بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / برن وارڈیابچاؤ

برن وارڈیابچاؤ


کچھ تو پیشہ ورانہ مصروفیات تھیں اور کچھ تعلیمی سرگرمیاں جن کی وجہ سے گزشتہ دو تین ماہ سے میں ٹی وی اور اخبار تفصیل سے نہیں دیکھ پایا۔ آج صبح ذرا آرام سے اٹھا تو ناشتے کے دوران ٹی وی آن کیا۔ ایک لوکل چینل پر پشاور ہی کے بارے ایک خبر دی جارہی تھی کہ ایک گھر میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی اور اس میں چار بچے اور ایک والدہ شدید جھلس گئے ہیں۔ چینل کا نمائندہ بار بار پشاور میں جھلسے ہوئے مریضوں کیلئے کسی قسم کی سہولت کی نایابی کو رورہا تھا۔ کیمرہ بار بار بچوں کے والد کے تاثرات دکھارہا تھا کہ کس طرح اسے سرکاری ہسپتالوں میں لے جایا گیا جہاں علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے چند ایک مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کرنا پڑا اور باقی مریضوں کو ڈبگری میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ نیوز چینل کے نمائندے نے ڈرامائی انداز میں حکومت سے سوال کیا کہ یہ مریض کہاں جائیں؟ واقعی پوچھنے کا حق تو ہے کہ ان مریضوں کا علاج کہاں ہوگا آخر۔ لیکن میرا بھی ایک سوال ہے کہ سب سے پہلے تو اس کا تعین بھی ہو کہ یہ مریض جلے کیوں؟ آگ لگی کیسے؟ اور یہ صورتحال ہر روز سالوں سے اسی طرح کیوں جاری ہے۔ اس وقت میرے پاس ایک ہی خاندان کے چار افراد داخل ہیں۔ ان میں سے آج دو خدا سے جاملے، خداان کی روحوں کو آرام دے اور لواحقین کو صبر اور استقامت۔ ان کا واقعہ بھی یہی تھا کہ کمرے میں گیس کا ہیٹر لگا تھا۔ رات کو کسی وقت گیس بند ہوئی۔ کچھ وقت کے بعد گیس دوبارہ آئی اور ان کو احساس نہیں ہوا۔ صبح اُٹھ کر انہوں نے لائٹ جلائی تو سپارک سے کمرے میں جمع شدہ گیس سے دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ مجھے بھی جلد ہی صبح آئی سی یو آنا پڑا تاکہ ان کے لواحقین کو صورتحال کی وضاحت کردوں ۔ لیکن ساتھ ساتھ میں نے ان سے درخواست کی کہ خدا را اپنے محلے اور رشتہ داروں میں اسکی تلقین کریں کہ بیڈ روم میں گیس کنکشن ختم کردیں۔ اپنے کلینک آیا تو میری سیکریٹری کی آنکھیں سرخ تھیں۔ پوچھا تو ان دو ہلاکتوں پر رو رہی تھیں۔

زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن اُسی خدا نے انسان کو شعور دیا ۔ جس طرح سے انسان نے اپنی راحت کیلئے مختلف آلا ت ایجاد کئے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے دوسرے ذرائع اختیار کئے ، اسی طرح سے جب اسے خطرے کا احساس ہوا تو اپنی حفاظت کیلئے اقدامات کئے۔ انہی حادثوں سے سبق حاصل کرکے ان خطرات کا سدّ باب کیا۔ جب سڑکوں پر گاڑیاں چلنے لگیں تو حادثات میں معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اموات کا باعث مسافر یا ڈرائیور سامنے کے شیشے سے ٹکراکر سر کے زخم ہی تھی۔ اس طرح سے سیٹ بیلٹ کا وجود میں آنا ممکن ہوا۔ لیکن یہ سب مہذب ممالک کی کہانیاں ہیں جہاں زندگی کی قدر ہے۔ ہمارے یہاں سیٹ بیلٹ تو چھوڑیں ، بس کے اندر سیٹیں ہوتے ہوئے بھی لوگ چھت پر بیٹھ کر سفر کرنا پسند کرتے ہیں باوجود اس کے کہ ہر دوسرے تیسرے دن اخبار میں درخت کی شاخوں میں لٹکی لاشوں کی تصاویر دل دہلادیتی ہیں۔ لیکن مجال ہے جو کسی کو اپنی زندگی عزیز ہو۔ ہمارا یہ رویہ ہر جگہ ہمیں معذور بناسکتا ہے چاہے وہ بجلی کی تاروں سے چھیڑ چھاڑ ہو یا آتش بازی کا مظاہرہ۔ ہوائی فائرنگ ہو یا سڑک پر ون ویلنگ۔ گزشتہ ایک صدی میں جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج میں بہت تحقیق ہوئی ہے اور اس تحقیق کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کی جانیں بچائی جاچکی ہیں۔ تاہم اس سے بھی کہیں زیادہ ترقی اگر ہوئی ہے تو وہ آگ سے بچاؤ کے اقدامات میں ہوئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مہذب دنیا میں جھلسنے کے واقعات میں ننانوے فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

اور آج صورتحال یہ ہے کہ ان ممالک میں جھلسے ہوئے مریضوں کے وارڈ بند ہورہے ہیں۔ وہاں اب جلنے کے واقعات ہی اتنے کم ہوگئے ہیں کہ چیچک کی بیماری کی طرح اب وہ مریض ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں یہ صورت حال ہے کہ جونہی سردی شروع ہوتی ہے، میرے پاس جھلسے ہوئے مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان تمام مریضوں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ میں ان کے لواحقین کو ہدایات دینا بھی نہیں بھولتا کہ نہ صرف اپنے گھروں میں آگ سے بچاؤ کا بندوبست کریں بلکہ محلے اور رشتہ داروں میں بھی یہ بات پھیلائیں۔ سردیوں میں جھلسنے کی سب سے بڑی وجہ بیڈروم میں گیس ہیٹر ہیں۔ بے شک امپورٹد ہیٹر ہی کیوں نہ ہوں، سونے کے کمرے میں آگ کا شعلہ یا بجلی کاگرم ایلی منٹ موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بے شک گیس بند نہ ہو لیکن کسی وجہ سے کوئی کپڑا یا کاغذ اڑ کر ہیٹر پر گر سکتا ہے اور اس وقت چونکہ سب سورہے ہوتے ہیں اس لئے فوری بچاؤ تو ناممکن ہوجاتا ہے۔ جب بند جگہ پر آگ بھڑکتی ہے تو تھوڑی ہی دیر میں وہ جگہ دھوئیں سے بھر جاتا ہے۔ اس میں ایک گیس نہایت مہلک ہے جسے کاربن مانو آکسائیڈ کہا جاتا ہے۔ اس گیس کی موجودگی میں انسان بے ہوش ہوجاتا ہے اور یوں بچاؤ کی تھوڑی بہت کوشش بھی ختم ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ اسی کاربن مانو آکسائیڈ کو مغربی ممالک میں خودکشی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ننگی آگ کے علاوہ بھی بے شمار طریقے ہیں جن سے سردی سے بچاؤ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً سونے سے قبل گرم کپڑے پہننا ایک سستا طریقہ ہے۔ لحاف اچھی کوالٹی کا اور موٹا ہو تو سردی کچھ نہیں بگاڑسکتی۔ اسکے علاوہ گھروں میں کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح سے بند کرنے سے کمرے کی حرارت کم نہیں ہوتی۔ جو لوگ مالی طاقت رکھتے ہیں تو وہ گھروں میں سنٹرل ہیٹنگ سسٹم لگا سکتے ہیں جو کہ سب سے محفوظ اور روزمرہ لاگت کے لحاظ سے سب سے کم خرچ ہے۔ مکان کی تعمیر کے دوران بیرونی دیواروں میں انسولیٹنگ میٹیریل لگانا نہ صرف سردی سے بچاؤ کرتا ہے بلکہ گرمی میں بھی بیرونی حرارت اندر آسانی سے نہیں آنے دیتا۔ کھڑکیاں اگر ڈبل گلیزنگ ہوں تو کھڑکیوں کے ذریعے بھی حرارت میں کمی بیشی بڑی حد تک بچائی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ آگ غربت اور امارت کو نہیں دیکھتی۔ میں نے بڑے بڑے امیروں کو اسی طرح آگ سے جل کر مرتے دیکھا ہے یا عمر بھر کیلئے بدنمائی کے داغ پالتے دیکھا ہے جس طرح سے غربت کے شکار لوگ میرے پاس آتے ہیں۔ اسی طرح مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے کہ امیر لوگ بھی گھربناتے وقت اسکی خوبصورتی ،چمک دمک اور زیب و زینت پر بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں لیکن حفاظتی نقطہ نگاہ سے کوئی ایسا اضافہ نہیں کرتے جو ان کی زندگی کے بچاؤ میں کام آسکے۔ لوگ بڑے بڑے تہہ خانے بنالیتے ہیں لیکن اندر جانے کا ایک ہی رستہ چھوڑتے ہیں۔ خدانخواستہ آگ لگ جائے اور وہی رستہ اسکی زد میں ہو تو اندر موجود سب لوگ دم گھٹنے سے مرسکتے ہیں۔

اگر حکومت ہر شہر میں پچاس پچاس برن وارڈ بھی بنادیں تو جس پیمانے پر ہمارے ہاں لوگ جھلستے ہیں، وہ تمام وارڈ ایک دو ہفتوں ہی میں بھر جائیں۔ ان وارڈوں سے اگر زندہ نکل بھی آئیں تو یہ مریض جلنے کے داغ ساری عمر ہٹانہیں سکتے ۔ میرے پاس ایک نوجوان کئی سال سے زیر علاج ہے۔ ابھی تک اسکے کوئی دس پندرہ آپریشن کرچکا ہوں لیکن بچپن میں جس طرح سے اسکا چہرہ جل گیا تھا، اسکے سارے داغ ہٹانا ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ خدا بھلا کرے ایک دو مخیر حضرات کا جو اس نوجوان کا سار ا خرچہ اٹھاتے ہیں، لیکن اس دفعہ میں نے اسے پھر سے سمجھایا کہ ایک نہ ایک دن اُسے یہ حقیقت ماننی ہوگی کہ جس چہرے کے ساتھ وہ پیدا ہوا تھا، وہ اب دوبارہ حاصل کرنا ناممکن ہے۔ چند ایک بچیاں جو آج سے پندرہ بیس برس قبل جلی تھیں اور میں نے ان کا علاج کیا تھا، اب میرے پاس روتی ہوئی آتی ہیں اور سوال کرتی ہیں کہ میں نے ان کو کیوں بچایا؟ اس چہرے کے ساتھ وہ کہاں جائیں؟اخباروں، نیوز چینلوں اور میڈیا کے دوسرے ذرائع سے التماس ہے کہ جلنے کے ہر واقعے کو سنسنی خیز بے شک بنائیں لیکن اسے حکومت پر تنقید کیلئے یا ریٹنگ بڑھانے کیلئے استعمال کرنے کی بجائے اس کو پبلک ایجوکیشن کا ذریعہ بنائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ وہ کونسے چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جن سے اس ٹریجیڈی سے بچاؤ ممکن ہے۔