بریکنگ نیوز
Home / کالم / زلزلہ اور اسکے بعد

زلزلہ اور اسکے بعد


2005 کی اس صبح کو کون بھول پائے گا کہ جب بچے اپنی کلاسوں میں سبق لے رہے تھے اور کچھ لوگ اپنے کھیتوں کھلیانوں کو جانے کی تیا ری کر رہے تھے ۔ کچھ راتوں کو جاگنے والے اپنی نیند پوری کر رہے تھے۔دفاتر میں کام کرنے والے اپنی اپنی میزیں سجائے بیٹھے تھے کہ اچانک زور دار جھٹکوں نے سب درہم برہم کر دیا۔گاؤں برباد ہو گئے‘ شہروں کی بلند و بالا عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔ بہت جگہوں پر پہاڑ بھی اپنی ہیت برقرار نہ رکھ سکے اور خود بھی گرے اور اپنے ساتھ اپنے باسیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا‘کہنے والے نے کہا کہ قیامت کا سماں تھا صرف صور نہیں پھونکا گیاتھا۔ لاکھوں جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔ سکولوں میں بچے عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ۔ ایسے بھی ہوا کہ پورے گاؤں میں کوئی ماتم کرنے والا بھی باقی نہ بچا مظفر آباد اور بالاکوٹ تو چٹیل میدان بن گئے۔ امدادی ٹیمیں بڑی تیزی سے متاثرین کو پہنچیں مگر تیزی بھی کام نہ آئی کہ جہاں بھی گئے ملبے کے ڈھیر اور ڈھیروں میں لاشیں ہی ملیں‘ روزے دار جو سحری کھا کر آرام کو لیٹے تو پھر قیامت تک نیند میں چلے گئے۔ کل تک بڑے بڑے بنگلوں کے مالکوں کو سر چھپانے کی جگہ بھی میسر نہ ہو پائی‘ اس قیامت خیزی کے بعد اور بھی بہت سی قیامتیں ان متاثرین کی راہ دیکھ رہی تھی اور ابھی تک انکا پیچھا کر رہی ہیں۔

حکومتوں نے مدد گار ٹیمیں بنائیں اور زلزلہ زدگان کی امداد کی کوششیں کیں مگر افسوس کہ اتنی بڑی تباہی دیکھ کر بھی ہماری لالچی حس نہ مر سکی اور جو امدادی سامان متاثرین کے لئے بھیجا گیا اس میں ہر طرح کی بے ایمانی کی گئی‘ ساری دنیا سے اربوں کھربوں کی امداد آئی مگر خدا جانے وہ کہاں گئی۔ ہو سکتا ہے کہ پٹواریوں اور دیگر عملے سے مل کر بڑے بڑے لوگوں نے یہ امداد آپس میں ہی تقسیم کر لی ہو مگر جہاں تک ہزارہ کے متاثرین کا تعلق ہے تو انکی اتنی بھی مدد نہ ہوئی کہ یہ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھر ہی مرمت کر لیں۔شہروں کی حد تک تو ضرور لیپا پوتی ہوئی مگر جو دور دراز کے دیہات تباہ ہوئے ان کو کسی نے جھوٹے منہ سے بھی نہ پوچھا‘ آزاد کشمیر میں پھر بھی کچھ نہ کچھ ہوا مگر ہزارہ کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا گیا‘ مظفر آباد کو نئے سرے سے آباد کیا گیا مگر بالاکوٹ کو اسلئے نظر انداز کر دیا گیا کہ بقول عمائدین حکومت یہ شہر زلزلوں کی ریڈ لائن پرہے اور اسے یہاں سے شفٹ کرنا ہے۔اس وقت کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے متاثرینِ زلزلہ کو یہ کہہ کر دلاسہ دیا کہ ان کیلئے اسلام آباد میں ایک سیکٹر مختص کیا جائیگاپھر یوں ہوا کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا والا مرحلہ آ گیا۔اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ کے قریب ’بکریال‘نامی جگہ پر نئے بالاکوٹ کا ڈول ڈالا گیا‘ زمین خریدی گئی لیکن اب تک متاثرین کو وہاں پلاٹ الاٹ نہیں کئے گئے۔خود عمران خان نے تین دن کی مہلت مانگی مگر اس پر بھی برسوں بیت گئے‘ ۔

اسکی شفٹنگ کب ہو گی یہ تو کسی کو معلوم نہیں مگر اسکا اثر یہ ہوا کہ اس شہر میں ڈویلپمنٹ کا کوئی کام بھی نہ کیا جا سکا۔ یہ شہر اس سے اوپر کے علاقے کا واحد مرکز ہے کہ جہاں سے دیگر دیہاتوں کے لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہیں مگر صور تحال یہ ہے کہ اس شہر کا ہسپتال بھی ناگفتہ بہ حالت میں ہے‘ اس ہسپتال میں کسی قسم کی ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ جس سے ایک بہت بڑی آبادی کو ریلیف مل سکے۔ گرمیوں میں لاکھوں افراد وادی کاغان کا رخ کرتے ہیں‘بارہا ایسا بھی ہوا کہ سیاح کسی حادثے کا شکار ہوئے لیکن بالاکوٹ کے ہسپتال میں انھیں ابتدائی طبی امداد تک بھی نہ مل سکی۔مندرجہ بالا حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر بالاکوٹ کے اس ہسپتال کو ہر طرح کی سہولیات سے مزین کیا جائے تا کہ اہل علاقہ اور سیاحوں کو پیش آنے والی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔لگتا ہے کہ حکمرانوں نے بالاکوٹ کی نئی جگہ شفٹنگ کے منصوبے کی بنا پر اس شہر کو سہولیات سے محروم کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ ادھر جہاں اسکو شفٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے وہاں ایک دھیلے کا کام بھی نہیں ہو پایا۔زلزلہ گزرے بارہ سال ہو چکے ہیں مگر شہر کی منتقلی کا منصوبہ ابھی تک شاید کاغذوں میں ہی ہے جو لاکھوں روپے اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے بیرونی امداد کے طور پر آئے تھے وہ نہ جانے کہاں گئے۔