بریکنگ نیوز
Home / کالم / دلخراش سانحہ

دلخراش سانحہ


اگراعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اتنی اموات ستمبر اور دسمبر کی جنگوں میں نہیں ہوئی ہوں گی کہ جتنی ان دنوں ٹریفک حادثات کے باعث ہورہی ہیں ‘ کہیں ٹرالر بسوں سے ٹکرا رہے ہیں تو کہیں بسیں ویگنوں کے گلے لگ رہی ہیں ہر انسان جلد از جلد اپنی منزل مقصود تک پہنچنا چاہتا ہے اور اس تیزی میں وہ اگلے جہان کے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔کسی بھی بس یا ویگن میں سوار ہوں جب وہ مین روڈ پر نکلے گی تو سواریاں ڈرائیور پر زور دیں گی کہ وہ سپیڈ بڑھائے تاکہ وہ جلد اس سفر کا اختتام کر سکیں۔ اگر کوئی ڈرائیور بات نہ مانے تو اس پر آوازیں کسی جاتی ہیں اور اُس کو شرم دلائی جاتی ہے کہ اُسے ڈرائیونگ نہیںآتی تھی تو کس لئے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہے‘ کچھ ڈرائیور خود سے اپنی گاڑیوں کو ہوائی جہاز بنانے پر تلے ہوتے ہیں اور راستے میں آئی ہوئی ہر سواری کو پیچھے چھوڑنے کے چکر میں اپنی گاڑی کو کسی کھڈ کے حوالے کرتے ہیں یا کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا کر اپنی اور دوسروں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

ایک دوسری بیماری جو پاکستانی مزدوروں اور کاری گروں کو لاحق ہو گئی ہے وہ بیرون ملک خصوصاً عرب ممالک میں جا کر کام کرنیکی دھن ہے اس نے بھی کئی حادثات کو جنم دیا ہے کچھ لوگ تو ٹھیک طریقے سے باقاعدہ انٹر ویو پاس کر کے اور ضرورت مند کمپنیوں میں جاتے ہیں اور مزدوری کرتے ہیں مگر اس کاروبار میں چند ایسے عناصر شامل ہوگئے ہیں کہ جو لوگوں کو غلط طریقے سے ملک سے باہر بھجواتے ہیںیہ ایجنٹ نہ تو حکومت سے رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور نہ انکے پاس کسی قسم کے لائسنس ہوتے ہیں مگر یہ کہیں ایک دفتر کھولتے ہیں اور اسے خوب سجا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں‘کچھ تو لوگوں کے پاسپورٹ لیکر رکھ لیتے ہیں اور ان سے اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں اور جس دن کا وہ لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں اس دن نہ تو وہاں کوئی دفتر ہوتا ہے اور نہ کوئی ایجنٹ ۔ عموماً جو لوگ ایجنٹوں کو بھاری رقمیں دیتے ہیں وہ ادھار لی ہوئی ہوتی ہیں اور جب ایسا دھوکہ کھاتے ہیں تو اُن کے سامنے خود کشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتاکچھ عرصے سے ایک اور کاروبار شروع ہے کہ ایجنٹ لوگوں سے پیسے لیتے ہیں اور انکو سنسان راستوں کے ذریعے ملک سے باہر بھجواتے ہیں۔

ا س میں بہت سے لوگ کنٹینروں میں بند کر کے باہر بھیجے جاتے ہیں کنٹینروں میں ہی جان سے چلے جاتے ہیں کچھ کسی دوسرے ملک میں جا کر پکڑے جاتے ہیں اور باقی کی عمر جیلوں میں گزارنے پر مجبور کئے جاتے ہیں ایسے لوگوں کا اپنے رشتہ داروں سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوتا اور ان کے گھر والے ساری عمر کے انتظار میں اس دنیاسے رخصت ہو جاتے ہیں ایک اور رستہ جو حادثات کو جنم دیتا ہے وہ یہ کہ ایجنٹ لوگوں سے پیسے لے کر انکو بلوچستان کے راستے ایران اور پھر یورپ بھیجنے کا جھانسا دیتے ہیں ان سانحات اور ملک میں سٹریٹ کرائم میں اضافے کی صرف ایک وجہ ہے کہ ملک میں روزگار کے موقع پیدا نہیں کئے جاتے اور جہاں کہیں روزگار مہیا ہو سکتا ہے وہاں سیاسیوں کے چاچے مامے کے لوگ بھرتی ہو جاتے ہیں۔ اور جن کو کام نہیں ملتا وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ان چھینا جھپٹی کے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔