بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی اختلافات اور قانون سازی

سیاسی اختلافات اور قانون سازی


پاکستان کے قانون ساز ادارے سیاسی جماعتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے جیسے ہدف کے گرد گھوم رہے ہیں! رواں ہفتے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بھاری اکثریت کے ساتھ نااہل قرار پانے والے شخص کو پارٹی صدارت کے لئے بھی نااہل قرار دینے سے متعلق حزب اختلاف (اپوزیشن) جماعتوں کا پیش کردہ بل سخت نعرہ بازی‘ جملہ بازی اور ہنگامہ خیز ماحول میں مسترد کیا گیا۔ یہ تماشا پوری دنیا نے دیکھا اور شاید مہذب معاشروں میں پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو کہ کس طرح سیاسی جماعتیں ملک کی بجائے شخصیت کے مفادات کو بذریعہ قانون تحفظ دینے یا نہ دینے پر تقسیم ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قومی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے منتخب ارکان کو پارلیمنٹ ہی سے رجوع کرنا چاہئے‘ جس میں عوام اپنی نمائندگی کے لئے انہیں منتخب کرکے بھجواتے ہیں۔ پارلیمانی جمہوری نظام میں پارلیمنٹ ہی کو فوقیت حاصل ہوتی ہے اور پارلیمنٹ کی مضبوطی پر ہی جمہوریت کی مضبوطی کا دارومدار ہے۔ ملک و قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا پارلیمنٹ ہی مجاز فورم ہے جہاں عوامی اکثریت کی بنیاد پر کسی پارٹی یا اتحاد کو حکومت سازی کا حق ملتا ہے اور جہاں عدلیہ‘ مقننہ اور انتظامیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کے دائرہ کار اور اختیارات کا تعین ہوتا ہے۔

یہی فورم قانون سازی اور آئین کی کسی شق کی ترمیم و تنسیخ کا مجاز ہے۔ اس ناطے سے سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے قوم کے تمام منتخب نمائندوں کو اپنے مینڈیٹ کی روشنی میں پارلیمنٹ کو ملک کی تعمیر وترقی‘ سسٹم کے استحکام و اصلاح اور ریاستی اداروں میں نظم و ضبط کے لئے قانون سازی کے معاملہ میں بروئے کار لانا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی توجہ قوم کے نمائندہ منتخب ادارے پر ہی فوکس ہو اور وہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے ہر اجلاس میں اپنی موجودگی یقینی بنا کر اس منتخب جمہوری ادارے کی افادیت اجاگر اور ثابت کریں۔موجودہ پارلیمنٹ کے ساڑھے چار سال کا جائزہ لیا جائے تو اِن منتخب فورموں سے ارکان پارلیمنٹ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہی ہے‘ جو ملک اور عوام کے مفاد کے کسی بھی مسودۂ قانون کی منظوری میں تو قطعاً دلچسپی نہیں لیتے رہے‘ نہ ہی سسٹم کی اصلاح کے لئے پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث یا قانون سازی میں انہیں دلچسپی رہی ہے البتہ ارکان پارلیمنٹ کے اپنے حقوق و مراعات کا معاملہ ہو تو سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ارکان یکسو ہو کر نہ صرف متعلقہ اجلاس میں شریک ہوتے رہے بلکہ بلند آہنگ کے ساتھ متفقہ طور پر اپنے حق میں قوانین کی منظوری بھی دیتے رہے۔ ہاؤس کو چلانے اور حکومت کو من مانیوں سے روکنے کے لئے اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں زیادہ کردار ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کی عزت‘ ساکھ اور جمہوری اقدار کی پاسداری سمیت تمام قدریں ملیامیٹ کردیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی پارلیمنٹ میں اپنی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ وہ ساڑھے چار سال کے عرصہ میں بمشکل چھ بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے ہیں اور وہ بھی جب انہوں نے اپنے کسی معاملہ کی وضاحت کرنا ہوتی تھی چنانچہ ہاؤس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے ساتھ ہی وہ ایوان سے باہر نکل جاتے رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا رہا ہے جنہوں نے بطور قائد ایوان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں یا قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے کی کم ہی زحمت گوارا کی۔ پارلیمنٹ کے معاملہ میں ایم کیو ایم بھی اسی ڈگر پر چلی۔

آئین کے تقاضے کے تحت پارلیمنٹ کے کسی رکن کا اس کے دستخطوں کے ساتھ استعفیٰ پیش ہوتے ہی منظور ہو جاتا ہے اور اس کی نشست خالی ہوجاتی ہے مگر موجودہ پارلیمنٹ میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ نے یہ کرشمے بھی دکھائے کہ اپنی رکنیت سے استعفے دینے کے بعد پارلیمنٹ کے لئے اجنبی قرار پانیوالے ارکان کو بھی قومی اسمبلی اور سینٹ میں بٹھائے رکھا اور انہیں رکن پارلیمنٹ والی مراعات بھی دی جاتی رہیں موجودہ پارلیمنٹ کے حوالے سے پارلیمانی تاریخ کے یہ المیے یقیناًریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں‘ آج حکمران نواز لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے تقدس کا کچھ زیادہ ہی احساس ہونے لگا ہے چنانچہ میاں نوازشریف پانامہ کیس کے فیصلہ کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پانے کے بعد جب الیکشن آرڈر کی ’’شق دوسوتین‘‘ کے تحت پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار پائے تو انہوں نے اپنے دفاع کے لئے پارلیمنٹ کے فورم کو اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لئے حکومت انتخابی اصلاحات بل کی ’’شق دوسوتین‘‘ میں ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں لے آئی جس کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پانے والے کسی شخص کے پارٹی سربراہ بننے کی گنجائش نکالی گئی۔ اس کی بنیاد پر ہی میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے قانون کی عدالت کے مقابل عوام کی عدالت کی فوقیت جتائی جانے لگی چنانچہ جس پارلیمنٹ میں عوام کے مفاد کے لئے قانون سازی کرنے میں حکومتی بنچوں کو بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اسے عدلیہ کی جانب سے اپنی نااہلیت کے خلاف اپنی ڈھال بنالیا گیا ۔ سینٹ سے منظور کردہ یہ بل قومی اسمبلی سے منظوری کی بنیاد پر ہی قانون کے قالب میں ڈھل سکتا تھا۔ جمہوریت کو جمہوری روئیوں اور جمہوری اقدار کی پاسداری سے ہی مستحکم بنایا جا سکتا ہے اگر پارلیمنٹ کی شکل میں موجود منتخب جمہوری اداروں کو صرف اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جائے گا اور ملک و قوم سے متعلق کسی معاملہ میں دلچسپی نہیں لی جائے گی جیسا کہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اہم ترین بل ارکان کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کے باعث سینٹ میں مسلسل التواء کا شکار ہے تو اس رویئے کے ساتھ جمہوریت کے استحکام کو کبھی یقینی نہیں بنایا جا سکے گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر منظور وسیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)