بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / معیشت اور عوام کو درپیش مسائل؟

معیشت اور عوام کو درپیش مسائل؟


لاہور ہائیکورٹ نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اور مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے طے کی جانے والی قیمتوں پر عملدرآمد نہ کرنے پر وزارت پٹرولیم اور اوگرا سے جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مہنگی فروخت ہونے پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پورٹ قاسم پر دوسرے ایل این جی ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2013ء میں حکومت کو توانائی کے بڑے چیلنج کا سامنا تھا گیس کی کمی کے باعث کھاد کے کارخانے اور گھریلو صارفین کو گیس کی کمی کا سامنا تھا جبکہ آئندہ تین سال میں ایل این جی کی طلب 30 ملین ٹن سے تجاوز کر جائے گی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1360 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ کا حتمی مرحلہ مکمل ہونے کو ہے۔ مہیا تفصیلات کے مطابق ملک میں گیس سے چلنے والے 3 بجلی گھر جلد کام شروع کردیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں رواں سال شرح نمو 53 فیصد جبکہ آئندہ مزید بہتری کا امکان ہے ایل پی جی کی قیمتیں ہوں یا پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا بڑھتا گراف عام آدمی تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود ریلیف نہیں پارہا۔

دوسری جانب گردشی قرضوں کے کلیئر کرنے کے ساتھ اقدامات کا آغاز ہونے سے آج تک عام آدمی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اوور بلنگ اور ترسیل کے نظام میں خرابی سے متعلق شکایت کررہا ہے۔ توانائی بحران اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ مہنگائی کے گراف کو روز بروز بڑھا رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب اور متوسط شہری کے لئے اپنے گھر کا کچن چلانا بھی دشوار ہوگیا ہے۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ حکومتی اقدامات و احکامات پر عمدرآمد یقینی بنانے پرمبذول کی جائے۔ عام شہری کو ریلیف دی جائے ایسا کسی ایک آرڈر سے ممکن نہیں مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتوں کو اس مقصد کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی بصورت دیگر عوام میں مایوسی بڑھتی چلی جائے گی۔

غیر قانونی اور غلط سپیڈ بریکر

سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے حیات آباد میں منعقدہ کھلی کچہری میں دیگر اعلانات اور یقین دہانیوں کیساتھ غیر قانونی اور کیٹ آئی سپیڈ بریکر ختم کرنے اور ان کی جگہ عالمی معیار کے مطابق بریکر بنانے کا کہا ہے۔ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت ٹریفک کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ ارضی حقائق سے انحراف برتنے کیساتھ ناقص اور تکنیکی مہارت سے عاری منصوبہ بندی کے نتیجے میں آج اس شہر کی چھوٹی بڑی سڑکیں ٹریفک جام کے بدترین مناظر پیش کررہی ہیں۔ ٹریفک کی اس سنگین صورتحال میں اضافہ غیر قانونی سپیڈ بریکرز نے کر رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان کے خاتمے کا اعلان ہوا تو ضرور ہے تاہم اس پر عملدرآمد کی رفتار کم ہے جبکہ ذمہ دار محکموں کیلئے اتنی بڑی آبادی کے ہر گلی محلے تک پہنچنا بھی آسانی سے ممکن نہیں۔ دوسری جانب بعض جگہوں پر بریکرزکے طورپر کیٹ آئی لگا دی جاتی ہیں۔ جن سے گاڑیوں کے ٹائر بھی خراب ہوتے ہیں۔ ایڈمنسٹریشن کو چاہئے کہ وہ غیر قانونی بریکرز کو ختم کرنے کے ساتھ کیٹ آئی کی جگہ جہاں ضرورت ہو معیاری بریکر بنائے جس کی ضرورت پورے شہر کے لئے ہے۔