بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / صنفی تشدد کے خلاف فعالیت کے16 دن

صنفی تشدد کے خلاف فعالیت کے16 دن


25نومبر خواتین کے خلاف تشدد کے انسدا د کا عالمی دن جبکہ 10دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن ہے، ان دونوں ایام سمیت انکی درمیانی مدت مجموعی طور پر16یوم بنتی ہے، ان 16دونوں کو دنیا بھر میں’’ صنفی تشدد کے خلاف فعالیت ‘‘کے ایام کے طور پر منایا جاتاہے۔ان ایام کو خصوصیت سے منانے کا مقصد یہ ہے خواتین پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد ،انھیں صنفی امتیاز کے حوالے سے درپیش مسائل و مشکلات اور اس موضوع کی مناسبت سے تمام متعلقہ معاملات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے،مسائل و مشکلات کے خاتمے کیلئے خواتین انجمنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جاری تحریکوں کے نتائج پر نظرڈالی جائے اور خواتین پر تشدد کی روک تھام اوران کے ساتھ مختلف سطحوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔پاکستان میں ویسے توخواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے تسلسل کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ صنفی تشدد کی روک تھام اور خواتین کے شرعی و آئینی حقوق کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ان اداروں کی تمام تر کاوشوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ آئین پاکستان کی متعدد دفعات اور ذیلی دفعات محض جنس کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے روکتی ہیں اور معاشرے کے افراد کی حیثیت سے خواتین کو بھی انھی حقوق کا حقدار ٹھہرتی ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ان حقوق میں ہر قسم کے تشدد سے تحفظ کا حق بھی شامل ہے۔

اس کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کو69سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہاں کی خواتین صنفی امتیاز کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے ظلم وتشدد کے چنگل سے نہیں نکل سکیں۔خواتین کے حقوق کی پاسداری کی بنیاد پر ہونیوالی عالمی درجہ بندی میں 145ممالک میں سے پاکستان کا143ویں نمبر پر ہونا مایوس کن تصویر پیش کر رہا ہے ۔خواتین کو رشتے سے انکارکی بنیاد پرتیزاب سے جھلسا دئیے جانے سے لیکر قتل کئے جانے تک اور مختلف اقسام کے گھریلو تشدد کا نشانہ بنائے جانے سے لیکرمعاشرتی رسموں مثلاََ سورہ اور ونی وغیرہ کی بھینٹ چڑھائے جانے تک واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بتا رہا ہے کہ اصلاح احوال کی منزل دور اور اس تک پہنچنے کا سفر دشوارگزار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2016ء کے دوران پاکستان میں خواتین پر تشدد کے 4000 سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے جبکہ2016ء ہی میں صرف خیبر پختونخوا میں 724خواتین کو مختلف جواز بنا کر قتل کیا گیا۔ اگست 2017ء تک صوبے میں94 خواتین کے قتل سمیت صنفی تشدد کے180واقعات رونما ہوچکے تھے۔ پولیس میں رپورٹ نہ ہونے والے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔

خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد کے انسداد کیلئے موثر قانون سازی کی کمی بری طرح محسوس کی جارہی ہے جبکہ بہ حیثیت مجموعی ملک میں صنفی تشدد کی روک تھام کیلئے تشکیل دیے جانے والے قوانین پر صحیح معنوں میں عمل درآمدکی صورتحال بھی مخدوش ہے۔خواتین پر تشدد کے واقعات کی درست پولیس رپورٹنگ نہ ہونا، صنفی تشدد سے متعلق مقدمات کے التواء کی عمومی صورتحال، خواتین ججوں کی تعداد میں کمی، پولیس کی جانب سے مقدمات کی تفتیش مکمل کرنے اور عدالتوں میں چالان جمع کرانے کے عمل میں سست روی اور تفتیشی عمل میں رہ جانیوالی کمزوریاں‘ مدعاعلیہان کے وکلاء کی جانب سے مقدمات کی تیز اور بروقت سماعت روکنے کیلئے پیدا کی جانے والی رکاوٹیں،انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے نتیجے میں مدعی خواتین کا مختلف قسم کے دباؤ کے تحت مقدمات کی پیروی سے خود پیچھے ہٹ جانا اور ملزمان کا کڑی سزاؤں سے بچ جانا وہ عوامل ہیں جو مسئلے کو قابو میں آنے نہیں دے رہے۔ان معاملات کی اصلاح اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین کوانسداد تشدد سے متعلق قوانین سے آگاہی دینے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنا،ا س مقصدکی تکمیل کے لئے چاروں صوبوں میں ضلعی سطح پر انسداد تشدد مراکز کا قیام( جو کہ قانونی تقاضا بھی ہے) فوری طور پر عمل میں لانا،متعلقہ قوانین کو خواتین کے حق میں زیادہ سے زیادہ موثر اور بہتر بنانے کے عمل کو آگے بڑھانا اور تحفظ حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والے اداروں کی تجاویز( جو تسلسل کے ساتھ ریاستی ایوانوں کو بھیجی جا رہی ہیں)پے عمل درآمد کیلئے حکومتی سطح پر طریقہ کار تشکیل دیا جانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔