بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاک بھارت ہاٹ لائن رابطہ

پاک بھارت ہاٹ لائن رابطہ


پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان اوربھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے‘ پاکستان نے ایل او سی پر شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ نیزہ پیرچری کوٹ اور بٹل سیکٹر میں شہریوں پر فائرنگ غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ ہے‘ یہ بھی واضح کیاگیا کہ بھارتی اشتعال انگیزی کی وجہ سے معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں لہٰذا بھارت کو جارحیت پر ناقابل برداشت نقصان اٹھانا پڑے گا‘دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے‘ بھارتی فورسز کی تازہ ظالمانہ کاروائیوں میں بانڈی پورہ میں مزید پانچ کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیاگیاہے‘ بھارت ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے‘ اس سب کیساتھ بھارتی فورسز لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں جن میں بے گناہ شہری شہید ہوجاتے ہیں‘ ۔

پاکستان ایک سے زائد مرتبہ بھارت کے ساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کرچکا ہے تاہم بھارت عین وقت پر ایک نہ ایک بہانے سے اس عمل کو سبوتاژ کرتا رہا ہے‘ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جو دنیا کے سامنے رکھے بھی جاچکے ہیں‘ پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس خود اعترافی بیان ریکارڈ کراچکا ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے اپنے اس گرفتار جاسوس کی اہلیہ کو اپنے خاوند سے ملاقات کیلئے پاکستان بھجوانے سے انکار کردیا ہے‘ اس ملاقات کی پیشکش پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی تھی‘ بھارتی جواب میں کہاگیا ہے کہ ملاقات کلبھوشن کی والدہ کی کرائی جائے‘ بھارت ہو یا افغانستان پاکستان کا موقف کلیئر ہے‘ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کا بیان پاکستان کے موقف کی تائید کرتاہے‘ برسرزمین حقائق‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا‘اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کو سردخانے میں ڈالنا اور بھارتی فورسز کی جانب سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ عالمی برادری صورتحال کا احساس وادراک کرتے ہوئے اپنا کردارا دا کرے۔

ذمہ دار کون؟

پشاور کے گنجان آباد علاقے حاجی کیمپ میں دو سالہ بچی گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئی‘ معصوم بچی کی لاش بارہ گھنٹے بعد برآمد ہوئی‘ پشاور میں یہ پہلا واقعہ نہیں‘ شہر میں گٹر اس سے پہلے بھی کئی افسوسناک حادثات کا سبب بن چکے ہیں‘ یہ گٹر ٹریفک میں رکاوٹ کیساتھ پیدل چلنے والوں کیلئے بھی اذیت کا باعث بنتے ہیں‘ پلاسٹک شاپنگ بیگز اور دیگر غلاظتوں سے بھرے ہمارے سیوریج سسٹم میں بغیر ڈھکن کے گٹر آلودگی کا بڑا ذریعہ بھی ہیں‘ چوہوں کی افزائش بھی ان میں ہوتی ہے‘ پشار میں گٹروں پر ڈھکن لگانے کیلئے احکامات پہلے سے جاری ہوکر عمل درآمد کے منتظر ہیں‘ ایک جانب ہمارے صوبے کی کئی ضلعی حکومتیں اپنے فنڈز بروقت استعمال کرنے میں ناکام ہیں تو دوسری جانب لوگ بنیادی میونسپل سروسز بھی نہ ملنے کا گلہ کرتے ہیں‘ بہتر یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ تمام گٹروں پر ڈھکن اور بڑی نالیوں پر جالی لگانے کا حکم ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن کیساتھ خود جاری کریں۔