بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریاست کی رٹ

ریاست کی رٹ


اب تو یہ بات طے ہے کہ تقریباً اس ملک کے تمام ریاستی اداروں نے وہ کام کرنا چھوڑ دیئے ہیں جو انکی ذمہ داری ہے اور جوا ن کے فرائض منصبی میں شامل ہے اور جب تک عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ انکے کان نہ مروڑے وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اسلئے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عدالتوں پر یہ الزام لگائے کہ وہ کئی امور میں از خود نوٹس کیوں لے رہی ہیں؟ ان کو بہ امر مجبوری ایسا کرنا پڑ رہا ہے اسکی تازہ ترین مثال اسلام آباد میں دھرنا تھا جس سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کی زندگی کئی روز تک اجیرن ہو گئی‘ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس اور ایس پیز دھرنا دینے والوں سے فوراً یعنی دھرنے کے پہلے دن ہی مذاکرات کرتے تویہ قضیہ اتنا طولانی نہ ہوتا اور خلقت خدا کو تقریباً دو ہفتوں تک روزمرہ کے معمولات زندگی میں رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا انتظامیہ کے نیچے سے لیکر اوپر تک کے سب ذمہ دار اہلکاروں نے غیر ضروری تساہل سے کام لیا اور سول سوسائٹی جب تھک ہار کر عدالت عالیہ پہنچی تو وہاں سے ایک جج صاحب نے انتظامیہ کو حکم صادر کیا کہ وہ سڑکوں میں ڈالی گئی رکاوٹوں کو ہٹائے‘ انتظامیہ کے ذمہ دار اہلکاروں سے جب یہ پوچھو کہ آخر انہوں نے وہ کام پندرہ دن کے بعد کیوں کیا اور وہ بھی عدالت کے حکم پر کہ جو ان کو خود دھرنے کے پہلے یا دوسرے دن کر لینا چاہئے تھا تو انکا جواب یہ تھا کہ ان سیاسی حکومتوں کے دین ایمان کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہم اگر قانون کے مطابق کاروائی از خود شروع کر دیتے اور خدانخواستہ اس کاروائی کے دوران کچھ ہلاکتیں ہو جاتیں تو ان سیاسی حکومتوں نے پھندا ہمارے گلے میں ڈالنا تھاکیونکہ حالات خراب ہو جانے کی صورت میں کہ جو اس قسم کے کیسز میں اکثر ہو جایا کرتے ہیں ۔

سیاسی حکومتیں قربانی کا بکرا ہمیشہ انتظامیہ کے اہلکاروں کو ہی اس میں بناتی چلی آئی ہیں عدالت عالیہ کے جج کے حکم کے بعد ہم نے کاروائی کا آغاز اسلئے کیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب چونکہ یہ عدالتی حکم ہے اس کی تعمیل کرنے میں اگر کوئیCasuality ہو بھی جائے تو ہماری نوکری محفوظ رہے گی بقول کسے اب ہمیں کوئی قصور وار نہیں ٹھہرا سکے گا‘اس سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ حکومت نے انتظامیہ اور پولیس کو کس قدر مفلوج کر رکھا ہے اگر ہمارے حکمرانوں میں رتی بھر بھی اسلام کا جذبہ ہوتاتوہماری قیادت فوراً امریکی حکومت بلکہ اسکے صدر کو یہ خط لکھتی کہ تم کون ہوتے ہو ہمیں یہ کہنے والے کہ ہم توہین رسالت کا قانون ختم کر دیں ‘خدا لگتی یہ ہے کہ امریکہ سے آنکھیں ملا کر صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی بات کر سکتا تھا اس کے بعد ہر آنیوالے حکمرانوں کے تلوں میں اتنا تیل تھا ہی نہیں کہ وہ کوئی کھری بات امریکہ سے کر سکیں وہ سب کے سب امریکہ کے آگے ہمیشہ بھیگی بلی بنے رہے ہیں اس بات کو منظر عام پر ضرور آنا چاہئے کہ کس کے قلم سے وہ تنازعہ کھڑا ہوا کہ جس کی وجہ سے ہمارا دارالحکومت کئی دنوں تک مفلوج رہا یہ ہمارے حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشی نہ تھی تو پھر کیا تھی جو انہوں خواہ مخواہ اپنے لئے اس قسم کی متنازعہ قانون سازی کرکے ایک نیا درد سر مول لے لیا‘دال میں کچھ تو کالا ہے جو سب برسراقتدار لوگ آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں کھل کر بات نہیں کرتے وہ عوام کے دلوں میں مزید شکوک وشبہات پیدا کر رہے ہیں ۔