بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / لائن لاسز کے 200ارب روپے صارفین سے وصول

لائن لاسز کے 200ارب روپے صارفین سے وصول


اسلام آباد۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی نے اعتراف کیا ہے کہ 16فیصد لائن لاسز کے200 ارب روپے صارفین سے وصول کئے جاتے ہیں، بجلی کے نقصانات اور چوری کی شرح 22فیصد ہے، اگر 100روپے بل دیں تو 17فیصد چوری اور 5فیصد کا بل نہیں ملتا، وصول نہ ہونے والا 5فیصد گردشی قرضے میں چلا جاتا ہے، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا،بجلی کے نجی کارخانوں کی بندش سے قومی خزانے کو 28ارب سے زائد کا ٹیکہ لگ گیا، کمیٹی نیپرا سے متعلق 12آڈٹ اعتراضات پر 5رکنی کمیٹی تشکیل دے دی،کمیٹی چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا کہ گردشی قرضہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے دیا جاتا ہے، چیئرمین نیپرا سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 99فیصد لوگ بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتے، وہاں اسی وجہ سے کئی فیڈر بند کئے گئے ہیں۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت کابینہ ڈویژن کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات اور مالی سال 2015-16کی بجٹ گرانٹ کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے وزارت کابینہ ڈویژن کی چار بجٹ گرانٹ نمٹا دیں،کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کی گرانٹ پر عذرافضل پیچوہو نے کہا کہ بجٹ سرنڈر کرنے سے دوسرے اداروں کا حق مارا جاتا ہے، اس کو خرچ کیوں نہیں کیا گیا، ایرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا صرف سات ارب روپے کا بجٹ ہے اور ہم نے سرنڈر نہیں کیا، سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ پیپلز ورکس پروگرام میں یہ رقم خرچ کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ ایم ڈی جیز کی مد میں خرچ کئے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اتنا بجٹ لیا کیوں گیا تھا کہ بعد میں 26فیصد رقم سرنڈر کرنا پڑی، سیکرٹری کی تیاری نہ ہونے پر بجٹ گرانٹ موخر کر دی۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی میں کہا کہ نیپرا کیا ایک کامیاب ریگولیٹر ہے، آڈٹ حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ نیپرا کی جانب سے پاور پلانٹ کی صلاحیت سے کم استعمال پر قومی خزانے کو 28ارب 18کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا، نیپرا کی ذمہ داری ہے کہ ٹیرف ریٹ چارجز کو دیکھے، ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پاور پلانٹس کی نگرانی کرے، سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ نیپرا سمیت دیگر ادارے بھی دیکھتے ہیں۔

چیئرمین نیپرانے کمیٹی کو بتایا کہ ریگولیٹر کی ذمہ داری ہے کہ جینکوز کی کارکردگی کو دیکھے، اس بابت اداروں کو شوکاز سمیت 50لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا، عملداری معاہدہ پہلے نیپرا کرتا تھا اور اب سی پی پی اے کرتا ہے جو وزارت توانائی کے ماتحت ہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ معاہدے میں فرق ہونا چاہیے، اربوں روپے کی رقم کا معاملہ ہے، اگر وہ میسر ہے یا نہیں اس بارے میں بتائیں، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ کمیٹی رکن عذرافضل پیچوہو نے کہا کہ 28ارب کے نقصان میں صارف کو کیا نقصان ہوا، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ یہ رقم صارف کو شفٹ ہوئی ہے۔ چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ ریگولیٹر نے اس چیز کو نہیں مانا اور واپڈا سے پوچھا جائے۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ نیپرا موجود ہے اور واپڈا موجود ہے، ہم نے خود کچھڑی بنا دی ہے اور آبی وسائل کے اعتراضات میں ہائیڈرل کے منصوبے کے حوالے سے بات کریں، پانچ رکنی کمیٹی بنا کر ان 15آڈٹ اعتراضات تمام متعلقہ محکموں کو بلایا جائے اور معاملات کو حل کیا جائے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ عوام کو لوٹا جا رہا ہے، اداروں کی نا اہلی کا خمیازہ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ سارا ملبہ عوام پر ڈالا جا رہا ہے اور پولیس کو بتایا جا رہا ہے کہ روزانہ 14ہزار کا چالان کیا جائے، بجلی کے بغیر لوگوں کی زندگی نہیں گزر سکتی، عام آدمی پر بوجھ ہمیشہ بلنگ میں لگایا جاتا ہے، اس پر پورا ایک دن رکھا جائے۔ عارف علوی نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو بلایا جائے، لوٹ مار ہو رہی ہے، پانچ سے گیارہ فیصد نقصانات کا بوجھ صارف پر ڈالا جارہا ہے، اتنی بجلی استعمال نہیں ہوتی جتنا بل آتا ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ تیل میں بھی بہت بڑا گھپلا ہے، دنیا کی سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے۔ رانا افضال حسین نے کہا کہ کابینہ ڈویژن اس پر جواب دہ ہے، جینکوز کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں، 50 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے جس پر شیخ رشید احمد نے کہا کہ وہ جرمانہ ابھی تک دیا نہیں ہے، جس پر چیئرمین نیپرا نے اعتراف کیا کہ نہیں ملے۔ کمیٹی چیئرمین سید خورشید اشہ نے کہا کہ پانچ رکنی کمیٹی میں آڈیٹر جنرل بھی ہوں اور پانچ دن یہ کمیٹی چلے۔ کمیٹی چیئرمین نے سوال کیا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے۔ چیئرمین نیپرا نے کہا کہ موجودہ ٹیرف 2014-15کا ٹیرف ہے، نیپرا نے ٹیرف بنایا اور حکومت نے اس کو چیلنج کیا،2014-15میں فرنس آئل کی قیمت 65ہزار فی بیرل تھی اب 30سے 35ہزار ہے، زراعت کے شعبے میں سبسڈی دی جاتی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ 20ارب کا نقصان عوام پر ڈالا جا رہا ہے، عوام بجلی ہی نہیں لگانا چاہتے،150فیصد فیول میں بچتا ہے وہ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، غریب کو سبسڈی نہیں ملتی۔ چیئرمین نیپرا نے انکشاف کیا کہ ایک فیصد نقصان گیارہ ارب روپے ہے،17.9فیصد لائن لاسز ہیں۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ 200ارب روپے ٹوٹل نقصان بنا ہے، نیپرا چیئرمین نے کہا کہ 16فیصد نقصانات کی اجازت ہے۔

اس سے جو بھی اضافہ ہوتا ہے وہ گردشی قرضہ میں جاتا ہے،110ارب روپے نان ریکوری کا نقصان اور 22ارب چوری کی مد میں نقصان گردشی قرضہ میں جاتا ہے اور اس کے علاوہ باقی عوام کے ذمہ ہوتا ہے، جینکوز بھی 5سے 6ارب روپے گزشتہ دو سالوں سے نقصان میں ہیں اور ان کا نقصان بھی گردشی قرضے میں آتا ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عوام صحیح رو رہی ہے کہ وہ بجلی اتنی استعمال نہیں کرتے جتنا بل آتا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ تھرڈ بارش سے میٹر چیک کروائے جائیں، چوری کون کررہا ہے یہ پوچھا جائے۔ چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ 1.2فیصد صنعتی صارفین ہیں اور 95فیصد آمدن ہے،52فیصد صارفین گھریلو ہے اور 37فیصد آمدن وہاں سے ہوتی ہے، کے پی کے میں ایسے فیڈر ہیں جہاں 99فیصد نقصان ہے۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکول کو خلاف ضابطہ اور غیر قانونی طور پر Favourدی گئی،24کروڑ روپے سے زائد غیر قانونی فروخت کی گئی، حیسکول پٹرولیم لمیٹڈ23سو 53میٹرک ٹن گیسولین درآمد کی جس کی رقم 24کروڑ سے زائد بنتی تھی، چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عابد نے اعتراف کیا کہ یہ غیرقانونی طور پر خریداری کی گئی جس پر ایچ ڈی آئی پی کو جرمانہ کیا گیا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جس طرح اینگرو کو چھوٹ دی گئی ہے اس طرح دوسری کمپنیوں کو بھی چھوٹ دی جائے،5کروڑ کا جرمانہ کرنا چاہیے تھا۔