بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / غلط میٹر ریڈنگ پر سزا

غلط میٹر ریڈنگ پر سزا


قومی اسمبلی نے برقی توانائی کی پیداوار ترسیل اور تقسیم کے حوالے سے 2017ء کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے بل سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق اووربلنگ کے ذمہ دار اہلکاروں کو تین سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی ترمیمی بل کے ذریعے نیپرا کو مستحکم بنانے کے اقدامات کے ساتھ اسے تحقیقات کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے بل کے تحت قومی ترقیاتی پالیسی ومنصوبہ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے وفاقی حکومت بنائے گی قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیسکو کے لاسز توانائی اور تقسیم کے فنڈز جاری نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس پر وفاقی وزیر اویس لغاری نے اعداد وشمار کیساتھ صورتحال کی وضاحت کی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بیرونی قرضوں تلے دبی وطن عزیز کی معیشت میں عالمی اداروں کی ڈکٹیشن پر بننے والے یوٹیلیٹی بل صارفین کیلئے بڑا بوجھ بنے ہوئے ہیں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پن بجلی کی پیداوار بڑھا کر شہریوں کے لئے توانائی کے اس اہم ذریعے کو سستا بھی کیا جاسکتا ہے ۔

اس بات سے روگردانی بھی ممکن نہیں کہ بھاری یوٹیلیٹی بل دینے والے بجلی صارفین لوڈشیڈنگ کی اذیت برداشت کرنے پر مجبور ہیں انکار اس سے بھی نہیں کیا جاسکتا لوڈشیڈنگ ختم یا کم ہونے پر مشکل سے بل ادا کرنیوالے کنزیومر صرف اس لئے اندھیروں میں رہتے ہیں کہ انکے آس پاس کے لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے جسکی سزا بل دینے کے باوجود برداشت کرنا پڑتی ہے اس سب کیساتھ غلط میٹرریڈنگ کا مسئلہ اپنی جگہ ہے اس ناکردہ جرم کی سزا میں صارفین متعلقہ دفاتر میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں مجبوری کے عالم میں بل اقساط میں منظور کرانے پر انہیں تاخیر سے ادائیگی کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے غلط میٹر ریڈنگ پر سزا کا بل منظور ہوناقابل اطمینان ضرور ہے تاہم یہ صارفین کے لئے ریلیف کا ذریعہ صرف اس صورت ثابت ہوسکتا ہے جب اس پر عمل درآمد کے لئے فول پروف میکنزم ترتیب دیا جائے غلط میٹر ریڈنگ پر سٹاف ممبرز کو سزا دینا اپنی جگہ مکینزم اس طرح کا ہونا ضروری ہے کہ صارف کو بل کی درستگی کے لئے چکر نہ کاٹنے پڑیں اس مقصد کیلئے آن لائن نظام کی افادیت مسلمہ سہی تاہم مدنظر یہ بھی رکھنا ہوگا کہ ہمارے ہاں کتنے لوگ اس سسٹم کو استعمال کرپاتے ہیں لائن لاسز پر قابو پانا ہو یا صارفین اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے درمیان رابطہ کمیونٹی کو اس سارے عمل میں شریک کرنا اچھے اور مثبت نتائج کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

نگرانی کے کڑے نظام کی ضرورت

سینئر صوبائی وزیر صحت نے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو نگرانی کا نظام موثر بنانے کی ہدایت کی ہے بعداز خرابی بسیار صوبے میں عوامی مسائل سے آگاہی اور ان کے حل کے لئے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع ہوا اور اب آئی ایم یو کو ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا کہا گیا اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ حکومتی سطح پر کسی بھی شعبے میں اصلاح احوال کے لئے محض ہدایات جاری کرنا قطعی ناکافی رہتا ہے ہیلتھ سیکٹر میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے باوجود لوگوں کی شکایات اپنی جگہ موجود ہیں یہی حال دوسرے شعبوں میں بھی ہے پشاور میں ٹریفک کے لئے جتنے پلان دے دیئے جائیں جب تک مانیٹرنگ نہیں ہوگی برسرزمین لوگوں کی مشکلات روز بروز بڑھتی ہی چلی جائیں گی حکومت کو اگر اپنے اقدامات ثمر آور بنانے ہیں تو پورے صوبے میں ہر سیکٹر کے لئے نگرانی کا نظام مستحکم بنائے اور اس میں خانہ پری پر اکتفا کی روش کا خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔