتائج نہیں مانیں گے‘۔

ہم نے خود کو بہت قائل کرنیکی کوشش کی مگر ہمارے پلے یہ بات ابھی تک نہیں پڑ سکی کہ مرکزی حکومت کس طرح آبادی کو کم کر کے دکھا سکتی ہے مگر جب خورشید شاہ جیسے سیاستدان کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ‘ تاہم اب تو کسی نہ کسی طرح مان ہی گئے ہیں۔ چلو اچھا ہوا کہ وقت پر انتخابات تو ہو جائیں گے۔ اللہ کرے کہ یہ مراحل سلیقے سے طے ہو جائیں اور انتخابات وقت پر ہو جائیں اور ایک بڑا آئینی تقاضا پورا ہو جائے اور دعا ہے کہ اس کے بعد دھرنے وغیرہ نہ ہو جائیں اور ملک ایک سمت چل پڑے ۔ اسی میں بہتری ہے‘ رہا سوال قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا تو یہ بھی ہماری ناقص سمجھ میں نہیں آ سکا کہ جب ایک آئینی حکومت ہے اور آئین کی پابندی میں سارے کام ہو رہے ہیں تو صرف اسلئے کہ ایک پارٹی کے جلسوں میں بہت لوگ حصہ لے رہے ہیں اس لئے انتخابات بھی وقت سے پہلے ہو جائیں اس لئے کہ جب دوسرے لوگ میدان میں نکلیں گے تو ہو سکتا ہے کہ فضابدل جائے۔ تا ہم یہ ایک آئینی تقاضا ہو سکتا ہے کہ ہو مگر آئین نے ہی کسی بھی پارٹی کو پانچ سال تک حکومت کرنے کی اجازت دی ہے اور جو پارٹی بھی انتخابات جیت کر آتی ہے چاہے کوئی چاہے یا نہ چاہے اس نے پانچ سال تک حکومت تو کرنی ہے ‘ہاں اگر کوئی طالع آزماآ جائے تو وہ دوسری بات ہے اس لئے کہ کہتے ہیں کہ شیر کسی ہندو کی گائے اٹھا کر لے گیا۔ ہندو اپنی بہی اٹھا کر شیر کے پیچھے گیا اور دور ہی سے کہا کہ کس بہی کھاتے میں وہ اُس کی گائے اٹھا کر لے گیا ہے۔شیر زور سے دھاڑا تو ہندو وہاں سے یہ کہتا ہوا بھاگ آیا کہ اس کھاتے میں ا گر لایا ہے تو ٹھیک ہے۔ تو اگر ’زور آور‘ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے۔