بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / صرف دوفیصدپاکستان

صرف دوفیصدپاکستان


پاکستان میں ’درس و تدریس‘ کے حوالے سے حکومتی کوششوں اور دستیاب سرکاری و نجی وسائل کا جائزہ لینے کے لئے غیرسرکاری تنظیم نے حسب سابق ’دوہزار سولہ‘ میں بھی ملک گیر جائزے کا اہتمام کیا‘ جس کی تکمیل اور عبوری رپورٹ ’ماہ اگست (دوہزار سترہ)‘ میں جاری کی گئی۔ یوں تو پوری ’جائزہ رپورٹ‘ ہی چشم کشا انکشافات پر مبنی ہے تاہم اِس کا ایک حصہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے متعلق ہے اور اِس میں ’9 علاقوں‘ کے 5 ہزار390 گھرانوں کے حالات سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں سے متعلق حکومتی دعوے حقیقت کی نفی کر رہے ہیں۔ 270 دیہات میں مجموعی طور پر تین سے سولہ برس عمروں کے 17 ہزار 674 بچوں کی زبان دانی اور حساب کی صلاحیتوں کی جانچ سے معلوم ہوا کہ 59فیصد لڑکے اور 41فیصد لڑکیاں جو کہ 268 سرکاری اور 57 نجی سکولوں میں کئی برس تک زیرتعلیم رہنے کے باوجود میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ سروے سے دیگر امور کی جانکاری کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی معلوم ہوئی کہ قبائلی علاقوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی تعداد آبادی کے تناسب سے کم بھی ہے اور آبادی سے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے زیادہ تر بچے اِن سکولوں سے استفادہ نہیں کر رہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ سال دوہزار پندرہ کے مقابلے میں دوہزار سولہ میں اکیس فیصد زیادہ بچے سکول جانے لگے ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی 12فیصد قبائلی بچے ایسے ہیں جو تاحال سکولوں سے محروم ہیں اور چار فیصد نے مختلف وجوہات کی بناء پر کچھ عرصہ زیرتعلیم رہنے کے بعد اِن سکولوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

سال دوہزار پندرہ میں کئے گئے سروے سے معلوم ہوا تھا کہ ’تیسری جماعت (سوئم)‘ کے 86 فیصد بچے ایسے ہیں جو اُردو یا پشتو زبانوں میں اسباق (نصاب کا حصہ کہانیاں ناظرہ) نہیں پڑھ سکتے لیکن دوہزار سولہ میں یہ تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی اور 89 فیصد بچے ایسے پائے گئے جو اپنی کلاس سے کم درجے کی کتابیں بھی پڑھنے کے قابل نہیں تھے! یہ ایک عجیب صورتحال ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی قبائلی علاقوں میں نہ تو تعلیمی سہولیات حسب آبادی مقدار کے لحاظ سے کافی پائے گئے اور نہ ہی تدریسی سرگرمیوں کا معیار ہی بہتری کی جانب گامزن پایا گیا ہے! قبائلی علاقوں میں غربت کا بنیادی سبب ’شرح خواندگی‘ کی کمی ہے اور جن خوش قسمت قبائلی بچوں کو سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں سے استفادہ کرنے کا موقع میسر آ بھی جاتا ہے تو غیرمعیاری تعلیمی سہولیات کی وجہ سے وہ خاطرخواہ علم حاصل نہیں کر پا رہے۔ ’دو سو تیس‘ صفحات سے زائد پر مشتمل ’’ASER رپورٹ‘‘ کو حکومتی ذرائع نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ یک طرفہ رپورٹ ہے‘ جبکہ حکومت نے1067 اساتذہ بذریعہ ’نیشنل ٹیسٹنگ اتھارٹی (این ٹی ایس)‘ بھرتی کئے ہیں۔‘‘ فاٹا کے ایجوکیشن ڈائریکٹر ہاشم خان اگرچہ تسلیم کرتے ہیں کہ شورش زدہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات درسی معمولات سے الگ ہیں تاہم فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں جہاں جہاں اور جیسے جیسے ’سیکورٹی حالات‘ معمول پر آتے جا رہے ہیں‘ ۔

ویسے ویسے تعلیمی اِداروں کی رونقوں بھی بڑھ رہی ہیں اور سیکورٹی حالات کی بہتری کا اندازہ قبائلی علاقوں کے تعلیمی اِداروں میں معمولات کی بحالی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔‘ ‘ستائیس ہزار دوسو بیس مربع کلومیٹرز رقبے پر مشتمل ’وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقہ جات‘ میں سرعام ناخواندگی ہو یا امن و امان کی غیریقینی صورتحال‘ اِس کا اثر نہ صرف عام قبائلیوں بلکہ متصل خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور پر براہ راست مرتب ہو رہا ہے۔2 مارچ 2017ء کو وفاقی حکومت نے جن اصلاحات کی منظوری دی‘ اُن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اِن قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا (صوبے) میں ضم کر دیا جائے اور وہاں رائج خصوصی انتظامی قواعد ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ مرحلہ وار طور پر ختم کئے جائیں‘ اِصلاحات کا یہ عمل 2022ء تک مکمل ہونے کی تاریخ (حد) مقرر کی گئی ہے لیکن جس سست روی سے ’فاٹا ریفارمز کمیٹی‘ کی سفارشات پر اصلاحاتی عمل رواں دواں ہے اور جس بھرپور انداز میں اِس کی مخالفت ہو رہی ہے‘ اُسے دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سال دوہزار بیس کے بعد بھی اِن علاقوں کی امتیازی حیثیت یونہی برقرار رہے گی ۔