بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلام آباد دھرنا: وفاقی وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد دھرنا: وفاقی وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری


اسلام آباد عدالت نے فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کا جاری دھرنا ختم کرنے کے عدالتی احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران وزیر داخلہ نے عدالت سے اس دھرنے کو ختم کرانے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت طلب کیا تھا۔ تاہم مقررہ وقت کے گزر جانے کے باوجود وفاقی وزیر دھرنا ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

علاوہ ازیں عدالت نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سینٹر کمانڈر کو آئندہ کی سماعت پر طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے ایجنسی ملوث ہے’۔

عدالت نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ راجہ ظفر الحق کی رپورٹ جو پہلے 29 نومبر کو طلب کی گئی تھی، کو 27 نومبر کو پیش کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس رپورٹ کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل عوام کے سامنے نہیں لایا جائے اور جن افراد کو اس رپورٹ میں نامزد کیا گیا ہے انہیں بیرون ملک سفر کرنے سے بھی روکا جائے۔بعد ازاں عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت 27 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 20 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے احسن اقبال سے کہا تھا کہ کورٹ کا احترام نہیں ہورہا، آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی، ان تنظیموں کو سیاسی جماعتوں کے طور پر ڈیل کیا جائے۔

عدالت میں سماعت کے دوران پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سازشی عناصر پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن اور لال مسجد جیسا واقعہ کروانا چاہتے ہیں تاہم پاکستان بھر کے علماء اور مشائخ کو طلب کیا گیا ہے تاکہ معاملے کا پُرامن حل نکلا جا سکے۔

تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے عدالت سے 48 گھنٹے کی مہلت مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ راستہ کلئیر کرالیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے کے لیے انتظامیہ کو 23 نومبر تک کا وقت دے دیا تھا۔