بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت کا ڈیرہ کی متاثرہ دوشیزہ کو قانونی مدد فراہم کرنیکا فیصلہ

حکومت کا ڈیرہ کی متاثرہ دوشیزہ کو قانونی مدد فراہم کرنیکا فیصلہ


پشاور۔پشاورہائیکورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بااثرملزموں کے ہاتھوں سرعام برہنہ ہونے والی جواں سال دوشیزہ اوراس کے خاندان کو تحفظ کی فراہمی اورواقعہ کی وڈیوبنانے والے کو ملزم نامزد کرنے کیلئے دائر رٹ پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا جبکہ ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عبد اللطیف یوسفزئی نے عدالت کو یقین دہانی کرادی کہ مذکور ہ لڑکی کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا اور انہیں ہر قسم کی قانونی مدد بھی فراہم کی جائے گی‘ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل بنچ نے سینئرقانون داں قاضی محمد انورایڈوکیٹ کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان کی رہائشی شریفاں بی بی نے اپنی والدہ خورشیدبی بی کے توسط سے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں صوبائی حکومت بذریعہ چیف سیکرٹری ‘ہوم سیکرٹری ‘ آئی جی پی خیبرپختونخوا ‘ ڈی آئی جی ‘ ایس ایچ او تھانہ چودوان اور سینئر ممبربورڈآف ریونیو خیبرپختونخواکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ وقوعہ کی ایف آئی آرمیں واقعہ کی وڈیوبنانے کے حوالے سے دفعات شامل کی جائیں اورفلم بنانے والے رحمت اللہ ولدسیداللہ کوبھی ملزم نامزد کیاجائے۔

رٹ میں مزید استدعا کی گئی کہ خیبرپختونخواحکومت اورآئی جی پی کو احکامات جاری کئے جائیں کہ شریفاں بی بی اوراس کے خاندان کو تحفظ فراہم کیاجائے کیونکہ ملزموں کی جانب سے ان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اوران کی جان کوخطرہ ہے رٹ میں مزید کہاگیاہے کہ آئی جی پی اورڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان رینج کو ہدایت کی جائے کہ کیس کے تفتیش کی ہفتہ وار پراگرس رپورٹ عدالت عالیہ میں داخل کی جائے تاکہ عدالت اس بات پرمطمئن ہو کہ درخواست گذار کو انصاف کی فراہمی ہورہی ہے ۔

رٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ پولیس کو ہدایت جاری کی جائے کہ وڈیورحمت اللہ یاکسی بھی شخص کی تحویل میں ہوتو اسے برآمد کیاجائے تاکہ اس کاغلط استعمال نہ ہوسکے درخواست گذار نے پٹیشن میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس کی عمرسولہ سال ہے اس کاوالدوفات پاچکاہے اوروہ اپنی والدہ ‘ بھائی ساجد خان اوردیگربہنوں کے ساتھ رہائش پذیرہے دو سال قبل اس کے بھائی ساجدپرالزام عائد کیاگیاکہ اس نے سجاول نامی شخص کے خاندان میں ایک خاتون کو موبائل سیٹ تحفے میں دیاوہ معاملہ پنچایت کے سامنے پیش ہوئے جس کی سربراہی تحصیل ناظم مونی خان کررہے تھے۔

درخواست گذار نے کہاکہ باوجود اس کے کہ اس کے بھائی نے الزامات کی تردید کی اورکہاکہ وہ حلف اٹھانے کو تیارہے پنچایت نے اس پرپانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیاجو کہ بعدازاں کم کرکے تین لاکھ روپے کردیاگیا خاتون نے کہاکہ 27اکتوبر کو وہ بمعہ پڑوس کی دیگرخواتین کے ہمراہ پانی لینے کیلئے تالاب گئی اوردوپہردو بجے جب وہ واپس آرہی تھیں تو راستے میں ملزمان سجاول‘ شاہجہان ‘ ناصر‘ اسلم ‘ ثناء اللہ اوردیگر نے اس کو زبردستی پکڑ کرسیدو نامی شخص کے گھرلے گئے جہاں پرقینچی سے اس کے زیب تن کپڑے پھاڑے گئے اوراس کو بعدازاں گلیوں میں برہنہ حالت میں گھمایاگیا۔

اس سارے واقعہ کی وڈیورحمت اللہ نے بنائی کیونکہ ملزمان ہتھیار سے لیس تھے اس لئے کسی کواس کو بچانے کی ہمت نہ ہوئی اس کاکہناہے کہ شروع میں جب اس کی والدہ کو علم ہواکہ اس کواغواء کرکے سیدو کے گھرلے جایاگیاہے تو اس نے پولیس سٹیشن چودوان کارخ کیا مگر ایس ایچ او نے اس کی مدد کرنے سے انکارکیاوقوعہ کے بعد وہ بمعہ اپنی والدہ اورچچاحکیم خان کے ساتھ تھانے گئی مگررپورٹ روزنامچہ میں درج کی گئی اوربعدازاں رات آٹھ بجے علاقے کے لوگوں کے احتجاج پرایف آئی آر کاٹی گئی اس نے مزید کہاکہ شروع میں پولیس نے دفعات354اے جو کہ خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔

شامل نہیں کی تھی جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے ‘ قاضی محمد انور ایڈوکیٹ نے دلائل دئیے کہ اس مسئلے کو سیاسی نہ بنایا جائے کیونکہ یہ انتہائی ظلم ہے ‘ اسی دوران عدالت میں موجود ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ ہر قسم کی قانونی اور اخلاقی امداد کی جائے گی تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے ‘ اس سلسلے میں پولیس حکام بھی عدالت میں پیش ہو جائینگے جس پر فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ آج بدھ کو متعلقہ پولیس حکام سے تحریر جواب حاصل کرکے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس حوالے سے ان کا جواب سامنے آئے ‘ سماعت آج بدھ کے روز تک ملتوی کر دی گئی ۔