بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں بحریہ ٹاؤن طرز کی سکیمیں شروع کرنیکا فیصلہ

خیبر پختونخوا میں بحریہ ٹاؤن طرز کی سکیمیں شروع کرنیکا فیصلہ


پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہاؤسنگ، بلدیات و دیہی ترقی اور مواصلات و تعمیرات کے حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ رہائشی منصوبوں میں صرف سڑکیں اور بجلی و گیس کی لائنیں پہنچاکر انہیں عوام کے حوالے کرنے کی بجائے ان میں سکول و ہسپتال اور مساجد و مارکیٹ کی دستیابی بھی سب سے پہلے یقینی بنائیں تاکہ ان میں کشش پیدا ہو اور لوگ بعدازاں رہائشی مسائل کا شکار بھی نہ ہونے پائیں اسے باقاعدہ قانونی اور پالیسی کی شکل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت ماضی کے حکمرانوں کی طرح عوام کو زبانی جمع خرچ پر ٹرخانے اور بلندو بانگ دعوؤں کے ساتھ ناقص ترقیاتی منصوبے شروع کرنے اور انہیں ادھورے چھوڑنے کی بجائے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف اور سہولیات پہنچانے پر یقین رکھتی ہے جن میں رہائشی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمارے دور میں شروع کردہ ہاؤسنگ سکیمیں نہ صرف مکمل ہونگی بلکہ یہ تمام بنیادی شہری سہولیات پر مبنی عالمی معیار اور جدت کا شاہکار ہونگی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں بری کوٹ سوات میں ابوحہ ہاؤسنگ سکیم کے اجراء میں حائل دشواریوں کے حل سے متعلق اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، سوات کے ایم پی اے عزیزاللہ گران، سیکرٹری ہاؤسنگ سید وقارالحسن، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوظفر اقبال، کمشنر ملاکنڈ ظہیرالاسلام، ڈی جی ہاؤسنگ سیف الرحمان عثمانی ، بینک آف خیبر اور محکمہ ہاؤسنگ کے دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ رہائشی سکیم سات سال قبل اس وقت کی حکومت نے تین ہزار کنال رقبے پر شروع کی ۔

مگر اس میں غیر متعلقہ اور متنازعہ اراضی شامل کرنے کے علاوہ انتہائی زیادہ ترقیاتی تخمینہ جات لگائے گئے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس وقت 80 لاکھ روپے فی کنال مقرر کیا گیا جس کا وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تحت حالیہ سروے کیا گیا تو ترقیاتی اخراجات سمیت 20 لاکھ روپے سے بھی کم تخمینہ پڑتا ہے اور اس کے سبب رہائشی سکیم میں عوام کی دلچسپی کم ہونے کے علاوہ یہ مسائل اور تنازعات کا شکار بھی ہوئی اجلاس میں سکیم کی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ نجی شعبے کے ماہر کنسلٹنٹ کے ذریعے اراضی کے ترقیاتی تخمینہ جات کے علاوہ 1500 تا 2000 کنال کے رقبے پر محیط ابوحہ ہاؤسنگ سکیم کا حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ازسرنو سروے مکمل کیا جائے وزیراعلیٰ نے یہ سروے ہنگامی بنیادوں پر ایک مہینے کی قلیل ترین مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔