بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے


پشاور اپنی چاروں اطراف میں اب تو خاصا پھیل گیا ہے بلکہ اس کے قرب و جوار میں کئی ایک نئی بستیاں بھی بن گئی ہیں اور ابھی کتنی نئی بستیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اسلئے پرانے پشاور کی فصیل کے اندر کی خوشبو ان نئی بستیوں کا رخ کرنیوالے پشاوری ساتھ لے گئے ہیں لیکن نئی بستیوں کا المیہ یہ ہو تا ہے کہ وہاں رہنے والے اپنے اپنے گھروں میں سمٹ کر اجتماعی بود و باش سے منہ موڑ لیتے ہیں‘ یوں بھی نئی بستیوں میں کسی ایک شہر کے باسی نہیں ہوتے بلکہ مختلف اوقات میں دور دراز علاقوں سے روزگار کے سلسلے میں آکر پشاور میں بسنے والے ان نئی بستیوں کی طرف اسلئے بھی نقل مکانی کرتے ہیں کہ وہ پشاور جن دیہات سے آئے تھے وہاں ان کے گھر کھلے کھلے اور ہوادار تھے اور نئی بستیوں میں یہ سہولت مو جود ہوتی ہے اس لئے یہ نئی بستیاں ان کی ترجیحات میں سر فہرست ہوتی ہیں اور پشاور کے جن مکینوں کو بوجوہ اپنے گھر تنگ لگنے لگتے ہیں ان کو بھی کھلی ہوا سے زیادہ نئے گھر میں گنجائش کی ضرورت ان بستیوں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے ایک زمانہ تھا کہ ایک ایک اور دو دو کمروں کے گھروں میں کئی کئی بچے‘ماں باپ اور دادا دادی ایک ساتھ رہتے تھے اور کبھی کہیں سے کسی قسم کی تنگی کی شکایت کی صدا سنائی نہیں دیتی تھی بلکہ ان گھروں میں قریب و دور کے رشتہ دار بھی آ آ کر ہفتوں ٹھہرتے تھے‘ خصوصاً بزرگ خواتین کو تو بطور خاص اپنے گھروں میں بلایا جاتا‘ تنگ اور بند گلیوں میں تو صبح سویرے ساری خواتین گھروں کے کام کاج ختم کر کے گلی میں آ کر بیٹھ جاتیں کسی گھر سے قہوہ آ جاتا اور قہوہ کیساتھ اپنا پسندیدہ مشغلہ’گاسپ ‘ شروع کر دیتیں‘ یوں سب لوگ ایک دوسرے سے دکھ سکھ میں بھی شریک ہوتے رہتے اسی کلچر نے اس روزمرہ کو جنم دیا کہ ’’ ہم سایہ ماں پیو جایا‘‘یہ صرف لفظی اظہار نہ تھا دل و جان سے اس کو مانتے تھے۔ اس لئے اگر دن کو خواتین کی وجہ سے گلیاں آباد تھیں تو شام کو ان گھروں کی بیٹھکوں کی رونق بڑھ جاتی‘۔

پھر یار لوگ رات گئے تک نہ صرف پشاور کے روایتی تلخ قہوہ سے جی بہلاتے بلکہ دیہات کے حجروں کی طرح ’ ٹنگ ٹکو ر‘ یعنی ہلکی پھلکی موسیقی بھی ساتھ ساتھ چلتی ‘کوئی محلے یا علاقے کا خوش گلو دوست سب کی آنکھ کا تارا ہوتا‘یا ستار‘رباب یا بانسری بجانے والا میسر آ جاتا تو یہ ہر شام کی ’’ٹریٹ ‘‘ ہوا کرتی‘ اسلئے پشاور کے لوگوں میں موسیقی سے رغبت ایک لازمی امر بن گیا تھا پھر بعض نو جوان ملکراپنا کوئی گروپ بنا لیتے جو پشاوریوں کی شادیوں کو زیادہ شاندار اور جاندار کر دیتے مجھے یاد ہے کہ ایک معروف و مقبول گروپ دھمکار پارٹی کے نام سے پشاور کی خوشیوں کی تقریبات کو چار چاند لگا دیتا‘ ان پارٹیوں کے بہت سے شوقیہ فنکار بعد میں پروفیشنل بھی ہو گئے تھے‘جن میں افتخار قیصر جیسا بے بدل فنکار بھی شامل تھا‘ یہ ایک پرشور مگر پر تاثیر موسیقی کے رسیا تھے جس میں باقی آلات موسیقی کیساتھ ساتھ چمٹے کی آواز بہت نمایاں ہوتے یہ گروپ ایک لحاظ سے اس موسیقی کے رد عمل کے طور پر سامنے آئے جو ان دنوں شادی کے موقع پر رائج تھی‘اور وہ قوالی تھی‘جس میں پہلے پہل تو محض صوفیانہ کلام گایا جاتا رہا‘ پھر وقت کیساتھ اس میں باقی کلام کی گنجائش نکال لی گئی اسکی مقبولیت کی وجہ سے بعض دیہات اور قصبات کے متمول لوگ اپنی شادیوں میں ان قوالوں کو مدعو کرتے چنانچہ اکوڑہ خٹک کے خان بہادر محمد امین کے بنگلے میں کسی شادی کے موقع پرانہوں پشاور کے معروف قوال گھرانے کے غلام رسول قوال کو بلایا تھا تو پورا گاؤں امڈ آیا تھا،تب میں غالباً پانچویں یا چھٹی جماعت کا طالب علم تھا مگر مجھے اس شخص نے بعد کے کئی زمانوں تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا اور جب پانچویں چھٹی کلاس کی بات کرتا ہوں تو یہ آج کے زمانے کی پانچویں نہ تھی اب تو ’’ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ‘‘ کا دور ہے اور بقول انور مسعود نرسری میں بھی داخل ہونے کے لئے یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ آپ کے بچے کو ا فلاطون ہو نا چاہئیہم نے تو ’ اے۔بی۔سی ‘ سیکھنا پانچویں کلاس میں شروع کیا تھا۔ اسلئے ہمارے لئے یہ محفل ایک بہت بڑی تفریح بن گئی تھی،خصوصاً جب انہوں نے قوالی کے انداز میں گایا۔پلا دے قہوہ تو اس حسن طلب پر ہم بچوں کا خیال یہی تھا کہ شاید گا گا کر ان کے سر میں درد شروع ہو گیا ہو گا ورنہ یہ گا گا کر قہوہ کیوں مانگتے ۔

در اصل اس وقت( بعض علاقوں میں اب بھی ) گاؤں میں سردرد‘کھانسی یا بخار کی صورت میں ہی قہوہ گھروں میں بنتا تھا اور بچوں کے لئے یہ قہوہ نارنج کی پتیوں سے بنا یا جاتا تھا۔ غلام رسول سے پشاور میں پھر بہت سے ملاقاتیں ہوئیں پھر پشاور میں جاوید اختر مقبول ہوئے اور انہوں نے شگفتہ اور مزاحیہ کلام کو قوالی میں پاپولر بنایا یہ وہی جاوید اختر ہیں جنہوں نے پشتو طرز پر اردو گیت گائے جو سٹیج‘ریڈیو اور ٹی وی سے چلے اور ایک زمانے کو اپنا گرویدہ بنایا‘روشن نگینوی اور طہٰ خان نے ان دھنوں پر خوب گیت بنے تھے‘ اور یہ گیت تو آ ج تک سپر ہٹ گیت مانا جاتا ہے
تجھ کو قسم ہے نہ آنا ہاتھ خالی
آنکھوں میں بسنے والے ۔۔۔میرے چمن کے مالی
اور پھر یہ گیت بھی بہت پاپولر ہوا جسے ٹی وی کے لئے عبدالمالک عاکف نے گایا تھا
اب کے برسات میرے گاؤں میں جب جانا بادل۔۔۔میری دعائیں برسانا بادل۔

بات فصیل شہر کے اند ررہنے والے پشوریوں کے عمدہ ذوق اور آرٹ خصوصاً موسیقی سے دلچسپی کی ہو رہی تھی۔پرانے وضعدار پشاوریوں میں شعر و ادب کا حوالہ بھی اتنا ہی معتبر تھا اور اس کیلئے شہر میں ایک تواتر سے ادبی تقریبات ہوا کرتیں اور بطور خاص رات گئے تک جاری رہنے والے مشاعرے تو جیسے پشاوری تہذیب کی جان تھے‘پھر ضیاء جعفری‘فارغ بخاری اور رضاہمدانی نے آنیوالی نسل کی بھرپور تربیت کی‘ فارغ بخاری کی بیٹھک تو بہت سوں کے ساتھ ساتھ علمی شہرت کے حامل اور مقبول شعراء احمد فراز‘خاطر غزنوی اور محسن احسان کیلئے تربیت گاہ بن گئی تھی۔ کتنے ہی اردو ہندکو اور فارسی کے عمدہ اساتذہ کے دم سے پشاور کی ادبی فضا معطر رہی‘ میری نسل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ فارغ بخاری اور احمد فراز یعنی ان دونوں نسلوں کیساتھ ادبی محفلوں میں شرکت کا موقع ملا‘ ۔
۔
اسی طرح شوکت واسطی نے بھی خوب رونق میلہ لگائے رکھا‘اس دن قرطبہ یونیورسٹی کے ایک بہت خوبصورت مشاعرے میں شرکت کے بعد جہاں عبدالعزیز نیازی اور انکے دوست خاطر غزنوی کی یاد آئی وہاں مہرباں دوست پشاور ماڈل سکول و کالج کے منتظم غیور سیٹھی کیساتھ واپس آتے ہوئے اس دور کو یاد کرتے رہے ۔غیور سیٹھی نے شعر و ادب کے ایک جیالے اور طرحدار بزرگ ایوب صحرائی کا ذکر چھیڑ دیا خصوصاً اسکا ہر سال شعرا کی تصاویر سے سجا ہوا کیلنڈر شائع کرنا اور شہر کے اہم مقامات اور ریستورانوں‘ دکانوں میں آویزاں کروانا ایک شوق تھا‘ اس میں شہر کے نئے پرانے سارے شعرا کی تصاویر ہوتیں‘دو سال تک میری تصویر بھی اس کیلنڈر کا حصہ بنی رہی‘سچی بات ہے کہ بعد کے زمانوں میں ہم نے اس عاشق ادب کو کم کم یاد کیا غیور سیٹھی نے جب اسکا اور آقائے ابولکیف کیفی کا ذکر چھیڑا تو اس زمانے کا پشاور اور ادبی محافل نے آنکھوں میں دھواں سا بھر دیا‘کیا کیا کمال اور وضعدار لوگ اس شہرکے منظر نامے میں تہذیب اور شائستگی کے رنگ بھرتے رہے۔ فراز نے کیا اچھا کہا ہے
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے