بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست : نہ ختم ہونے والا کھیل!

سیاست : نہ ختم ہونے والا کھیل!


مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ قانون کی گرفت میں آ چکی ہے اور اب اِس سے سرخرو ہو کر نکلنا ممکن نہیں! پاکستان کو چار وزرائے اعظم دینی والی اس جماعت کے قائدین عدالتوں کا سامنا بھی کر رہے ہیں اور احتساب کے عمل پر شکوک و شبہات بھی پیدا کر رہے ہیں جو دو متضاد قسم کے عمل ہیں‘ ایبٹ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا اور پوری قوم نے سنا کہ ’طاقت کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرنیوالوں کا کھیل ختم ہوچکا ہے‘ اب خلق خدا فیصلہ کریگی‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ اقتدار خود انہی کی جماعت کے پاس ہے اور اس پر کسی نے قبضہ نہیں کیا جبکہ جہاں تک خلق خدا کا فیصلہ کرنیکی بات ہے تو ہر وہ فیصلہ جو آئین کے تحت ہوتا ہے وہ خلق خدا کی ترجمانی ہی کرتا ہے کیونکہ خلق خدا کی منتخب پارلیمنٹ نے پاکستان کا آئین تخلیق کیا‘مقام حیرت ہے کہ جب قانون کا اطلاق خواص پر ہوتا ہے تو انکی چیخیں نکل جاتی ہیں لیکن جب اسی قانون کے تحت عوام کے فیصلے ہوتے ہیں تو کسی کی جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ عدالت کے کردار‘ فیصلے یا اختیار کے بارے میں اعتراض یا تحفظات کا یوں کھلے عام اظہار کرے‘ نوازشریف نے وزارت عظمیٰ سے اپنی معزولی کے بعد رابطہ عوام مہم کا سلسلہ اگرچہ اسلام آباد سے لاہور تک اپنے لانگ مارچ کے ذریعہ ہی شروع کردیا تھا اور توقع یہی تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے مرحلہ یا کسی اور شکل میں وہ رابطہ عوام مہم جاری رکھیں گے تاہم انہیں اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی اچانک علالت کے باعث انکے ہمراہ برطانیہ جانا پڑا اور اپنی اہلیہ کی علالت کے دوران ہی وہ نیب کے ریفرنسوں میں الجھ گئے چنانچہ انکا عوام سے رابطہ تسلسل کیساتھ برقرار نہ رہ سکا جبکہ انکی مخالف سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی جماعت اسلامی اور اے این پی کے قائدین نے ملک بھر میں پبلک جلسوں کے ذریعے بھرپور انداز میں رابطہ عوام مہم کا سلسلہ شروع کردیا ۔

جسکے دوران ان جماعتوں کے قائدین نے بالخصوص پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ اور نیب کے ریفرنسوں کے حوالے سے میاں نوازشریف اور انکے اہل خانہ کو کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات میں رگیدنا شروع کر دیا‘ اسی دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی جیسے گھمبیر عوامی مسائل نے بھی سر اٹھالیا جبکہ حکومت کی مخالف درآمدی اشیاء پر عائد ٹیکس بڑھانے اور نئے ٹیکس لگانے اور اس کیساتھ تیل اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرنیکی پالیسی نے بھی نوازشریف اور انکی پارٹی کی سیاست پرمنفی اثرات مرتب کرنا شروع کردیئے جبکہ نیب ریفرنسوں کی سماعت کے دوران ہی پانامہ کیس کے فیصلہ کیخلاف میاں نوازشریف کی نظرثانی کی درخواست کا عدالت عظمیٰ کے متعلقہ پانچ رکنی بنچ نے تفصیلی فیصلہ صادر کردیا جسکے نتیجہ میں میاں نوازشریف مزید دفاعی پوزیشن پر آگئے‘ اگرچہ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے رابطہ عوام مہم میں میاں نوازشریف کی محسوس کی جانیوالی کمی دور کرنے کی کوشش کی اور حلقہ این اے ایک سو بیس لاہور کے ضمنی انتخاب کی میاں نوازشریف کے نام پر تن تنہاء مہم چلا کر ثابت کیا کہ نواز لیگ کی سیاست کا انحصار اور دارومدار میاں نوازشریف کی ذات پر ہی ہے۔ نوازشریف‘ مریم نواز اور نواز لیگ کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کا کوئی رکن اسمبلی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔

اس کے باوجود یہ نواز لیگ کی قیادت کی آزمائش کا مرحلہ ہے کیونکہ نااہل شخص کو پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دلانے کا تحریک انصاف کا پیش کردہ بل موجودہ معروضی حالات میں اسمبلی کے فلور پر منظور ہوگیا تو اس سے نواز لیگ کے تاریک مستقبل کا آغاز ہو جائیگا‘ تاہم یہ بل ناکام بھی ہو گیا تو بھی میاں نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت عام انتخابات میں حصہ لینے کے نااہل قرار پانے کے باعث دوہزار اٹھارہ کے انتخابی عمل سے آؤٹ رہیں گے‘ اس طرح وہ آنے والی اسمبلی میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نہیں بن سکیں گے اور انہیں بہرصورت اپنے متبادل پارلیمانی لیڈر اور وزیراعظم کا ابھی سے فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ انکی پارٹی کی صفوں میں کسی قسم کی کمزوری پیدا نہ ہوسکے‘ ایبٹ آباد کے جلسہ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اپنی جارحانہ سیاست برقرار رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے نوازشریف کو نیب ریفرنسوں اور ان کیخلاف اپیلوں میں ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے‘ اس بات کا نوازشریف کو خود بھی بخوبی احساس ہے اسلئے موجودہ حالات بطور خاص ان کیلئے ٹیسٹ کیس ہیں‘ نوازشریف تو اب منجھے ہوئے زیرک سیاستدان کی حیثیت سے فہم و تدبر کے ہر معیار پر پورا اترتے ہیں لیکن ’پوسٹ پانامہ کیس‘ ان سے جس قسم کے دانشمندانہ فیصلوں کی توقع تھی‘ وہ پوری نہیں ہوئی۔ وہ جلدبازی میں غلطیوں پر غلطیاں کر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو آئندہ عام انتخابات میں اُن کی جماعت کو شدید نقصان ہوگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر وسیم کریم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)