بریکنگ نیوز
Home / کالم / تنگ آمدبجنگ آمد

تنگ آمدبجنگ آمد


قارئین کو یاد ہوگا پاکستان کے ایک سابق نگران وزیراعظم ملک معراج خالد جن کی دیانتداری کی گواہی ان کے بدترین سیاسی دشمن بھی دیتے ہیں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ان کو عالمی مالیاتی اداروں نے بتلایا ہے کہ پاکستان جو غیر ملکی قرضے لیتا ہے اس کا بیشتر حصہ اس کے حکمران اور ان کے حواری اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں مغربی ممالک کے بینکوں میں جمع کر دیتے ہیں باالفاظ دیگر ان قرضوں کا ایک بڑا حصہ ہمارے حکمران کھاتے پیتے آئے ہیں یہ بات بھی کس سے پوشید نہیں کہ کئی معتبر اورمستند مغربی ممالک کے اخباروں نے کئی کئی مرتبہ ان پاکستانیوں کے ناموں کی فہرستیں بھی چھاپی ہیں کہ جنہوں نے غیر ملکی بینکوں میں اپنا کالا دھن جمع کر رکھا ہے ایک محتاط انداز کے مطابق اس ملک کے حکمرانوں نے تقریباً100 ارب ڈالر باہر کے ملکوں کے بینکوں میں چھپا رکھے ہیں اور اگر یہ خطیر رقم ملک میں واپس آ جائے تو ہم اپنا تمام قرضہ بھی اتار سکتے ہیں اور پھر ہمیں مزید بیرونی قرضوں کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیسہ کیسے واپس آئے گا؟ کون اسے واپس لا سکتا ہے ؟ یہ توقع رکھنا کہ پارلیمنٹ اس ضمن میں کوئی کردار ادا کرے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو گا اور نہ ہی کسی وفاقی ادارے مثلاً نیب ‘ ایف آئی اے یا اس قسم کے کسی اور ادارے کے تلوں میں اتنا تیل دکھائی دیتا ہے کہ ہو ان مگر مچھوں پر ہاتھ ڈال کر یہ ہڑپ کیا ہوا دھن پاکستان واپس لانے پر مجبور کر سکتے ہیں سپریم کورٹ پر لوگ غلط الزام دھرتے ہیں کہ وہ ہر معاملے میں از خودنوٹس لیتا ہے ؟

خدا لگتی یہ ہے کہ ملک کہہ رہا ہے اس معاملے میں بھی سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا ہو گی کیا ہی اچھا ہو کہ وہ Suo Moto نوٹس لے کر تمام بڑی مچھیلوں سے پہلے مرحلے میں بیرون ملک ان کی جو پراپرٹی یا بینک بیلنس ہے ان کی تحریری طور پر تفصیلات طلب کرے اگر وہ راست گوئی سے کام لیکر بیرون ملک اپنے تمام اثاثہ جات کے بارے میں اطلاعات سپریم کورٹ کو دے دیتے ہیں تو پھر دوسرے مرحلے میں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ بھئی اب ذرا بتاؤ اتنا زیادہ دھن تم نے کیسے بنایا ؟ کونسی گیڈر سنگھی تمہارے پاس تھی ؟ کونسا گر تم نے آزما کر اپنے آپ کو کھرب پتی بنا دیا اگر یہ غلط بیانی کرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ ہر ممکن ذریعے سے ان کے بیرونی ملک اثاثہ جات کا کھوج لگاتی رہے اور اگر ثابت ہو جائے کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے تو پھر ان کو ایسی قرار واقعی سزا دے کہ ان کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے اور آئندہ سات نسلوں تک ان کا خاندان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے ہم یہاں اس بات کا بھی ذکر کرتے ہیں چلیں کہ چلو بیرون ملک ان چوروں کی دولت کا کھوج لگانے کی کاروائی تو درست ہے لیکن اس ملک کے اندر بھی تو ان لوگوں نے اربوں روپے کے اثاثے بنائے ہوئے ہیں ان کا کھوج کیوں نہیں لگایا جاتا ؟

حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے قومی بینکوں سے کرڑوں روپے کے قرضے بھی لئے ہیں اور پھر بعد میں مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے سیاسی رسوخ کو استعمال کرکے ان کومعاف بھی کروایا ہے اس قسم کی مخلوق تقریباً تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہے ان پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا ان کے خلاف ہماری پارلیمنٹ حرکت میں کیوں نہیں آتی ؟ کیا 2011ء میں عدالت عظمی نے اپنے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قرضوں کی معافی کے ضمن میں ایک کمیشن نہیں بنایا تھا اس کی رپورٹ کہاں گئی؟ اس پر کیا عمل درآمد ہو؟آخر عوام کو کیوں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے ؟ کب تک قومی وسائل کو چند ڈاکولوٹتے رہیں گے ؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ حکومت کھلی منڈی سے خریدی ہوئی بیرونی کرنسی ملک سے باہر منتقل کرنے پر پابندی لگائے ؟ کیا یہ ضروری نہیں ہو گیا کہ انکم ٹیکس آرڈی ڈیننس کی شق (111)(4) کو فوراً منسوخ کیا جائے ؟ سپریم کورٹ کو ہر حال میں حکمران طبقہ کو نکیل ڈالنا ہو گی ورنہ ملک کی معیشت بد سے بدتر ہوتی چلی جائے گی کاش کہ سویلین ادارے اپنے فرائض منصبی نبھاتے لیکن چونکہ ان میں بیشتر اداروں کو ارباب اقتدار نے اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا ہے اب یہ عدلیہ کا کام ہو گا کہ تنگ آمد بجنگ آمد وہ میدان میں اترے اورحکمرانوں کا قافیہ تنگ کرے اس ملک کے بیس کروڑ عوام اس نیک کام میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ۔