بریکنگ نیوز
Home / کالم / سی پیک :آخری مرحلہ!

سی پیک :آخری مرحلہ!


چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اپنی تکمیل کے قریب ہے اور یہ آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) برائے سی پیک کا نظر ثانی اور طویل المدتی منصوبے ’’دوہزارسترہ سے تیس‘‘ پر ’اکیس نومبر‘ کو اجلاس متوقع ہے‘ جس میں چینی سرمایہ کاروں کے حوالے سے اسلام آباد کی پالیسی اور دونوں ممالک کے تعاون سے اگلے تیرہ برس میں اہم امور کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔ سینئر حکام کے بقول ’’دونوں اطراف کے حکام کے اجلاس (ایس او ایم) اور رسمی جے سی سی کے اجلاس کی صدارت دونوں ممالک کے وزراء کی جانب سے کی جائے گی‘ جس میں طویل المدتی منصوبے پر بحث کرتے ہوئے آخری معاہدے پر دستخط کئے جائینگے طویل المدتی منصوبے کا آخری ڈرافٹ‘ جو بیجنگ میں ہونیوالے ’جے سی سی‘ کے چھٹے اجلاس میں تیار کیا گیا تھا‘ اس پر صوبوں سے مشاورت کی گئی جس کے بعد وہ اب بھی بغیر کسی تبدیل کے اپنی اصل حالت میں ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت سی پیک سے متعلق کابینہ کمیٹی میں پہلے ہی خصوصی پیکج کی منظوری دی جاچکی ہے‘ جس کے پہلے فیز میں بننے والے نو خصوصی صنعتی و معاشی زونز کو 2020ء تک مکمل کرنے کے لئے سرمایہ کاری کرنے والوں کو محصولات میں مکمل چھوٹ دینے کی منظوری بھی شامل ہے۔ چالیس ممبران پر مشتمل ’ایس او ایم‘ اجلاس کی صدارت سیکرٹری ترقی و منصوبہ بندی اور ان کے چینی ہم منصب کی جانب سے بیس نومبر کو کی جائے گی‘ اس اجلاس میں طویل المدتی منصوبے اور صنعتی و معاشی تعاون پر بات کی جائے گی۔ خصوصی پیکج میں شامل ٹیکسز اور ان کی معافی کے حوالے سے باقی رہ گئے تمام معاملات کو ایس او ایم اجلاس کے آخری مرحلے میں وزیر اعظم کی جانب سے حل کیا جائے گا تاہم اگلے روز رسمی ’جے سی سی‘ اجلاس میں بھی طویل المدتی منصوبے سے شروعات کی جائے گی‘ جس کی صدارت وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال اور نائب صدر چینی قومی ترقی و ریفارمز کمیشن وانگ ژیاوٹاو کی جانب سے کی جائیں گی۔متوقع ہے کہ ’سی پیک‘ پر سرمایہ کاری کرنے والے چینی ترقیاتی بینک (سی ڈی بی) طویل المدتی منصوبے پر چین کی جانب سے پیشکش کریں گے‘ جس میں ایس او ایم اجلاس کے نتائج کے حوالے سے بتایا جائے گا اور پاکستان کی جانب سے اس کا جواب دیا جائے گا۔

جے سی سی کے آخری مرحلے میں دستاویزات پر دستخط کئے جائیں گے جن میں طویل المدتی منصوبہ بھی شامل ہے۔ طویل المدتی منصوبے کے جنوبی ایشیاء میں جغرافیائی ماحول اور خطے میں بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیز اور سیکیورٹی خدشات سی پیک کی تعمیر میں مایوس کن صورت حال پیدا کرسکتے ہیں۔ ریل اور سڑکوں کے جال پر جاری تعاون کے علاوو طویل المدتی منصوبہ مقامی کمیونیکیشن نیٹ ورک اور ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے معلومات کی فراہمی‘ چینی ڈیجیٹل ٹیریسٹریئل براڈکاسٹنگ (ڈی ٹی ایم بی) کے معیار کا پاکستان میں اطلاق اور محفوظ شہروں کی تعمیر میں الیکٹرانک نگرانی کی جائے گی۔ دونوں اطراف سے تجارت اور صنعتوں کے تعاون میں مضبوطی کے ساتھ ساتھ باہمی معاشی اور تجارتی رابطوں کو بڑھایا جائے گا۔ دونوں ممالک کی جانب سے ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں پیداوار کی کوالٹی اور کام کے معیار کو بڑھایا جائے گا۔ دونوں جانب سے اپلائنس کی صنعت میں بھی تعاون متوقع ہے تاکہ پاکستان کی صنعتیں در آمد کیے گئے پارٹس کے بجائے اپنے پارٹس کو پیدا کرکے انہیں مارکیٹ میں فروخت کریں پاکستان میں بلدیاتی کاموں میں بین الاقوامی اور چین کے نئے شہری منصوبے کو اپنایا جائے گا۔

جن میں پبلک ٹرانسپورٹ‘ پانی کی فراہمی اور نکاسی کا نظام شامل ہے گوادر پورٹ فری زون کو شنگھائی ’فری ٹریڈ زون‘ کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا‘ جس میں ’آف شور‘ مالیاتی کاروبار کی اجازت ہو گی اور دونوں ممالک چینی اِداروں‘ نجی شعبوں اور دیگر معاشی اِداروں کو براہ راست سرمایہ کاری کے لئے دیئے گئے فنڈز کی حوصلہ اَفزائی کریں گے۔ بڑے منصوبوں کی جانچ کے لئے تشخیصی نظام کی تعمیر کی جائے گی‘ جس میں طویل المدتی منصوبے کے حوالے سے ہر پانچ سال میں تشخیص کی جائے گی اور منصوبے کو اِسی طرز پر اَپنایا جائے گا۔پاکستان کو ’سی پیک‘ سے تین اقسام کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ بلاواسطہ فوائد: جن کا تخمینہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والی ترقی یعنی گروس ویلیو ایڈڈ میں اضافے کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے۔ بالفرض توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی شرح ایک سے زائد ہو‘ تو توانائی کی پیداوار اور استعمال میں دو فیصد اضافہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو موجودہ سطح سے دو فیصد بڑھا دیگا‘بالواسطہ فوائد کا اندازہ مصنوعات اور خدمات کی بلاواسطہ طلب کے نتیجے میں ہونے والی سرگرمیوں کے متعدد اثرات سے لگایا جاسکتا ہے۔ ’سی پیک‘ کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کی قلت ختم ہونے سے چند اقتصادی سرگرمیاں قابل عمل ہوسکتی ہیں اور اس طرح متعلقہ علاقوں سے ہنرمند افرادی کی نقل مکانی بھی کم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا انحصار ’سی پیک‘ پر کرنا دانشمندی نہیں بلکہ ہماری قیادت کو دیگر شعبوں میں بھی بہتری کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: شاکر سجاد خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)