بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / میڈیکل کالجز میں جدید ماڈیولر سسٹم کا نفاذ

میڈیکل کالجز میں جدید ماڈیولر سسٹم کا نفاذ


شعبہ صحت بالخصوص طبی درس وتدریس سے تعلق اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ خبر یقیناًدلچسپی اور توجہ کی حامل ہوگی کہ خیبر پختونخوا کی پہلی اور واحد طبی جامعہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور نے ورلڈ فیڈریشن آف میڈیکل ایجوکیشن کی گائیڈ لائنز اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی روشنی میں صوبے کے پانچ میڈیکل کالجز خیبر میڈیکل کالج پشاور‘ خیبر گرلزمیڈیکل کالج پشاور‘کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوہاٹ‘رحمان میڈیکل کالج پشاور اور نارتھ ویسٹ سکول آف میڈیسن پشاورمیں پائلٹ بنیادوں پر جدید ماڈیولرکیریکولم سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کیاہے۔واضح رہے کہ اس جدید نصاب اور طریقہ تدریس کے نفاذ کا فیصلہ یونیورسٹی کے حال ہی میں تعینات ہونیوالے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی زیر صدارت کے ایم یو کے ساتھ الحاق شدہ صوبے کے مختلف میڈیکل کالجز کے سربراہان کیساتھ ہونے والے کئی اجلاسوں میں ہونیوالی تفصیلی بحث کی روشنی میں کیا گیا ہے۔اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوامیں میڈیکل ایجوکیشن کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت عرصہ درازسے محسوس کی جا رہی تھی اور اس ضمن میں پی ایم ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے پہلے ہی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے اصلاحات کے ایک جامع اور وسیع ایجنڈے پر کام ہورہا ہے ۔

مذکورہ کمیٹی ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں جدید ماڈیولر سسٹم کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے تجاویز اور ہدایات جاری کر چکی ہے‘ دوسری جانب یہ بات بھی محتاج بیان نہیں ہے کہ پاکستان کے اکثر میڈیکل کالجز میں اب بھی پچاس سالہ بلکہ شاید اس سے بھی پرانا اور فرسودہ طبی نصاب پرانے طریقہ تدریس کے ذریعے پڑھایا جا رہا ہے جس سے نہ صرف معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ ان فرسودہ اور روایتی طریقوں کے باعث شعبہ صحت میں مختلف نت نئے امراض کی صورت میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں بھی کئی پیچیدگیاں اور تکنیکی رکاوٹیں آڑے آ رہی ہیں ‘میڈیا رپورٹس کے مطابق کے ایم یو نے صوبے کے پانچ میڈیکل کالجزمیں جدید ماڈیولر کریکولم سسٹم کے نفاذ کا حالیہ قدم ورلڈ فیڈریشن آف میڈیکل ایجوکیشن اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات اور گائیڈ لائنز کی روشنی میں اٹھایا ہے جنہوں نے پاکستان سمیت تمام ترقی پزیر ممالک کو 2023 تک اپنے طبی نصاب اور طریقہ ہائے تدریس میں اصلاحات کے ذریعے ماڈیولر نصاب کا نظام متعارف کرانے کی نہ صرف ڈیڈ لائن دے رکھی ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کو یہ وااضح تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر ان ممالک نے اس جدید نظام کو اپنے ہاں 2023 تک متعارف نہیں کرایاتو ان ممالک کے میڈیکل گریجویٹس کو ترقی یافتہ ممالک میں نہ تو اعلیٰ طبی تعلیم اور تحقیق کی اجازت دی جائیگی اور نہ ہی ان ترقی پذیر ممالک کے میڈیکل گریجویٹس ترقی یافتہ ممالک میں طبی پریکٹس کی سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے۔

کے ایم یو کے وائس چانسلر اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر امراض سینہ و دمہ پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاویدنے متذکرہ ماڈیولرسسٹم کے بارے میں بتایا کہ اس نظام کے نفاذ کا مقصد پرانے اور روایتی طبی نصاب اور طریقہ ہائے تدریس کی بجائے طلباء وطالبات کو جدید رجحانات اور طریقوں کے مطابق پڑھانا اور انہیں عالمی طبی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے‘یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں2023 تک یہ جدید ماڈیولر سسٹم نافذ نہ کیا گیاتو اسکے بعد پاکستان کے ڈاکٹرز کو ترقی یافتہ ممالک میں رجسٹریشن اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کیساتھ ساتھ طبی پریکٹس میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے شاید اسی احساس کے تحت کے ایم یو نے ابتدائی طور پرصوبے کے پانچ میڈیکل کالجز میں جدید ماڈیولر سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کیاہے جسے بعد ازاں بتدریج صوبے کے دوسرے میڈیکل کالجز تک بھی توسیع دی جائیگی اس سسٹم کے بارے میں یہ بھی معلوم ہو اہے کہ چونکہ یہ طبی تعلیم یعنی ایم بی بی ایس کے پانچ سالہ پروگرام پر محیط ہوگا اسلئے 2023کی حتمی ڈیڈ لائن تک صوبے کے تمام میڈیکل گریجویٹس کو اس سسٹم کے تحت پڑھانے کیلئے اسکا نفاذ چونکہ 2018کے اگلے سال شروع ہونیوالے سیشن سے ضروری ہے لہٰذا اسکا پائلٹ بنیادوں پر 2017کے سیشن سے آغاز ضروری تھا لہٰذااسی سوچ کے تحت کے ایم یو نے رواں سیشن سے مذکورہ بالا پانچ میڈیکل کالجز میں یہ جدید ماڈیولر سسٹم نافذ کردیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی۔