بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ڈیرہ واقعہ حکومتی ذمہ داری

ڈیرہ واقعہ حکومتی ذمہ داری


خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع جس مستقل پسماندگی اُور غربت کی تصویر ہیں‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان علاقوں میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی معمول بن چکی ہے۔ سیاسی اثرورسوخ‘ دولت اور امارت کا ناجائز استعمال کرنیوالوں میں سیاستدان ریاست کی بالادستی مضبوط بنانے کیلئے قانون کے بلاامتیاز اطلاق کیلئے اپنا خاطرخواہ کردار ادا نہیں کر رہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک تسلسل سے ان علاقوں میں ظلم و زیادتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں جنکی اکثریت رپورٹ نہیں ہوتی ‘مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ جن معاشروں میں انصاف تک رسائی کیلئے متبادل نظام تشکیل دیئے جائیں‘ جہاں قبائلی روایات اور پنچائیت کے ذریعے عمومی تنازعات کے فیصلے پولیس کے علم میں ہونے کے باوجود ہو رہے ہوں‘ وہاں بالخصوص کمزور طبقہ یعنی خواتین کی بے حرمتی اور حق تلفی دیکھنے میں آتی ہے‘ جیسا کہ ستائیس اکتوبر دوہزار سترہ کے روز ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں گرہ مٹہ میں ہوا‘ جہاں سولہ سالہ یتیم لڑکی (شریفاں) کو بے حجاب کیا گیا۔ وہ چیختی چلاتی رہی‘ مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن لڑکی کو کسی نے چادر نہ دی۔ کسی گھر نے پناہ نہ دی۔ مظلوم لڑکی بھاگتے بھاگتے جب کسی گھر میں داخل ہوتی تو مسلح حملہ آوروں کے ڈر سے گھر والے اسے واپس گلی میں دھکیل دیتے۔

ظلم کا یہ تماشا قریب ایک گھنٹے تک رہا جسکے بعد پولیس سے رابطہ کیا گیا تو زیادتی کا شکار ہونیوالوں کیخلاف ہی مقدمہ درج ہوگیا لیکن یہاں بھی ذرائع ابلاغ کام آئے جنکی وجہ سے یہ معاملہ قومی سطح پر زیربحث آیا۔ 31 اکتوبرکو ریجنل پولیس آفیسر کے دفتر سے پریس ریلیز جاری ہوئی جس میں واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ واقعہ کے بعد آر پی او سیّد فدا حسین شاہ نے پولیس ٹیم تشکیل دی جس نے 9 نامزد ملزمان میں سے 8 کو گرفتار کیا۔ پولیس کی اس کارکردگی کا بیان پولیس سربراہ صلاح الدین محسود نے بھی کیا‘۔

جنکے بقول زیرحراست ملزمان کے قبضے سے موبائل فون برآمد کئے گئے تاہم ان موبائل فونز سے لڑکی کی ویڈیو حاصل نہیں ہوسکی‘20 نومبر کے روز مذکورہ لڑکی اور اسکے اہل خانہ نے قاضی محمد انور ایڈوکیٹ کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت سے بار بار انصاف کی درخواست کرنے کے باوجود بھی انہیں تاحال انصاف نہیں مل سکااور ملزمان انہیں دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں کہ اگر معاملہ رفع دفع نہ کیا گیا تو وہ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دیں گے۔ عدالت عالیہ کے سامنے پیش کردہ واقعات کی تفصیلات میں درج ہے کہ ’’جس خاتون کی بے حرمتی کی گئی اسکے اکلوتے بھائی (ساجد) کے اپنے ہی خاندان کی کسی لڑکی سے مراسم تھے اور دو سال قبل اس نے لڑکی کو موبائل فون تحفے میں دیا تھا۔ ان تعلقات کا علم جب لڑکی کے بھائیوں کو ہوا تو انہوں نے معاملہ ’گرہ مٹہ پنچائیت‘ کے سامنے رکھا‘ جس نے لڑکے پر پہلے پانچ لاکھ اور بعدازاں تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جو اَدا کرنے کے باوجود بھی اُن کا غم و غصہ زائل نہ ہوا۔ لڑکی کے بھائیوں نے اپنی بہن سے تعلقات کا بدلہ لینے کیلئے ستائیس اکتوبر کے روز مسماۃ شریفاں کو بے پردہ کیا ‘یکم نومبر کو پی آر او ڈی آئی خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ستائیس اکتوبر کے وقوعے سے متعلق پولیس کو پہلے دن ملنے والی رپورٹ بعدازاں جھوٹی نکلی۔

دوسرے روز تحقیق کے بعد نیا مقدمہ (نمبر 210) درج کیا گیا اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے بذات خود تفتیشی عمل کا آغاز کیا جس میں کل 9 ملزمان کی نشاندہی کی گئی جن میں سے آٹھ گرفتار ہو چکے ہیں اور صرف سجاول نامی ایک ملزم کی گرفتاری باقی ہے۔‘‘ لیکن اس پریس کانفرس کے سترہ دن بعد اٹھارہ نومبر کو انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ’7افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔‘حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کے انتقام کی جرات نہ کر سکے۔ وقت ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کے دعویدار اپنے عمل سے ثابت کریں کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے‘وزیراعلیٰ پرویز خٹک یوں تو ہیلی کاپٹر لئے یہاں وہاں آتے جاتے رہتے ہیں لیکن انہیں تیس دن میں فرصت نہیں ملی کہ متاثرہ خاتون کے گھر کا دورہ کریں یا متاثرہ خاندان کے افراد جو اِن دنوں پشاور میں ہیں‘ ان سے ملاقات کرکے تحفظات دور کئے جائیں‘ صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے لئے ’سانحۂ گرہ مٹہ‘ یقیناًکسی چیلنج سے کم نہیں! ۔