بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عام شہری شمسی توانائی کا منصوبہ لگانے کا اہل بن گیا

عام شہری شمسی توانائی کا منصوبہ لگانے کا اہل بن گیا


اسلام آباد۔شمسی توانائی سے پیدا ہونیوالی بجلی کی فروخت بارے نیٹ میٹرنگ سرٹفیکیشن ریگولیشن کی منظوری دیدی گئی۔ منظوری کے بعد ہر آدمی شمسی توانائی کا منصوبہ لگانے کا اہل ہو گا اور وافر بجلی دیگر افراد اور اداروں کو فروخت کر سکے گا۔ منصوبے کے تحت بلوچستان میں 30ہزار سے زائد ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کئے جائیں گے جس سے حکومت سالانہ 21ارب روپے کی سبسڈی بچت ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری اور متبادل توانائی ترقیاتی کے درمیان ایک اعلٰی سطح کی میٹنگ ہوئی جس میں عام صارفین کو نیٹ میٹرنگ سرٹفیکیشن ریگولیشن کے تحت شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر کے اس کو مارکیٹ میں بیچنے کی اجازت وہ گی۔

ملک بھر میں گھریلو سطح پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 5ہزار سے7ہزار میگا واٹ ہے۔ جس سے نا صرف ملکی گرڈ سٹیشن پر دباؤ کم ہو گا بلکہ پبلک سیکٹر میں بھی وافر مقدار میں بجلی موجود ہو گی۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس پر عملدرآمد ہو گیا تو ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو گا اور عوام کو مزید سستی بجلی کی فرہامی یقینی ہو گی۔ اس موقع پر اویس لغاری نے کہا کہ 250 کے وی تک شمسی توانائیس ے بجلی کے لئے صارفین متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی کی فراخت کر سکیں گے ہم صارفین کے دروازوں پر ایک منافع بخش بجلی پیدا کرنے کا کاروبار لے آئے ہیں۔

اس حوالے سے عوامی توجہ کے لئے آگاہی مہم بھی چلائی جائیگی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس منافع بخش کاروبار کا حصہ بن سکیں ۔ اجلاس میں 2ممبر پر مشتمل ایک کمپنی بھی بنائی گئی ہے جو بلوچستان میں شمسی ٹیوب ویل کی تنصیب کے حوالہس ے پی سی ون کا جائزہ لے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے نیٹ میٹرنگ سسٹم کے حوالے سے گزشتہ حکومت کے منصوبے کو آگے لے جانے کا وعدہ کیا تھا لیکن سابق وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کے دور میں ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ جس پر سینٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں بھی کافی بحث رہی ۔

اویس لغاری نے وفاقی وزیر برائے توانائی کا قلمدان سنبھالتے ہی اس منصوبے پر توجہ دیتے ہوئے پالیسی بنائی ہے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت معیاری سولر پینل فراہم کرے تو نیٹ میٹرنگ ایک منافع بخش کاروبار ثابت ہو سکتا ہے جس سے غیر ملکی کمپنیاں بھی پاکستان میں انویسٹمنٹ کے لئے آئیں گے۔