بریکنگ نیوز
Home / کالم / سید مظہرعلی شاہ

سید مظہرعلی شاہ


قومی اسمبلی میں نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے کا بل کثر رائے سے مسترد ہونا اس ملک کے کئی لوگوں کو برا لگا ان کے نزدیک اس بل سے اخلاقیات کی نفی ہوئی اور نوجوانوں کو کرپشن کرنے کا پیغام گیا ہے یہ موقف کافی وزنی ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کو فیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ان کے نام ووٹرز کو ذہن نشین کرلینے چاہئیں تاکہ اگلے الیکشن میں وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ان کو قرار واقعی سزا دے سکیں ملک کا سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے نت نئے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کیا مولانا فضل الرحمان صاحب(ن) لیگ کے قائد کا سیاسی ساتھ چھوڑنے جارہے ہیں؟نظریہ نوازشریف کس چڑیا کا نام ہے؟ کیا یہ قائداعظم کے نظریے سے کوئی مختلف نظریہ ہے ؟کیا جے یو آئی (س) گروپ ایم ایم اے کا ساتھ دینے والی ہے یا پھر پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی انتخابی اتحادی بنارہی ہے؟ کیا اس ملک کو سر کے بال سے لیکر پاؤں کے انگوٹھے تک قرضوں کے بوجھ تلے لانے والے حکمران کبھی سزاوار ہوسکیں گے ۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ قرضے دینے والے مالیاتی ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس ملک میں قرضے واپس کرنے کی سکت ہے اور کس میں نہیں اور جن ممالک کی معیشت اچھی ہوتی ہے انہیں اے پلس یا اے کیٹگری میں رکھا جاتا ہے اور انہیں کم شرح سود پر قرضے دیئے جاتے ہیں اور ہمارے جیسے ملک کے جن کے بارے میں مشہور ہوتا ہے کہ ان میں وقت پر قرضے دینے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے انہیں ڈی کلاس میں رکھا جاتا ہے اور انہیں قرضے بھی زیادہ شرح سود پر ملتے ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ ڈالر110 روپے کا ہوچکا اور روپے کی قدر وقیمت میں کمی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ برآمدات کے عوض ہمیں کم ڈالر ملتے ہیں؟

یہ جو اسحاق ڈار صاحب کی غلط معاشی پالیسیوں سے ہم قرضوں کے بوجھ تلے ڈوب چکے ہیں انہیں اتارنے میں تو نہ جانے ہماری کئی نسلیں گذر جائیں؟ عمران خان سے بھلے کوئی لاکھ سیاسی اختلاف کرے ان کی اس بات میں اچھا خاصا وزن ہے کہ 200ارب روپے کی جو بندر بانٹ پارلیمانی ارکان میں حال ہی میں جو کی گئی ہے وہ آئندہ الیکشن کے لئے ابھی سے ہی پری پول دھاندلی کے مترادف ہے اور سپریم کورٹ اس کا ازخود نوٹس لے چیئرمین سینٹ رضا ربانی صاحب قابل احترام شخص ہیں اور ان کا وجود پی پی پی کے لئے ایک سرمایے سے کم نہیں ان کا اسلام آباد کے حالیہ دھرنے پر حکومتی پالیسی پر افسوس کرنا اپنی جگہ پر ان کو تسلیم کرنا پڑیگا کہ ان کی اپنی پارٹی کابھی ٹریک ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں اس میں اور ن لیگ میں بس انیس بیس کا ہی فرق ہوگا ۔

دونوں نے ملکی معیشت کا ستیاناس کیا اور دونوں کے ہاتھوں ملک میں امن عامہ کا جنازہ نکلا ہے دونوں پارٹیاں ہمیشہ سیاسی مصلحتوں کا شکار رہیں اور ان کا ہر قدم عوام دوست ہونے کے بجائے خواص دوست رہا اس ملک میں عجیب عجیب کام ہورہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت والے علم اور علم والے دولت سے محروم رہتے ہیں اس بات میں بھی رتی بھر شک نہیں کہ اگر کوئی قوم سہل انگاری وتغافل شعاری کی وجہ سے حیات کھوبیٹھے تو قدرت اسے تباہ وبرباد کرکے کسی اور قوم کو وارث زمین بنا دیتی ہے کیا یہ حقیقت نہیں کہ پہلے کئی برس تک ہم امریکہ کے آگے سرنگوں رہے اور آج کسی دوسری سپر پاور کے دست نگر ہیں۔